Hum Tum Board

Shayari & Urdu Adab => Shair o Shairi => Topic started by: Super boy on December 05, 2009, 01:17 AM

Title: اُجڑے ہُوے لوگوں سے گریزاں نہ ہُوا کر
Post by: Super boy on December 05, 2009, 01:17 AM
اُجڑے ہُوے لوگوں سے گریزاں نہ ہُوا کر
حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر

ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کردے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر

اے دل تجھے دشمن کی بھی پہچان کہاں ہے
تو حلقہء یاراں میں بھی محتاط رہا کر

کیا جانئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہے
خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر

اس شخص کے تم سے بھی مراسم ہیں تو ہونگے
وہ جھوٹ نہ بولے گا مرے سامنے آکر

پہلا سا کہاں اب مری رفتار کا عالم
اے گردش دوراں ذرا تھم تھم کے چلا کر

اک روح کی فریاد نے چونکا دیا مجھکو
تو اب تو مجھے جسم کے زنداں سے رہا کر

اب ٹھوکریں کھائے گا کہاں اے غم احباب
میں نے تو کہا تھا کہ مرے دل میں رہا کر

اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسن
دیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بُجھا کر
Title: Re: اُجڑے ہُوے لوگوں سے گریزاں نہ ہُوا کر
Post by: Samera on December 05, 2009, 09:09 PM
nice sharing good
Title: Re: اُجڑے ہُوے لوگوں سے گریزاں نہ ہُوا کر
Post by: impressible4u on December 08, 2009, 01:22 PM
very nice sharing  sml  wellcone
Title: Re: اُجڑے ہُوے لوگوں سے گریزاں نہ ہُوا کر
Post by: anjumkhan on January 20, 2010, 08:46 PM
very nice sharing