Recent Posts

Pages: 1 ... 9 [10]
91
Al Quran Ul Kareem / Re: Khushki k baad sar'sabz
« Last post by ambreen on March 25, 2013, 05:39 AM »
 JazaKallah
92
Al Quran Ul Kareem / Re: quran Navigator with 36 languages
« Last post by ambreen on March 25, 2013, 05:38 AM »
 JazaKallah
93
Al Quran Ul Kareem / Re: Aalam-e-Burzakh
« Last post by ambreen on March 25, 2013, 05:38 AM »
 JazaKallah
94
Al Quran Ul Kareem / Re: Sorah Al-Hujrat: Arabi, Tarjuma & Tafseer
« Last post by ambreen on March 25, 2013, 05:38 AM »
 JazaKallah
95
Al Quran Ul Kareem / Re: Surat hujrat and Surat Tooba
« Last post by ambreen on March 25, 2013, 05:38 AM »
 JazaKallah
96

شوہر

اسد مرد ایک مستحکم رائے کا حامل ہوتا ہے۔ اس کی محبت بہت گہری اور غالبانہ ہوتی ہے لیکن وہ سمجھتا ہے کہ اس کا ہر فرمان ایک قانون ہے۔ وہ ایک ایسی بیوی کو ہرگز پسند نہیں کرے گا جو اس کی وفادار اور اطاعت گزار نہ ہو۔ بیوی کے انتخاب میں اسد مرد اپنے اعلیٰ معیار کا پورا خیال رکھتے ہیں۔
ایک اوسط درجے کا اسد مرد بہت اچھا شوہر ہوتا ہے۔ اس کی سخاوت اور اس کا بارعب اور پُروقارانداز، عاشقانہ طور طریقے اور جذباتی وفاداری زندگی کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ مثبت خصوصیات کا حامل اسد مرد حکم چلانے، تنقید کرنے اور لعن طعن کرنے والی بیوی سے ناخوش رہتا ہے جب کہ وہ اپنی بیوی کو قابل فخر انداز میں دوسروں کے سامنے لانا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کی بیوی خاندان اور سماجی حلقوں میں نمایاں نظر آئے اور اس کے پاس دنیا کی بہترین اشیا موجود ہیں۔ اپنی ذات کے لیے وہ ہر اسٹیج پر مرکزی حیثیت چاہتا ہے تاکہ گھریلو اور خاندانی زندگی اس کی ذات کے گرد گھومتی رہے۔ وہ کسی مرحلے پر بھی اپنی بے عزتی یا حکم عدولیت برداشت نہیں کر سکتا۔

اسد بیوی

برج اسد اور حسن لازم و ملزوم ہیں، لہٰذا ایک اسد عورت نہایت شان دار بیوی ہوتی ہے۔ اس کا زاویہ نگاہ شاہانہ ہوتا ہے۔ سماجی حسن و وقار اس کا طرئہ امتیاز ہے۔ وہ اعلیٰ درجے کی منتظم ہوتی ہے اور ایک بڑے خاندان کا نظم و ضبط سنبھال سکتی ہے۔ سماجی تقریبات یا خاندانی محفلوں میں اوّل مقام حاصل کر لیتی ہے۔ محبت کے معاملات میں وہ جذباتی اور رقیبانہ مزاج رکھتی ہے۔ پائیدار محبت اور ایثار و قربانی اس کا شیوہ ہے۔ وہ عطا کرنے والی، محسوس کرنے والی اور خیر و برکت والی ہوتی ہے۔ اس کے خاندان والے اس کے پیار و محبت اور الطاف و عنایات کے لیے اس کے احسان نہیں چکا سکتے۔ شوہر سے وفاداری اور اس کی دیکھ بھال کے حوالے سے اس کا رویہ قابل ستائش ہوتا ہے۔ عموماً اسد بیوی اپنے شوہر پر حکومت کرتی ہے۔ اگر شوہر ضرورت سے زیادہ حکم چلانے والا اور بدمزاج نہ ہو، خصوصاً اس کی عزت نفس کو ٹھیس نہ پہنچائے تو وہ اس کی خوشیوں کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہے۔ اسے ایک سرگرم زندگی کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ کوئی کام سست رفتاری سے نہیں کرتی۔ اپنے جذبہ رقابت کے تحت بعض اوقات وہ اپنے شک کا کھلا اظہار کر کے شوہر کو پریشان کر سکتی ہے۔ اگر اسد عورت کو خوش قسمتی سے ایک اچھا مرد مل جائے تو اس کی جملہ خوبیاں اجاگر ہو جاتی ہیں۔ پھر وہ دل وجان سے اپنے شوہر کی خدمت کرتی ہے۔

سد باپ

آپ کے لیے باپ بننا بے حد مسرت کا باعث ہے۔ آپ خاصی حد تک اپنے بچوں سے اور ان کی سرگرمیوں سے خود کو ہم آہنگ رکھتے ہیں۔ ان کے لیے آپ کے جذبہ محبت میں بڑی گرم جوشی ہے اور آپ کو ان کی رفاقت بہت اچھی لگتی ہے۔ آپ انہیں اپنے ہم راہ سیر و تفریح کرانے، نیز ثقافتی شوز اور کھیل سے متعلق سرگرمیاں دکھانے لے جاتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ انہیں بار بار کسی چیز کی تاکید کرنے، حد سے زیادہ روک ٹوک کرنے یا ان پر برہم ہونے سے گریز کریں۔ نیز ان سے کوئی ایسی توقع نہ رکھیں جسے پورا کرنا ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ ان کی حوصلہ افزائی کرنے میں کشادہ دلی کا مظاہرہ کریں۔

اسد دوست

بحیثیت دوست آپ صحیح معنوں میں نہایت ہی عمدہ اور مہربان، فیاض و باوقار ہیں۔ آپ کےخلوص اور آپ کی گرم جوشی سے کبھی کسی دوست کو مایوسی نہیں ہوتی۔ آپ اپنے دوستوں کے لیے ایک مثال، ایک نمونہ ہیں۔ احباب آپ کی دوستی پر فخر کرتے ہیں۔
برج اسد کی محبت کے رنگ ڈھنگ
جہاں تک محبت کا تعلق ہے، آپ بے حد رومان پسند ہیں اور خودنما واقع ہوئے ہیں۔ محبوب کو لبھانے اور رجھانے کے لیے آپ سے زیادہ کوئی نہیں بنتا سنورتا ہوگا اور کوئی عشق کے رموز سے نہ تو اتنا واقف ہوگا اور نہ ہی اس کی اتنی پروا کرتا ہوگا جتنی کہ آپ کرتے ہیں، لہٰذا اب کون سی کسر رہ گئی ہے جو کسی بے کیف سے بے کیف رومانس کو بھی قابل ذکر نہ بنا دے۔ آپ اپنے دوست یا محبوب کی خاطر کچھ بھی کر سکتے ہیں، اپنی زندگی اپنی محبوب ترین ہستی کے لیے وقف کر سکتے ہیں۔
ایک اسد شخصیت کی حیثیت سے آپ ہر کام اسٹائل سے کرنا پسند کرتے ہیں، جو صنف مخالف کو عام طور سے بہت متاثر کرتے ہیں، لہٰذا آپ کا برج محبت اور رومان کے لیے بہترین اور موزوں ترین ہے۔ آپ کے سارے معاشقے اعلیٰ پائے کے ڈرامے ہیں جن میں آپ اپنا کردار مکمل خوبی سے نبھانا جانتے ہیں۔ ایک اوسط درجے کے اسد میں صنف مخالف کے لیے زیادہ کشش ہے اور وہ ہر پہلو سےایک نظریاتی اور مثالی عاشق ہے، یعنی جذباتی، جسمانی، غرض ہر اعتبار سے آپ کی فیاضی اور کشش صنف مخالف کو پاگل کر سکتی ہے۔ بہرحال آپ ایک اچھے عاشق اور شریک حیات ثابت ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ شریک حیات کی حیثیت سے آپ کے اندر حق ملکیت جتانے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ اسد خواتین کو اس اعتبار سے محتاط رہنا ہوگا کہ ان کا یہ رجحان شدت نہ اختیار کرے۔ اپنے جیون ساتھی سے بہت زیادہ کی توقع مت رکھیں۔
ان تمام خوبیوں کے باوجود عموماً اسد افراد شادی کے معاملے میں زیادہ خوش قسمت ثابت نہیں ہوتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ غلط لوگوں پر بھروسا کر لیتے ہیں۔ عموماً یہ لوگ محبت کے معاملات میں غیردانش مندانہ طریقے اور نہایت جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ انسانی فطرت کے ظاہری پہلوﺅں پر ضرورت سے زیادہ بھروسا کر لیتے ہیں۔
اسد افراد محبت کی زندگی میں بالعموم بڑے سرگرم عمل ہوتے ہیں اور اپنی محبت کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں لیکن زیادہ سنجیدہ لوگوں سے اپنے تعلقات برائے نام رکھتے ہیں۔ انہیں زیادہ ذہین اور غیرروایتی لوگ بھی پسندنہیں ہوتے۔ ایک ساتھی کی حیثیت سے اسد مرد یا عورت سیاسی یا سماجی اعتبار سے زیادہ باشعور ہوتی ہے۔ اگر آپ کسی اسد مرد یا عورت سے شادی کر لیتے ہیںتو اس کی آزادی اور پیار کرنے کی عاد ت پر قابو پانا آپ کے لیے ایک چیلنج بنا رہے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ کہیں اسد ہی آپ کا آقا نہ بن جائے۔

