Hum Tum Board

Shayari & Urdu Adab => Great Poets => Amjad Islam Amjad => Topic started by: Leon on October 31, 2009, 04:28 PM

Title: ایک کمرہٴ امتحان میں
Post by: Leon on October 31, 2009, 04:28 PM
بے نگاہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں پرچے کو
بےخیال ہاتھوں سے
ان بنے سے لفظوں پر، انگلیاں گھماتے ہیں
یا سوال نامے کو دیکھتے ہی جاتے ھیں

ھر طرف کن انکھیوں سے بچ بچا کے تکتے ہیں
دوسروں کے پرچوں کو رہنما سمجھتے ہیں
شاید اسطرح کوئی راستہ ہی مل جاٴے
بے نشاں جوابوں کا،کچھ پتا ہی مل جاٴے
مجھ کو دیکھتے ھیں تو
یوں جواب کاپی پر ،حاشیے لگاتے ھیں

دائرے بناتے ھیں
جیسے انکو پرچے کے سب جواب آتے ھیں

اس طرح کے منظر میں
امتحان گاہوں میں دیکھتا ھی رہتا تھا
نقل کرنے والوں کے
نت نئے طریقوں سے
آپ لطف لیتا تھا، دوستوں سے کہتا تھا!
کس طرف سے جانے یہ
آج دل کے آنگن میں اک خیال آیا ہے
سینکڑوں سوالوں سا اک سوال لایا ہے

وقت کی عدالت میں
زندگی کی صورت میں
یہ جو تیرے ہاتھوں میں، اک سوال نامہ ہے
کس نے یہ بنایا ہے
کس لئے بنایا ہے
کچھ سمجھ میں آیا ہے؟
زندگی کے پرچے کے
سب سوال لازم ھیں سب سوال مشکل ھیں!

بے نگاہ آنکھوں سے دیکھتا ہوں پرچے کو
بے خیال ہاتھوں سے
ان بنے سے لفظوں پر انگلیاں گھماتا ہوں
حاشیے لگاتا ہوں
دائرے بناتا ہوں
یا سوال نامے کو
دیکھتا ہی جاتا ہوں
Title: Re: ایک کمرہٴ امتحان میں
Post by: impressible4u on November 22, 2009, 12:50 PM
very nice sharing
Title: Re: ایک کمرہٴ امتحان میں
Post by: Samera on November 27, 2009, 09:17 PM
nice sharing thanks for sharing
Title: Re: ایک کمرہٴ امتحان میں
Post by: Allahwala on December 05, 2009, 12:52 PM
Very nice shiring  thumbsss
Title: Re: ایک کمرہٴ امتحان میں
Post by: King on January 01, 2010, 06:36 AM
VERY NICE SHARING  zbardst  smlsml