Hum Tum Board

Shayari & Urdu Adab => Shair o Shairi => Topic started by: Samera on December 20, 2009, 12:51 PM

Title: جب سے مجھ سے بچھڑی ہو
Post by: Samera on December 20, 2009, 12:51 PM
جب سے مجھ سے بچھڑی ہو
بہت بے چین رہتی ہو
مری باتیں ستاتی ہیں
مرے لفظوں کے جگنو!
ایک پل اوجھل نہیں ہوتے
مری نظمیں رُلاتی ہیں
مری آنکھیں جگاتی ہیں
مجھے تم کیا بتاؤ گی
کہ تم نے بارہا اُن اجنبی چہروں کے جنگل میں
مرے چہرے کو ڈھونڈا ہے
کسی مانوس لہجے پر
کسی مانوس آہٹ پر
پلٹ کر ایسے دیکھا ہے
کہ جیسے تم مری موجودگی محسوس کرتی ہو!
مجھے تم کیا بتاؤ گی!
کہ کتنی شبنمی شامیں
ٹہلتے‘ سوچتے گذریں
کہ کتنی چاندنی راتیں
دعائیں مانگتے گذریں
کہ کتنے اشک ایسے تھے
جو گرتے ہی رہے دل میں
مجھے تم کیا بتاؤ گی
مری جاں! میں سمجھتا ہوں
تمہاری اَن کہی باتیں
کہ میں اِن موسموں کے ایک اک رستے سے گذرا ہوں
میں اب بھی لفظ چنتا ہوں
میں اب بھی اشک بُنتا ہوں
کہ جب سے تم سے بچھڑا ہوں
تمہاری ذات پر گذرے
میں ہر موسم میں رہتا ہوں
تو پھر تم کیا سناؤ گی
__________________
Title: Re: جب سے مجھ سے بچھڑی ہو
Post by: ahmed on December 22, 2009, 06:58 PM
zbardst sharing very nice
Title: Re: جب سے مجھ سے بچھڑی ہو
Post by: anjumkhan on January 20, 2010, 08:50 PM
very nice sharing