اسد اور حمل کا ساتھ

دونوں کا عنصر آگ ہے جو ایک دوسرے کے لیے تقویت کا باعث ہوگا۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق دونوں بروج کے درمیان موافق زاویہ نظر موجود ہے۔ حمل شخصیت اپنے مثبت پہلوﺅں میں باہمت، نڈر اور بے خوف، سرگرم، باصلاحیت، بے چین اور تیز و طرار اور صاف ذہن کی مالک ہے جب کہ اس کی منفی خصوصیات میں خودغرضی، بے صبرا پن، غرور، خودبینی، ظلم و تشدد، حسد، غلبہ پسندی وغیرہ نمایاں ہیں۔
اسد اور حمل کا تعلق نہایت گرم جوش اور شان دار ہے۔ شیر(اسد) مقابلہ کرنے یا جیتنے میں بالکل وقت نہیں ضائع کرتا۔ اس کا اصل مقام بلندی پر ہے۔ مینڈھا(حمل) بھی فاتح ہے۔ جیتنا اس کا شغل ہے۔ اس کی اولوالعزمی اسے بھی بلندی کی طرف لے جاتی ہے، لہٰذا دونوں ہمیشہ بلندیوں پر ہی نظر آئیں گے اور نت نئے کارنامے انجام دینے میں مصروف ہوں گے مگر اس بات کا احتمال ہے کہ جلد ہی تھک جائیں۔ انہیں تھکن سے بچنا چاہیے۔ دونوں ہی تعریف اور ستائش کے بھوکے ہیں۔ اگر دونوں ایک دوسرے کی بڑھ چڑھ کر تعریف کریں تو یہ بندھن نہایت کامیاب ہو سکتا ہے۔

اسد اور اسد کا ساتھ

دونوں ایک ہی عنصر سے تعلق رکھتے ہیں اور یکساں خصوصیات کے حامل ہیں۔ جب دو گرم جوشاور فراخ دل پیار کرنے والے اور وفادار دل آپس میں ملتے ہیں تو ایک شان دار رشتہ قائم ہوتا ہے۔ دو شیروں کی جوڑی یقینا کوئی شان دار کارنامہ انجام دے سکتی ہے، کیوں کہ دونوں فطری طور پر بہت دلیر اور مضبوط ہیں اور ہر قیمت پر ایک دوسرے کا تحفظ کریں گے مگر اس رشتے میں کچھ خطرات بھی موجود ہیں، وہ یہ کہ دونوں ہر کامیابی کا سہرا اپنے اپنے سر باندھنے کی کوشش کریں گے بلکہ ایک دوسرے کو یہ بھی جتانے کی کوشش کریں گے کہ ان کا حصہ زیادہ ہے۔ دونوں ہی پہلی پوزیشن کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہو سکتے ہیں۔ دونوں اپنی پرستش چاہیں گے تو پھر کون کس کی پرستش کرے گا؟ دونوں کو ایک دوسرے سے اپنی تعریف کی خواہش رہے گی مگر یہ کام دونوں کے لیے بہت مشکل ہے۔ یہ وہ وجوہات ہیں جو ان دو شیروں کی جوڑی کے درمیان شروع ہونے والے کسی زبردست معرکہ آرائی کو بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی کچھ دوسرے بہت سے ڈرامے بھی ہوتے رہیں گے، کیوں کہ اسد افراد بنیادی طو رپر ایک ڈرامائی شخصیت کے حامل ہوتے ہیں مگر آخر میں ان کی گرم جوشی اور محبت کرنے والی فطرت کا بول بالا ہوگا اور دونوں شیر اپنے فیاضانہ اوصاف کے باعث ایک دوسرے کو معاف کر دیں گے اور ساری تلخی بھول جائیں گے۔

اسد اور سنبلہ کا ساتھ

اسد کا عنصر آگ اور سنبلہ کا مٹی ہے۔ دونوں عناصر کے درمیان کوئی باہمی تعلق نہیں ہے۔ علم نجوم کے قواعد کی رو سے یہ دونوں جڑواں بروج ہیں۔ دونوں کے درمیان کوئی خاص زاویہ نظر موجود نہیں ہے۔ سنبلہ شخصیت اپنے مثبت پہلوﺅں میں قاعدے قانون کی پابند، باطنی خوبیوں کی مالک، نپاتلا اور درست انداز رکھنے والی صاحب استدلال، معقولیت پسند، نرم مزاج، تجزیہ نگار اور صاحب امتیاز ہوتی ہے جب کہ اس کی منفی خصوصیات میں تنقید و نکتہ چینی، بے لچک ہونا، غیر ہم درد، جھگڑالو، کنجوس و عیب جو ہونا، حد سے زیادہ شرم وحیا شامل ہے۔
اسد اور سنبلہ کی جوڑی خاصی دشواریوں میں مبتلا ہو سکتی ہے۔ا سد کا ڈرامائی پہلو سنبلہ پر کچھ زیادہ ہی بھاری ہوگا۔ سنبلہ چاہتا ہے کہ اسے سکون سے رہنے دیا جائے۔ وہ خاموشی اور سکوت پسند کرتا ہے۔شور شرابے اور ڈرامے بازی سے اسے سخت نفرت ہے، لہٰذا اسد کی ڈرامے بازی اسے مایوس کر سکتی ہے یا وہ اس سے چڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف سنبلہ کا بے حد محتاط رویہ اور متلون مزاجی اسد کی آزاد روی کو کچل سکتی ہے۔ شاید یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے نہیں بنے، لہٰذا یہ رفاقت کسی ناخوش گوار انجام سے دوچار ہو سکتی ہے۔ شیر کو سنبلہ کی مسلسل تنقید، تجزیہ کاری، نکتہ چینی، غلط کو صحیح کرنے کی فطرتپاگل کر سکتی ہے۔ سنبلہ بھی شیر کی اس خواہش اور لگاتار مطالبے پر اس سے متنفر ہو سکتا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے۔ دونوں اگر جیو اور جینے دو کے اصول پر عمل کرتے ہوئے ایک دوسرے سے ایسے مطالبات نہ کریں جنہیں پورا کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہو سکتا تو یہ رفاقت کامیابی کے ساتھ جاری رہ سکتی ہے۔

اسد اور میزان کا ساتھ

یہ آگ اور ہوا کا ساتھ ہے۔ دونوں عناصر کے درمیان زبردست موافقت موجود ہے۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق دونوں موافقت کا زاویہ نظر رکھتے ہیں۔ میزان شخصیت اپنے مثبت پہلوﺅں میں شائستہ اور باسلیقہ، متوازن اور انصاف پسند، مصلحت اندیش، ذہین اور دل کش اور ہوشیار ہے جب کہ اس کی منفی خصوصیات میں سہل روی اور کسی حد تک سستی و کاہلی، تذبذب، خودغرضی اور بے ثباتی، علیحدہ پسندی شامل ہے۔
اسد اور میزان کا اتحاد نہایت شان دار اور مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ دونوں ناقابل تصور بلندیوں کو چھو سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے نہایت فائدہ بخش ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ تعلق بہت نشاط انگیز، ہیجان خیز اور خیال آفریں ہے۔ اسد میزان کو وہ استقامت بخش سکتا ہے جس کی اسے ضرورت ہے اور میزان اسد کے اسٹائل کے شعور کی تعریف کرتا ہے۔ا سد کو میزان کی بے تکلفانہ اور دوستانہ روش اور رویہ پسند ہے، البتہ اگر اسد بہت زیادہ حکم چلانے لگے اور بدمزاجی اور بددماغی کا مظاہرہ کرنے لگے تو میزان خاموشی کے ساتھ اس سے دور ہو جائے گا۔ا سد اور میزان دونوں ہی خوب صورت چیزوں کے شائق ہیں اور انہیں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں جذباتی اور خوش امید ہیں۔ اسد بھی اتنی ہی توجہ چاہتا ہے جتنی میزان چاہتا ہے اور اگر وہ دونوں ایک دوسرے پر توجہ دیں تو ان کا یہ سفر رفاقت کسی اونچ نیچ کے بغیر جاری رہ سکتا ہے۔ا سد کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہوگی کہ میزان کو کوئی فیصلہ کرنے میں دشواری اس وجہ سے نہیں ہوتی کہ وہ اس کی صلاحیت نہیںر کھتا بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ انصاف کے تقاضے نہایت دیانت داری سے پورے کرنا چاہتا ہے۔ میزان کو اپنی حد سے بڑھی ہوئی خوش فکری پر قابو رکھنے کی ضرورت ہوگی۔

اسد اور عقرب کا ساتھ

یہ آگ اور پانی کا ساتھ ہے۔ دونوں عناصر کا اختلاف ظاہر ہے۔ علم نجوم کے قواعد کی روسے بھی ان میں مخالفانہ زاویہ¿ نظر موجود ہے۔ عقرب شخصیت اپنے مثبت پہلوﺅں میں باحوصلہ اور باوسیلہ، خوداعتماد اور پُرکشش، حساس اور مصلحت پسند، ہوشیار اور چالاک ہیں، جب کہ اپنی منفی خصوصیات میں غلبہ اور تسلط پسند، حاسد اور عیار، بے رحم اور مغرور، خودتشدد اور طنز کرنے والی ہوتی ہیں۔
شیر(اسد) کو بچھو(عقرب) بہت گہرا اور پُراسرار محسوس ہو سکتا ہے۔ دائرئہ بروج کے یہ دونوں نشان اپنے عقائد کے معاملے میں بے حد مغلوب الغضب ہیں اور اگر دونوں کے درمیان امن و سکون کا رشتہ قائم کرنا ہو تو دونوں کو کسی سمجھوتے پر متفق ہونا پڑے گا، بصورت دیگر کسی ناخوش گوار صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پیشہ ورانہ سطح پر یہ رفاقت بہت سودمند ہو سکتی ہے لیکن قریبی اور گہرے نجی تعلقات کے لیے نہیں، کیوں کہ یہ دونوں ہی بروج حاکمیت پسند ہیں۔ شیر کھلم کھلا بڑے شاہانہ طمطراق سے حکومت کرتا ہے اور اپنے احکامات کی فوری تعمیل چاہتا ہے جب کہ عقرب اپنی فطرت کے عین مطابق حکومت کرنے کی خفیہ خواہش رکھتا ہے۔ وہ ایک ماہر منصوبہ ساز اور زبردست چالیں چلنے والا ہے، نیز گھات لگا کر اچانک حملہ کرنا پسند کرتا ہے۔ اس کا کھیل نہایت شاطرانہ ہوتا ہے، لہٰذا ان دونوں رفیقوں کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ کس کا داﺅ چل جائے۔ دونوں بروج ثابت، یعنی غیر تغیر پذیر ہوتے ہیں۔ ان کی دائمی رفاقت خاصی ضرر رساں اور نقصان دہ ثابت ہوگی۔

اسد اور قوس کا ساتھ

دونوں کا عنصر آگ ہے جو ایک دوسرے کے لیے تقویت کا باعث ہے۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق دونوں میں دوستی کا زاویہ نظر موجود ہے۔ قوس شخصیت اپنے مثبت پہلوﺅں میں بے خوف اور صاف گو، باحوصلہ، آزاد رو، متجسس اور ذہین، فراخ دل، آرزومند، فطرت کی شائق ہوتی ہے جب کہ اپنے منفی پہلوﺅں میں ضرورت سے زیادہ خوداعتماد، شیخی خور، پُرتشدد، مبالغہ آرا، بے اصول اور اکھڑ اور بے عقلی کا مظاہرہ کرنے والی ہے۔
اسد اور قوس کی رفاقت سودمند ہے۔ دونوں ہی فیاض اور بے چین فطرت کے مالک ہیں۔ دونوں سرگرم اور تھوڑے سے امارت پرست ہیں۔ قوس مہم جوئی کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے اور اسد بھی ہر بات کے لیے آمادہ نظر آتا ہے۔ چناں چہ دونوں سفر اور سیر و سیاحت سے خوب لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ قوس نہایت شگفتہ مزاج ہے اور اسد اس بات کو پسند کرتا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ دونوںایکدوسرے میں بے حد کشش محسوس کرتے ہیں اور دونوں کا ایک دوسرے سے دل نہیں بھرتا۔ دونوں ہی مشورہ قبول نہیں کرتے اور تجربات سے سیکھنا پسند کرتے ہیں۔ دونوں پیسہ کمانے کے معاملے میں تیز ہیں اور انتہائی درجے کے آزادی پسند بھی ہیں، یعنی ایک دوسرے کو تنہا چھوڑ سکتے ہیں۔ بہرحال یہ رفاقت بھرپور اور ہم آہنگ ہوتی ہے۔

اسد اور جدی کا ساتھ

اسد کا عنصر آگ اور جدی کا مٹی ہے۔ دونوں عناصر کے درمیان کوئی تعلق خاص نہیں ہے۔ یہی صورت حال علم نجوم کے قواعد کے مطابق بھی ہے۔ جدی شخصیت کے مثبت پہلو عملیت اور کارگزاری، مستقل مزاجی، ہم دردی، بلند کرداری، خاموش طبعی اور محتاط روی ہے، جب کہ منفی پہلو شک اور سردمہری، خودغرضی اور مزاحمت، ضد، خودسری، زودرنجی اور یاسیت ہے۔
اسد اور جدی کی جوڑی مثالی نہیں ہو سکتی۔ شیر کی شاہانہ انا اور بکری کی خندہ پیشانی اور زودرنجی دونوں کے درمیان ایک نمایاں تضاد ہے، البتہ مادی سطح پر ان دونوں کی یکجائی، دولت، شہرت اور عزت کے حصول میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے اور دولت تو ایسی چیز ہے جسے دونوں ہی پسند کرتے ہیں، دونوں ضدی ہیں۔ اگر ٹکراﺅ کی نوبت آجائے تو دونوں میں سے کوئی کبھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہ ہوگا، لہٰذا شیر اور بکری اگر ایک گھاٹ پر پانی پینا چاہیں تو دونوں کو ایک دوسرے کو سمجھ کر کچھ الاﺅنس دینا ہوں گے۔

اسد اور دلو کا ساتھ

اسد کا عنصر آگ اور دلو کا ہوا ہے۔ ہوا آگ کو جلنے میں مدد دیتی ہے اور آگ کی حرارت فعالیت بخشتی ہے۔ دونوں عناصر کے درمیان فائدہ بخش ربط و ضبط موجود ہے۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابقدونوں بروج ایک دوسرے سے ساتویں نمبر پر، یعنی مقابلے کے برج ہیں اور ساتواں خانہ شراکت اور تعلقات کا ہے۔ ایک دلو شخصیت کی مثبت خصوصیات میں ایمان داری اور سچائی کی تلاش، ہر دل عزیزی، حق گوئی، ہم دردی اور مہربانی، تخلیقی صلاحیتیں اور وجدانی کیفیات، کشادہ ذہنی اور ملنساری نمایاں ہیں جب کہ منفی پہلوﺅں میں انوکھا پن، متلون مزاجی، سرکشی، غیرروایتی طور طریقے اور انداز، سنکی یا وہمی ہونا، جلد بدل جانا وغیرہ شامل ہیں۔
اسد اور دلو کی جوڑی ایک پُراسرار بندھن کے زمرے میں آتی ہے لیکن ان کے بارے میں حتمی طو رپر کچھ نہیں کہا جا سکتاکہ یہ کب کیا کر گزریں گے، کیوں کہ دونوں جتنا ایک دوسرے کی طرف کھنچتے ہیں، اتنا ہی ایک دوسرے سے دور بھاگتے ہیں۔ دونوں کے لیے ایک دوسرے سے کچھ نہ کچھ سیکھنا ضروری ہے۔ شیر (اسد) دلو سے تھوڑی سی عاجزی اور انکساری سیکھ لیتا ہے جو اپنی غلطی تسلیم کرنے میں ہمیشہ کشادہ دلی اور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتا ہے اور دلو اسد سے تھوڑی سی گرم جوشی کا مظاہرہ کرنا سیکھ سکتا ہے، کیوں کہ دونوں برج اپنی ماہیت میں جامد، یعنی غیرتغیرپذیر ہیں، لہٰذا جب دونوں کے نکتہ¿ نظر میں اختلاف پید اہو جائے تو اس کا دور ہونا آسان کام نہیں۔ ذہانت اور حیرت انگیز ترقی یافتہ ذہنی ساخت ان دونوں بروج کا طرئہ امتیاز ہے۔ دونوں ہی حیرت سے دوچار ہو کر بہت خوش ہوتے ہیں۔

اسد اور حوت کا ساتھ

یہ آگ اور پانی کا ساتھ ہے جو عناصر کے اعتبار سے متضاد خصوصیات کا حامل ہے۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق دونوں کے درمیان کوئی زاویہ محبت اور دوستی موجود نہیں۔ حوت شخصیت کے مثبت پہلوﺅں میں آزاد خیالی، حساسیت، ہم دردی، نرم مزاجی، ترقی پسندی، اثرپذیری، تخیلاتی ذہن وغیرہ شامل ہیں جب کہ منفی خصوصیات میں سست روی، بے پروائی، ڈھلمل یقینی، غیرواضح انداز، بے عملی، عدم توازن وغیرہ نمایاں ہیں۔
اسد سربراہی اور قیادت کرنا پسند کرتا ہے۔ چاہتا ہے کہ دوسرے عزت و تکریم سے اس کی تابع داری کریں۔ حوت چاہتا ہے کہ وہ کسی پر انحصار کرے، کوئی اس کا تحفظ کرے اور اس کی رہنمائی کرے۔ یہاں تک تو سب کچھ ٹھیک ہے، زندگی ہنسی خوشی گزر سکتی ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ مچھلی(حوت) شیر(اسد) کی مسلسل اناپرستی سے بہت جلد بے زار ہو جاتی ہے۔ شیر کی غضب ناکی اسے خوف زدہ رکھتی ہے، لہٰذا وہ شیر سے دور ہوتی چلی جاتی ہے۔ شیر کو اس کی وہمی طبیعت اور یاسیت پسندی اور اپنی ہی ذات کے سمندر میں غوطہ زن رہنا ہرگز پسند نہیں آئے گا۔ اس کے علاوہ مزید دیگر معاملات میں بھی وہابتری اور بدنظمی پھیلاتی رہتی ہے اور فطری طو رپر اس میں نفاست پسندی کا فقدان ہوتا ہے، لہٰذا دونوں کا تعلق خوش گوار اور پائیدار ہونا بڑا مشکل ہے۔
[/c]
97

اور سرطان کا ساتھ

دونوں کا عنصر پانی ہے اور اس پانی کی روانی قابل دید ہوتی ہے۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق عقرب، برج سرطان سے پانچواں برج ہے اور سرطان، عقرب سے نواں۔ گویا بچھو، کیکڑے کا محبوب ہے اور کیکڑا، بچھو کی قسمت۔ سرطان شخصیت کے مثبت پہلوﺅںمیں حساسیت، ہم دردی اور باطنی قوتیں، وفاداری، اصول پرستی، میانہ روی، تخیلاتی قوت، اثراندازی وغیرہ ہیں اور منفی پہلو من موجی، نمایاں احساس کم تری، غیریقینی مزاج، یاسیت پسندی، ہٹ دھرمی وغیرہ ہیں۔
عقرب اور سرطان ایک دوسرے کے لیے زبردست کشش رکھتے ہیں اور شاید تمام دیگر بروج کے مقابلے میں ان دونوں کی جوڑی سب سے زیادہ متاثرکن ہوتی ہے۔ یہ دونوں ناصرف اپنی بلکہ اپنے ساتھی کی خوبیوں اور خامیوں سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ عقرب میں سرطان کے لیے ایکمقناطیسی کشش ہوتی ہے اور وہ عقرب کی تمام پوشیدہ خوبیوں کی طرف کھنچتا چلا جاتا ہے۔ دونوں ہی میں تحفظ یا عدم تحفظ کا احساس بہت زیادہ ہوتا ہے اور یقینی یا غیریقینی کی کیفیات سے دونوں یکساں متاثر رہتے ہیں۔

عقرب اور اسد کا ساتھ

عقرب پانی اور اسد کا عنصر آگ ہے، لہٰذا یہ آگ اور پانی کی شراکت ہوگی۔ اپنی ماہیت میں دونوں استحکام و ٹھہراﺅ رکھتے ہیں۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق دونوں مخالف زاویہ¿ نظر رکھتے ہیں۔
اسد افراد خودپسند، تحکمانہ انداز رکھنے والے، پُراعتماد، ہم درد و مہربان، خودشناس، فراخ دل، فن کارانہ مزاج کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کی شخصیت کے منفی پہلوﺅں میں غرور و تکبر، اناپسندی، ضرورت سے زیادہ خوداعتمادی اور شیخی، من موجی ہونا شامل ہے۔
ان دونوں بروج میں اپنے عقائد اور خیالات کے سلسلے میں بڑا جذباتی اور پُرجوش انداز پایا جاتا ہے۔ اگر دونوں کے درمیان ہم آہنگی اور پُرامن تعلقات قائم کرنے ہوں تو دونوں کو مصالحانہ انداز اپنانا ہوگا، کیوں کہ دونوں کی خصوصیات میں حکمرانی کا جذبہ موجود ہے، لہٰذا بہتر تعلقات اور باہم محبت کے قیام میں بڑی دشواری پیش آئے گی۔ اسد اپنی حاکمانہ و شاہانہ شخصیت کا کھلم کھلا اظہار کرتا ہے اور اپنی بالاتری پر سمجھوتا نہیں کرتا جب کہ عقرب یہی کام خفیہ طور پر کرنے کا عادی ہوتا ہے۔

عقرب اور سنبلہ کا ساتھ

عناصر کے اعتبار سے یہ پانی اور مٹی کا ساتھ ہے اور دونوں میں موافقت موجود ہے۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق سنبلہ، برج عقرب سے گیارہواں برج ہے جس کا تعلق امید و خواہشات سے ہے اور عقرب، برج سنبلہ سے تیسرے نمبر پر ہے۔ تیسرا خانہ تعلیم اور ذہنی سرگرمیوں، روزمرہ دل چسپی کے امور وغیرہ سے ہے۔
سنبلہ کی شخصیت کے مثبت پہلوﺅں میں باقاعدگی، باطنی قوت، معقولیت پسندی، تجزیہ نگاری اور باشعور ہونا ہے جب کہ منفی پہلو نکتہ چینی، حد بندی، کنجوسی، عیب جوئی، سخت دلی وغیرہ ہیں۔
عقرب اور سنبلہ کا اشتراک حقیقی معنوں میں مفید اور معنی خیز ہو سکتا ہے۔ ان دونوں بروج کے حامل افراد میں ایک دوسرے کی خوبیوں کو پہچاننے اور انہیں مزید اجاگر کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ سنبلہ کی خوبی یہ ہے کہ وہ عقرب کی قیادت اور برتری قبول کرنے کو تیار رہتا ہے اور عقرب، سنبلہ کی معقولیت پسندی اور باریک بینی کو اپنے لیے ڈھال سمجھتا ہے۔

عقرب اور میزان کا ساتھ

پانی اور ہوا کا یہ ساتھ عنصری طو رپر کوئی لگاﺅ نہیں رکھتا۔ علم نجوم کے قواعد میں یہ باہم جڑے ہوئے برج ہیں۔ میزان عقرب سے بارہویں نمبر پر ہے اور عقرب دوسرے نمبر پر۔ گویا میزان،عقرب کے لیے ایک روحانی و جذباتی کشش رکھتا ہے اور عقرب، میزان کے لیے مالی۔ میزان کی مثبت خصوصیات میں انصاف پسندی اور توازن، موقع شناسی اور باتدبیری، دل کشی و ذہانت، نظامت و فراست جب کہ منفی خصوصیات میں سہل پسندی و سست روی، تذبذب و پس و پیش، لاتعلقی و غیرمستقل مزاجی، خودغرضی و بے اعتباری شامل ہیں۔
عقرب کی فطرت فیصلہ کرنے اور مستحکم خیال رکھنے والی کی ہے جب کہ میزان ہر لمحہ ہر چیز کے اچھے اور برے، مفید اور نقصان دہ پہلوﺅں پر ہی غور کرتا رہتا ہے۔ گویا اس میں فیصلہ کرنے کی وہ صلاحیت نہیں جو عقرب میں ہے اور یہ کمی دونوں کے درمیان بہت بڑی الجھن پیدا کر سکتی ہے۔ عقرب میں مستقل متحرک رہنے کی صلاحیت ہے اور اس کی یہ عادت لوگوں کو اپنی طرف متوجہ ہی نہیں کرتی بلکہ انہیں محظوظ بھی کرتی ہے جب کہ میزان کی نفیس طبیعت اور ذوق کے لیے یہ عادت تکلیف دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان تمام تضادات کے باوجود اگر عقرب اور میزان ایک دوسرے کی نفسیات و خواہشات اور عادات کو سمجھ سکیں اور ایک دوسرے کے خوف و خدشات کو دور کر سکیں تو یہ جوڑی معنی خیز ہو سکتی ہے۔

عقرب اور عقرب کا ساتھ

ایک عقرب شخصیت دوسری عقرب شخصیت کے ساتھ جو انداز اور طور طریقہ اختیار کر سکتی ہے، اس میں بہت سے خطرات پوشیدہ ہوتے ہیں، پھر بھی یہ اعتماد اس لحاظ سے نہایت دل چسپ اور اہم قرار دیا جا سکتا ہے کہ اس میں ایک ہی برج کی حامل دو شخصیات ایک دوسرے کو جانچنے، سمجھنے اور جاننے کے عمل سے گزرتی ہیں مگر یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ ایک عقرب شخصیت کے بارے میں کس حد تک جانا جا سکتا ہے، کیوں کہ عقرب کی ادا خود کو پوشیدہ رکھنا یا رازداری سے کام لینا ہوتی ہے اور اس کے اپنے اصل خول سے باہر نکالنا آسان نہیں ہوتا۔ ہر بات یا معاملے کو مشکوک نظروں سے دیکھنے کی عادت کی وجہ سے انہیں ایک دوسرے پر بھروسا کرنے میں بھی بڑی مشکل پیش آتی ہے۔ یہ اپنے شریک یا مدمقابل کی نیت پر ہمیشہ شک کرتے ہیں، کیوں کہ بحیثیت عقرب یہ خوب جانتے ہیں کہ ان کا عقرب ساتھی ان سے بھی کچھ چھپا رہا ہے اور قابل بھروسا نہیں ہے۔ ایک اور حقیقت بھی بے حد اہم ہے کہ ایک عقرب کبھی نہیں بھولتا، خصوصاً اس حال میں جب کہ اسے دھوکا دیا جائے یا اس کی توہین کی جائے۔ ایسی صورت میں وہ انتقام کے بارے میں ضرور سوچے گا۔ ان تمام باتوں کے باوجود عقرب شخصیات کا ملاپ اس اعتبار سے یقینا دل چسپ ہے کہ وہ جو دل میں ٹھان لیں، کر کے رہتے ہیں اور اس معاملے میں سب سے اہم چیز ”قوت“ ہے، کیوں کہ قدرت نے ان کے اندر بے پناہ توانائی رکھی ہے، جس کی بدولت یہ ناممکن کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ بہرحال ہم تو آپ کو دعا ہی دے سکتے ہیں، ”خدا آپ کو کامیابی عطا فرمائے۔“

عقرب اور قوس کا ساتھ

عقرب کا عنصر پانی اور قوس کا آگ ہے۔ گویا یہ آگ اور پانی کا کھیل ہے۔ علم نجوم کے قواعد کی رو سے یہ تحویلی برج ہیں۔ دوستی یا دشمنی باہم نہیں رکھتے۔ قوس عقرب سے دوسرا اور عقرب قوس سے بارہواں برج ہے۔ عقرب ایک قوس کے لیے روحانی، جذباتی و جنسی کشش کا باعث ہوگا جب کہ قوسایک عقرب کے لیے مالی و معاشی فوائد کے اعتبار سے پُرکشش ہوگا۔
عقرب کے دل میں یہ شک گھر کر سکتا ہے کہ یہ تیرانداز قوس شاید متلون مزاج اور دکھاوے کی محبت کرنے والا ہے۔ جب اسے ایسا محسوس ہو تو پھر وہ اس سے دور بھاگے گا۔ دوسری طرف تیر انداز قوس کو شاید عقرب کا اپنی ذات کے خول میں سمٹ کر بیٹھنا اور اس کی حد سے بڑھی ہوئی حاسدانہ طبیعت کی وجہ سے گھٹن کا احساس ہونے لگے۔ ایسی صورت میں وہ بھی عقرب سے دور بھاگنے کی کوشش کرے گا۔ قوس کی شخصیت آزاد رو اور ہنسی مذاق کی ہوتی ہے جب کہ عقرب شخصیت تعلق میں گہری سنجیدگی اور شدت چاہتی ہے۔ یہ دو متضاد کیفیات ہیں جو اگر یکجا کر دی جائیں تو نتائج کے بارے میں کوئی خوش گمانی نہیں ہونی چاہیے۔
عقرب اور قوس، دونوں کو صحت کے بارے میں زیادہ تشویش رہتی ہے، لہٰذا یہ دونوں اکثر مختلف عوارض یا خود کو زیادہ عرصے تک جوان رکھنے کی ترکیبوں پر تبادلہ خیال میں مصروف پائے جاتے ہیں۔ بس یہی ایک قدر مشترک دونوں میں نظر آتی ہے۔ قوس کی فطرت میں خوش مزاجی اور ہنسنا ہنسانا ہے، اس لیے وہ شکست میں بھی دکھ محسوس نہیں کرتا جب کہ عقرب کے اندر شکست کو برداشت کرنے کا مادہ بالکل نہیں ہے۔ یہ اندیشہ موجود ہے کہ عقرب کی متجسس طبیعت قوس کی خوش مزاج و آزاد منش ہستی کو کہیں ٹکڑے ٹکڑے نہ کر دے۔

عقرب اور جدی کا ساتھ

عقرب کا عنصر پانی اور جدی کا مٹی ہے۔ یہ عنصری تعلق موافق ہوتا ہے، یعنی یہ دونوں عنصر باہم دوست ہیں۔ علم نجوم کے قواعد کی روشنی میں بھی عقرب اور جدی ایک موافق زاویہ رکھتے ہیں۔ عقرب سے جدی تیسرا برج ہے اور جدی سے عقرب گیارہواں، گویا عقرب کے لیے اس کا جدی ساتھی اس کے ذہن کی روشنی ہے اور عقرب، جدی کے لیے امید و خواہشات کا مرکز۔ اس دل چسپ صورت حال میں جب یہ دونوں یکجا ہوتے ہیں تو چند چھوٹے موٹے اختلافات کے علاوہ ان کی جوڑی کامیاب رہتی ہے لیکن کبھی کبھی کوئی چھوٹا سا اختلاف بھی خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے، کیوں کہ یہ دونوں اپنے بنیادی نظریات پر مشکل ہی سے کوئی سمجھوتا کرتے ہیں۔
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ان دونوں برجوں سے متعلق افراد کا نصب العین تقریباً یکساں ہوتا ہے۔ دونوں کی توقعات اور خواہشات ایک جیسی ہوتی ہیں اور دونوں ہی ایک جیسے خواب دیکھتے ہیں مگراپنے مقاصد کے حصول کے لیے دونوں مختلف راستے اختیار کرتے ہیں۔ عقرب محسوس کرتا ہے کہ جدی کا کردار بہت مزاحمت کرنے والا ہے اور وہ اس کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے اور جدی کو یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر وہ عقرب کی مرضی کے مطابق نہ چلے تو اسے خواہ مخواہ پریشان کیا جاتا ہے۔ جدی افراد فطرتاً زیادہ مہم جو اور جرات مند ہوتے ہیں اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا ساتھی عقرب ان کی طرح ہی بلند پرواز ہو۔
عقرب اور جدی دونوں ہی بڑی ذاتی اور انفرادی زندگی کے حامل ہوتے ہیں مگر ان دونوں میں سے عقرب ذرا زیادہ ملنے جلنے اور بات چیت کا عادی ہوتا ہے جب کہ جدی بالکل خاموش اور تنہائی پسند ہوتا ہے۔ بعض اوقات عقرب اپنے ساتھی جدی کو اپنے ساتھ، اپنی راہ پر لگانے میں کامیاب بھی ہوجاتا ہے۔ وہ جدی کی مزاحمت، خاموشی اور تنہائی کی دیوار توڑنے کے لیے اپنی دم کا زہریلا کوڑا استعمال کرتا ہے، یعنی طنزیہ زہریلی باتیں کرنے لگتا ہے۔ یہ صورت حال جذباتی و رومانی فضا کو مکدر کر کے ذہنی عدم موافقت کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر اس سے پرہیز کیا جائے تویہ جوڑی بہت کامیاب اور آسودہ ثابت ہوگی، کیوں کہ دونوں کے خیالات، خواب اور آرزوئیں تقریباً یکساں ہوتی ہیں۔

عقرب اور دلو کا ساتھ

عناصر کے اصول پر پانی اور ہوا باہم کوئی رشتہ نہیں رکھتے اور علم نجوم کے قواعد میں عقرب اور دلو ایک مخالف زاویہ بناتے ہیں۔ عقرب سے دلو چوتھا برج ہے اور عقرب دلو سے دسویں نمبر پر ہے۔ زائچے کا چوتھا خانہ گھریلو زندگی سے متعلق ہے اور دسواں پیشہ ورانہ سرگرمیوں سے۔ کسی جذباتی اور دماغی اتحاد کے لیے یہ دو متضاد سمتیں ہیں، اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ یہ جوڑی شراکتی اور ازدواجی اتحاد کے لیے موزوں نہیں ہے۔
عقرب اور دلوکا اتحاد قدم قدم پر ناخوش گواری لا سکتا ہے اور یہ عموماً دیرپا اور مضبوط تعلق نہیں ہوتا۔ ان دونوں کے درمیان قریبی گہرے تعلقات پیدا ہونا بہت مشکل ہوگا۔ دلو بہت آزادمنش لوگ ہوتے ہیں جب کہ عقرب بہت زیادہ قابضانہ فطرت رکھنے والے حساس افراد۔ دلو شخصیات کے ذہنی تصورات مختلف سمتوں اور آسمانوں میں پرواز کرتے ہیں اور انہیں بہت زیادہ کسی کے قریب ہو کر اس کا پابند رہنا بہت تکلیف دہ محسوس ہوتا ہے۔اس کے برعکس عقرب افراد بہت حساس اور خاصی حد تک حاسدانہ طبیعت کے مالک اور دوسروں کو اپنا مطیع یا زیر اثر رکھنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ اب ان کے شریک حیات اگر دلو ہوں جو کہ خود آزادرو، آزاد خیال اور گھومنے پھرنے کے عادی، شوقین مزاجہوتے ہیں توپھر عقرب شخصیت کا خون کھولنا شروع ہو جائے گا۔ اس کا غصہ قدرتی بات ہوگی، نتیجہ ظاہر ہے کہ شدید اختلاف کی صورت پیدا ہو جائے گی۔
عقرب اور دلو برج والے دونوں شکی مزاج ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے بارے میں بہت محتاط بھی۔ یہ دونوں کبھی ایک دوسرے پر اعتمادنہیں کرتے، کیوں کہ دنیا کے بارے میں دونوں ہی کا نکتہ¿ نظر بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ایک کو دوسرے کے عمل کی گہرائی یا وجوہات نظر بھی نہیں آتیں۔ اس صورت میں ان دونوں کی جوڑی کو کامیاب بنانا یا دونوں میں محبت و لگاوٹ پیدا کرنا ایک امرمحال ہے، لہٰذا ان کے اتحاد کی سفارش نہیں کی جا سکتی۔

عقرب اور حوت کا ساتھ

دائرئہ بروج کی آبی تکون کا عقرب دوسرا اور حوت تیسرا برج ہے۔ دونوں کا عنصر پانی ہے۔ عقرب اپنی ماہیت میں ثابت اور حوت تغیرپذیر ہے۔ علم نجوم کے قواعد کی روشنی میں یہ باہم موافقت رکھتے ہیں۔ حوت، برج عقرب سے پانچواں اور عقرب، برج حوت سے نواں برج ہے۔ پانچواں خانہ محبت، انعام، اولاد وغیرہ سے متعلق ہے اور نواں خانہ قسمت و مستقبل کی منصوبہ بندی اور عقائد و نظریات ہے۔ ان دو سیال صفت بروج میں ایک دوسرے کے لیے بڑی کشش ہوتی ہے، خاص طور پر عقرب، حوت کا دیوانہ ہو سکتا ہے اور مچھلی بھی بچھو کو اپنی قسمت سمجھ سکتی ہے۔ وہ اسے ایک آسان ہدف نظر آتا ہے جو آہستہ روی کے ساتھ اسی کی جانب بڑھ رہا ہوتا ہے۔ پہلی نظر کی محبت و پسندیدگی کا کلیہ ان دونوں پر صادق نظر آتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے ایک طرح کا فوری اور قوی مقناطیسی اثر رکھتے ہیں، گویا یہ ایک شدید محبت کرنے والی جوڑی بنتی ہے۔
عقرب اور حوت ایک دوسرے کو بھرپور طور پر سمجھتے ہیں اور ایک دوسرے کی طبیعت، احساسات اورخیالات سے بھی فطری طو رپر باخبر ہوتے ہیں۔ یہ ایک عجیب سا روحانی اور جذباتی تعلق ہوتا ہے۔ عقرب(بچھو) اپنے ساتھی حوت(مچھلی) کو تحریک دلاتا ہے اور حوت کو عقرب میں اپنے خوابوں کی تعبیر کا عکس نظر آتا ہے۔ ان دونوں میں اپنے اپنے خواب و خیال پر ایک دوسرے سے بات چیت اور تبادلہ خیال کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کسی تبادلہ خیال کے بغیر بھی وہ ایک دوسرے کے جذبات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ پھر بھی کسی موقع پر اگر ذہنی مسابقت کا مرحلہ آہی جائے تو حوت کا پلہ بھاری رہتا ہے۔ بہرحال ایک حیرت انگیز مخالفت اگر پیدا ہو تو ان دونوں کے درمیان مالی معاملات میں ہی ہو سکتی ہے، کیوں کہ حوت ایک قربانی دینے والا، سخی، طبیعت کا خرچیلا فرد ہے جب کہ عقرب بعض معاملات میں ذرا کنجوس یا سوچ سمجھ کر خرچ کرنے والا ہے۔ حوت کو کل کی پروا نہیں ہوتی جب کہ عقرب مستقبل کے بارے میں بہت زیادہ فکرمند رہتا ہے اور اس کے تاریک پہلوﺅں پر خصوصی نظر رکھتا ہے۔ اس وجہ اختلاف کے علاوہ ان دونوں میں کوئی تضاد پیدا نہیں ہوتا اور یہ ایک بہترین جوڑی ثابت ہوتی ہے
[/c]
98

باپ

بحیثیت باپ عقربی افراد ایک خوددار، حساس اور سرگرم فطرت رکھتے ہیں۔ انہیں اپنی اولاد کے ساتھ سختی اور شدت پسندی سے گریز کرنا چاہیے، ورنہ صورت حال فائدے کے بجائے نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات ان کے حساس بچے خوف کا شکار بھی ہو جاتے ہیں اور ان سے کھنچاﺅ محسوس کرتے ہیں۔ یہ اپنے بچوں کے لیے محبت، شفقت اور مہربانی کا گہرا جذبہ رکھتے ہیں، شاید اسی لیے ان کی تربیت کے مراحل میں سخت رویہ اپنا لیتے ہیں جو ان کے اور اولاد کے درمیان نظریاتی اختلاف کا باعث بن سکتا ہے۔ انہیں تحمل، برداشت سے کام لینا چاہیے۔


عقرب ماں

عقرب خواتین بحیثیت ماں اپنے بچوں کے لیے بہت مہربان، دوستانہ طرزعمل اور عمدہ خصوصیات کی حامل ہوتی ہیں مگر بعض اوقات یہ کچھ زیادہ ہی توقعات بڑھا لیتی ہیں۔ ان میں مادرانہ غرور و افتخار زیادہ ہوتا ہے۔ عقرب باپ کی طرح یہ بھی ضرورت سے زیادہ سخت ہو جاتی ہیں اور کبھی کبھی انتہاپسندانہ طرزعمل اختیار کر لیتی ہیں۔ انہیں جنریشن گیپ(تفاوتِ نسلی) کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

عقرب شوہر

بحیثیت شوہر عقرب کی شدت پسندی عروج پر ہوتی ہے۔ وہ اپنی بیوی کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں اور کبھی کبھی انہیں بیوی کا اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں یا دیگر رشتے داروں سے زیادہ میل جول بھی ناگوار گزرنے لگتا ہے۔ وہ یہ برداشت نہیں کرتے کہ ان کی بیوی ان کی مرضی کے خلاف ایک قدم بھی اٹھائے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی ہر خواہش کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا جائے اور مکمل فرماں برداری کا مظاہرہ کیا جائے۔
عقرب مرد شوہر کی حیثیت سے کامیاب رہتا ہے اور اپنے خاندان کی کفالت و حفاظت کی پوری صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس کی نجی خواہشات اور جذ باتی انداز فکر اکثر و بیشتر گھریلو ماحول میں کشیدگی کا سبب بنتا ہے۔ وہ یہ بھول سکتا ہے کہ اس کی بیوی کس قدر اس کی خدمت گزار ہے، جب شک و شبہے کے سانپ اس کے تصور میں لہرا رہے ہوں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں سے دل کی گہرائیوں کے ساتھ سچی محبت کرتا ہے لیکن رقابت کے زہر کا علاج اس کے پاس نہیں ہے۔

عقرب بیوی

عقرب عورت اگرچہ عیش و آرام کی طالب ہوتی ہے اور خوش مزاجی بھی اس کی فطرت میں شامل ہے، لہٰذا ایک خوب صورت گھر اس کی آرزو ہوتا ہے۔ وہ اپنے کردار میں صاف اور بے خوف ہوتی ہے اور ہر کام نہایت دل چسپی و دل جمعی سے کرتی ہے۔ شوہر کی ہر طرح دل وجان سے وفادار ہوتی ہے۔ محبت اور نفرت کے حوالے سے اس کے جذبات عقربی خصوصیات کے مطابق انتہاپسندانہ اور شدید ہوتے ہیں۔ وہ جس سے محبت کرتی ہے، اسے دیوتا بنا کر دل کے مندر میں رکھتی ہے اور اس کی پوجا کرتی ہے لیکن یہ بھی چاہتی ہے کہ اس کا دیوتا اس کی محبت اور وفاداری کی قدر کرے۔ اس میں کسی اور کو اس کا شریک نہ بنائے۔ رقابت کا جذبہ اور قابضانہ فطرت کے تقاضے اس میں بھی شدید ہوتے ہیں۔ خیال رہے کہ عقرب بیوی، شوہر کی کم زوریوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ وہ اس کے اشاروں پر چلنے کے بجائے اسے اپنے اشاروں پر چلانے کی خواہش مند ہوگی مگر اس خواہش کی تکمیل وہ اعلانیہ طور طریقوں کے بجائے بڑے غیرمحسوس انداز میں کرتی ہے۔

عقرب دوست

جہاں تک آپ کی خودداری اور انا کا معاملہ ہے، آپ بہت حساس اور وفادارانہ خصوصیات کے مالک ہیں۔ بعض اوقات آپ ان معاملات میں حدود سے بھی تجاوز کر جاتے ہیں۔ آپ کو چاہیے کہ چھوٹی موٹی باتوں اور دوسروں کی کوتاہیوں کو نظرانداز کر دیا کریں، خاص طور سے اپنے دوستوں کے معاملے میں۔
بحیثیت دوست آپ ایک آتش گیر مادے کی طرح ہیں، جو کہیں بھی اور کبھی بھی ایک زورداردھماکے کا سبب بن سکتا ہے، کیوں کہ آپ کی فطرت میں رازداری اور امتیازی طرزعمل پوشیدہ ہیں۔ آپ ایک ایسے دوست ہیں جس کے بارے میں آپ کا کوئی بھی دوست درست اندازے لگانے میں عموماً ناکام رہتا ہے۔ ان حالات میں آپ کے خلوص اور دیانت داری کے باوجود آپ کے ساتھ بے وفائی یا فریب کے واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔

عقرب اور حمل کا ساتھ

عقرب کا پانی اور حمل کا عنصر آگ ہے۔ اپنی ماہیت میں عقرب ثابت اور حمل تبدیل ہونے والی خاصیت رکھتا ہے۔ آگ اور پانی میں موافقت نہیں ہے۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق برج حمل، عقرب سے چھٹا برج ہے اور عقرب حمل سے آٹھویں نمبر پر ہے۔ چھٹا خانہ صحت، ملازمت اور ماتحتی سے متعلق ہے اور آٹھواں خانہ حادثات و وراثت اور شراکت مفادات کا ہے۔ ان اصولوں کی بنیاد پر عقرب، برج حمل پر بالادستی رکھتا ہے جب کہ حمل کو عقرب سے خطرہ ہو سکتا ہے۔
حمل و عقرب دونوں سیارہ مریخ کے تحت ہیں اور مریخ ایک جنگ جو سپہ سالار ہے۔ وہ جنگ جویانہ صفات رکھنے والے(حمل و عقرب) ایک دوسرے سے برسرپیکار تو ہو سکتے ہیں، باہمی شراکت و محبت قائم نہیں کر سکتے۔ عقرب اپنا زہریلا ڈنک لیے ہر دم مقابلے کے لیے تیار، ہر معاملے میں پہلا مقام حاصل کرنے کا خواہش مند، آسانی سے شکست تسلیم نہ کرنے والا جب کہ ایک مینڈھا(حمل) ایک عقرب کے ساتھ اسی صورت میں گزارا کر سکتا ہے جب وہ جذباتی اور ذہنی فاصلہ برقرار رکھ سکے۔ عقرب کے ساتھ تعاون کرنا ہی حمل کے لیے سب سے مناسب راستہ ہے لیکن پھر بھی ان دونوں میں اگر مسابقت کی نوبت آئے تو شکست برج حمل والے کو ہی ہوگی۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ حمل شخصیت کبھی جھگڑے میں پہل نہیں کرتی، کسی بھی تنازع کی ابتدا عقرب کی طرف سے ہوتی ہے اور اس کےلیے وہ راہ بھی تلاش کر لیتا ہے۔ یہ ہمیشہ حملہ آور کی حیثیت اختیار کیے رہتے ہیں اور بہت ہوشیار و چالاک ہوتے ہیں۔ ان کی حملہ کرنے کی ترکیب بھی اپنی نوعیت میں انوکھی ہوتی ہے۔ حمل والے عقرب کی ان صلاحیتوںکو بھانپ لیتے ہیں اور پھر ان کے سامنے آنے سے گریز کرتے ہیں۔ عقرب افراد کو اگر نقصان پہنچایا جائے تو وہ اسے بھولتے نہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عقرب شخصیت اپنے ساتھ کی گئی مہربانی یا محبت کو بھی فراموش نہیں کرتی۔ بہرحال ان کی یکجائی کی صورت میں اگر کوئی جنگ نہ چھڑے تو بہتر ہے، کیوں کہ مینڈھے کی خصوصیت سینگ مارنا ہے اور اس کی ٹکر بہت زبردست ہوتی ہے جب کہ عقرب کا وار بہت خفیہ، ماہرانہ اور حیران کن ہوتا ہے۔ ان تمام پہلوﺅں کے پیش نظر یہ کوئی بہت اچھی جوڑی نہیں کہی جا سکتی۔

عقرب اور ثور کا ساتھ

پانی اور مٹی کا یہ میل بڑا بارآور ثابت ہوتا ہے۔ عقرب اور ثور میں عناصری موافقت کے ساتھ ماہیت کی بھی یکسانیت ہے۔ علم نجوم کے اصول کے مطابق یہ دونوں ایک دوسرے کے مدمقابل برج ہیں۔ ان میں شان دار شراکت بھی ممکن ہے اور معرکہ آرائی بھی۔ شراکت کی صورت میں یہ بہترین تعمیری و تخلیقی نتائج دیں گے اور معرکہ آرائی میں ایک دوسرے کے لیے نہایت سخت حریف ثابت ہوں گے۔
ثور شخصیت نرم دل، عمل پسند، مادہ پرست، فن کارانہ صلاحیت کی حامل، خود بیں، محتاط، صابر، قابل اعتماد ہوتی ہے۔ اس کے منفی پہلوﺅں میں ضد، ہٹ دھرمی، اکھڑپن، سستی و کاہلی، خودپرستی و تنگ نظری اور دوسروں کو زیراثر رکھنے کی خواہش شامل ہے۔
عقرب اور ثور میں بہت سی خصوصیات مشترکہ ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے کی تعریف و ستائش کرتے ہیں اور دونوں مل کر ایک اکائی بن سکتے ہیں۔ عقرب میں وہ تمام خوبیاں ہیں جو ثور کو پسند ہوتی ہیں اور ثور(بیل) میں وہ خصوصیات پہلے سے موجود ہوتی ہیں جن کی عقرب تمنا کرتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ اس حقیقت کا اقرار یا اعتراف نہ کرے۔ ثور میں وہ تحمل اور برداشت بھی موجود ہے جو عقرب چاہتا ہے۔ یہ دونوں مل کر اگر کوئی فیصلہ کرنا چاہیں تو ان کی جوڑی انتہائی کامیاب ہو سکتی ہے، خواہ یہ کاروباری معاونت و اشتراک ہو یا زندگی کا ساتھ، یعنی شادی مگر اس جوڑ میں ایک ”لیکن“ بھی موجود ہے، وہ یہ کہ ان دونوں کو ایک دوسرے کی خصوصیات، خوبیوں اور صلاحیتوں کو استعمال کرنے کی اہلیت حاصل کرنا ہوگی۔ ان دونوں میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جن کی ایک دوسرے کو ضرورت ہے اورمادی نکتہ نظر سے یہ ایک عمدہ شراکت بن جاتی ہے، البتہ روحانی اور جذباتی طور پر ان میں کسی قدر تلخی کا بھی امکان ہے۔ بہرحال یہ ایک کامیاب جوڑی بن سکتی ہے، ازدواجی طور پر بھی اور کاروباری ضرورت کے تحت بھی۔
عقرب اور جوزا کا ساتھ

عقرب کا عنصر پانی اور جوزا کا ہوا ہے۔ دونوں میں کوئی باہمی ربط و ضبط نہیں۔ اپنی ماہیت میں بھی عقرب میں ٹھہراﺅ ہے اور جوزا تغیرپذیر۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق جوزا عقرب سے آٹھواں برج اور عقرب جوزا سے چھٹے نمبر پر ہے، لہٰذا یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے ضرررساں تو ہو سکتے ہیں، مفید نہیں۔
جوزا کی شخصیت کے مثبت پہلوﺅں میں حاضر جوابی، خوش طبعی، ہمہ گیری، ذہانت و ہوشیاری، موقع شناسی اور مصلحت اندیشی شامل ہے جب کہ منفی پہلو بے سلیقگی، خودپرستی، بے پروائی، یقین و اعتماد کی کمی، لاتعلقی، قوت برداشت کی کمی وغیرہ ہیں۔
عقرب اور جوزا کی یکجائی کا نظارہ بڑا دل چسپ ہوگا۔ قوت و برتری کا خواہاں عقرب اور بچوں جیسی فطرت والا جوزا باہم خوش نہیں رہ سکتے۔ عقرب کے نزدیک جوزا کی تغیرپذیری تعلقات میں پائیداری کے لیے مشکوک ہوگی اور جوزا، عقرب کی شدت پسندی سے خوف زدہ رہے گا۔ عقرب کا مزاج بنیادی طور پر تسلط پسندی کا ہوتا ہے اور ہر معاملے میں شدت پسند بھی۔ یہ لوگ ہر بات کو اس کے انجام تک لے جانا یا دیکھنا چاہتے ہیں اور نامکمل یا غیراطمینان بخش کام پر یقین نہیں رکھتے۔ اس کے مقابلے میں جوزا شخصیت آزادی پسند اور بے پروا ہے۔ اسے کسی بھی چیز یا عمل کے منطقی انجام تک پہنچنے یا پہنچانے کی گھبراہٹ نہیں ہوگی بلکہ کسی بھی معاملے میں انتظار و صبر کا عمل جوزا کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے اور وہ اس سے تنگ آجاتے ہیں۔اس کے علاوہ ان کی وفاداری بھی مشکوک رہتی ہے۔
[/c]

99
اور حمل کا ساتھ

یہ ہوا اور آگ کا ساتھ ہے اور عنصری طور پر موافق ہے۔ علم نجوم کے قواعد بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔
حمل اورجوزا دونوں ہی حاضر جواب اور خوش طبع ہیں۔ دونوں تخلیقی صلاحیتوں کے مالک اور ایکبامقصد زندگی گزارنے کے خواہش مند ہیں۔ حمل دل کشی اور دل آویزی سے بھرپور ہے اورجوزا ذہانت، دلیری اور جرات مندی سے لبریز ہے، لہٰذا یہ رفاقت غضب کی کامیابی کا مظہر ہو سکتی ہے۔ دونوں کو دولت کے انبار لگانے اور زیادہ سے زیادہ طاقت اور اختیارات کا بوجھ لادنے کی عادت ہے۔ دونوں ایک جیسے لگتے اور اکثر ایک جیسی بچکانہ حرکتیں کرتے ہیں۔ ایمان داری ان کی پہچان ہے مگر کبھی کبھی جہاں ایمان داری ختم ہوتی ہے، وہیں سے خودفریبی شروع ہوتی ہے۔ اس تجزیے کا لب لباب یہ ہے کہ دونوں ہی دودھ اور شہد کی سرزمین گم گشتہ کی تلاش میں گم ہو سکتے ہیں۔

جوزا اور ثو رکا ساتھ

یہ ہوا اور مٹی کی شراکت عناصر کے اعتبار سے ناموافق ہے۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق یہ جڑواں برج ہیں لیکن اپنے مزاج اور فطرت میں ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہیں۔
جوزا اور ثور کی شراکت بہت سی مشکلات کا سبب ہوگی۔ ثور اکیلا خوش ہے اور بڑے سکون اور اطمینان سے گھاس کے اُگنے کا انتظار کر رہا ہے۔ اس کے لیے جوزا کی تیزرفتاری کا ساتھ دینا انتہائی مشکل ہے، جس کے لیے ہر دن عید اور ہر شب، شب برات ہے، جو رات رات بھر دوستوں کی محفل سجائے رہنا چاہتا ہے اور یہ مت بھولیں کہ یہ کبھی نہ تھکنے والا، دہری، توانا اور پُرجوش شخصیت کا مالک ہے۔ ثور کے لیے اس کا ساتھ دینا تقریباً ناممکن ہے۔ جوزا باتیں کرنا، بحث کرنا چاہتا ہے جب کہ ثور ہمیشہ خاموشی کو ترجیح دیتا ہے۔ جوزا لاتعلق اور الگ تھلگ ہواﺅں میں اُڑتا ہے اور ایک بادل سے دوسرے بادل پر بڑی آسانی اور مہارت سے چھلانگ لگاتا ہے۔ یہ کام بھاری بھرکم سانڈ کے لیے ممکن نہیں۔ وہ تغیراور تبدیلی سے بے زار ہوتا ہے۔ اسے تو صرف تھوڑا سا پیار، تھوڑا سا خلوص چاہیے۔ اکثر تو وہ پُرتپاک رویے سے ہی بہل جاتا ہے لیکن جوزا کے سامنے کوئی نیا منصوبہ ہر دم رہتا ہے، لہٰذا اس رفاقت کا نبھنا بڑا مشکل ہے۔

جوزا اور جوزا کا ساتھ

ایک ہی برج جوزا کے زیر اثر پیدا ہونے والے افراد اپنی بنیادی خصوصیات میں خاص مماثلت رکھتے ہیں۔ ان کی خوبیاں اور خامیاں مشترک ہیں۔ ان دونوں کا باہمی تعلق بڑا دل چسپ اور حیرت انگیز ہوگا۔ یہ دونوں ڈالی ڈالی چہکنے والے ایسے پرندے ہیں جو ابھی ساتھ ساتھ بیٹھے خوش گپیوں اور خوش فعلیوں میں مصروف نظر آئیں گے تو پلک جھپکنے کے دوران میں کوئی ایک کسی اور سمت میں پرواز کر چکا ہوگا اور ضروری نہیں ہے کہ دوسرا اس کا تعاقب کر رہا ہو، وہ فوراً کسی اور سمت میں پرواز کے لیے پرتول سکتا ہے اور پھر کسی بھی وقت دونوں اسی طرح یکجا نظر آسکتے ہیں۔ گویا جوزا اور جوزا کا ساتھ شروع ہو کر اچانک ختم اور ختم ہوکر اچانک پھر شروع اور پھر ختم.... یہ ابتدا اور اختتام کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہو سکتا ہے، جس میں دونوں کی ایک دوسرے سے دل چسپیاں اور بے زاریاں ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہیں۔
خوش مزاج اور نت نئی دل چسپیوں کے دل دادہ جوزا کے لیے زندگی میں تغیر و تبدل بہت ضروری ہے۔ وہ یکساں حالات و واقعات اور ماحول کے جمود سے جلد اکتا جاتا ہے۔ دوستی یا ازدواجی زندگی میں بھی ہیجان خیزی اور کچھ نیاپن اس کے لیے ضروری ہے۔ وہ نئے تجربات کرنے کا عادی ہوتا ہے۔ دو جوزا افراد ایک دوسرے کی یہ ضرورت پوری کر سکتے ہیں، مگر دونوں اپنی پارہ مزاجی کے باعث بالآخر ایک دوسرے سے اکتانے لگیں گے اور وہ اپنے لیے کسی نئی دل چسپی کی تلاش شروع کر سکتے ہیں۔ بلاشبہ کسی جوزا شخصیت کی دل چسپی کا ایک مرکز پر قائم رکھنا ایک تنی ہوئی رسی پر چلنے کے مترادف ہے۔ دونوں کو ہر وقت ایک دوسرے کی مدد و تعاون کی ضرورت ہوگی مگر ساتھ ہی دونوں میں سے ہر ایک اپنے لیے مکمل آزادی کا بھی طلب گار ہوگا۔
جوزا اور جوزا کی رفاقت کے بارے میں قبل از وقت کچھ کہنا بڑا مشکل کام ہے۔ اگر ان میں سے کسی ایک کے انفرادی زائچے میں بھی سیارگان کی پوزیشن فطری استحکام اور مزاجی سنجیدگی ظاہر کر رہی ہو تو اس جوڑی کے دیرپا اور پائیدار ہونے کے امکان ہو سکتے ہیں۔

جوزا اور سرطان کا ساتھ

جوزا کا عنصر ہوا اور سرطان کا پانی ہے۔ دونوں عناصر کے درمیان کوئی تعلق خاص نہیں۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق یہ دونوں جڑواں بروج ہیں، یعنی سرطان، برج جوزا سے دوسرا اور جوزا برج سرطان سے بارہویں نمبر پر۔
سرطان شخصیت کے مثبت پہلو یہ ہیں: حساس، ہمدرد، پُراثر و موثر، وفادار، تخیلاتی۔ جب کہ اپنی منفی خصوصیات میں سرطان شخصیت تذبذب کا شکار، یاسیت پسند، احساس کم تری میں مبتلا، من موجی اور زودرنج ہوتی ہے۔
جوزا کی شوخیاں اور بلندپروازی سرطان کے لیے باعث کشش ہیں اور سرطان کا پُراسرار و تخیلاتی انداز جوزا کے لیے شوق تجسس کو ابھارتا ہے لیکن جب یہ دونوں یکجا ہو جائیں تو دونوں کے فطری اور مزاجی اختلافات نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ جوزا گھر میں ٹک کر نہیں بیٹھ سکتا، اسے محفل محفل گھومنے اورلوگوں سے گفت و شنید میں لطف آتا ہے جب کہ سرطان گھر گھسنا اور اپنی دنیا میں مگن۔ دونوں کے درمیان بنیادی تضاد یہ ہے کہ سرطان احساس و جذبات کو زیادہ اہمیت دیتا ہے، جب کہ جوزا ذہن اور علم کو، لہٰذا دونوں دو مختلف منزلوں کے مسافر ہیں۔ ان کی رفاقت ہر روز ایک نیا مسئلہ کھڑ اکرے گی۔ سرطان سے یہ برداشت نہ ہوگا کہ اس کا جوزا ساتھی دوسروں سے مسکرا مسکرا کر خوش گفتاری کا مظاہرہ کرے اور اس کی موجودی سے ہی غافل ہو جائے۔ اسی طرح جوزا کبھی سرطان کی جذباتیت اور احساسات کو نہیں سمجھ پائے گا اور سرطان کی نظر میں غیر مخلص ٹھہرے گا۔ جوزا، سرطان کو ”بور“ قرار دے گا، خصوصاً اس کی یاسیت پسندی سے بے زار ہوگا۔ دونوں کے موڈ مزاج کا کچھ پتا نہیں کہ کب کیسا ہوگا۔ چناں چہ اسے ایک کامیاب تعلق نہیں کہا جا سکتا ہے۔

جوزا اور اسد کا ساتھ

جوزا کا عنصر ہوا اور اسد کا آگ ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے تقویت اور گرم جوشی کا باعث ہیں۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق بھی دونوں بروج کے درمیان موافقت کا زاویہ نظر موجود ہے۔
اسد شخصیت باوقار اور فراخ دل، وفادار اور مہربان، گرم جوش، خودشناس، اونچے خیالات و مزاجی کی حامل ہوتی ہے۔ اس کے منفی پہلوﺅں میں غرور و تکبر، ضرورت سے زیادہ خوداعتمادی اور خودپسندی ہوتی ہے۔ جوزا اور اسد کی جوڑی بظاہر بڑی شان دار نظر آتی ہے، دونوں ایک دوسرے کے لیے بڑی کشش رکھتے ہیں۔ اسد کے شاہانہ انداز اور طور طریقے ”جڑواں بچے“ کو بہت لبھاتے ہیں اور باوقار مگر گلیمر کا دل دادہ اسد شوخ و حاضر جواب جوزا کی ذہانت سے جلد متاثر ہوتا ہے۔ اگر یہ شراکت کاروباری معاملات تک رہے تو بڑی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، البتہ ازدواجی زندگی میں یہ دونوں جذباتی طور پر ایک دوسرے کے لیے زیادہ بہتر رفیق ثابت نہیں ہوتے۔ دراصل اسد کی محبت اور جذبات دل کی گہرائی سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ جوزا کی محبت پر بھی اس کا دماغ حکمران ہوتا ہے اور وہ جذباتی تعلقات میں بھی غور و فکر کیے بغیر آگے قدم نہیں بڑھاتا۔ چناں چہ جوزا کے تاخیری حربے اور بہانہ بازی اسد کو مشتعل کر سکتی ہے۔ دوسری طرف جوزا کو یہ شکایت ہو سکتی ہے کہ اس پر مکمل غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور وہ ایک محدود زندگی نہیں گزار سکتا۔ بہرحال اگر دونوں ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں اور مصالحانہ انداز اپنائیں تو یہ ایک مفید رفاقت ہوگی۔

جوزا اور سنبلہ کا ساتھ

جوزا کاعنصر ہوا اور سنبلہ کا مٹی ہے۔ دونوں کے عناصر میں مخالفت موجود ہے۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق بھی دونوں کے درمیان ناموافق زاویہ نظر موجود ہے۔ سنبلہ شخصیت اپنی مثبت خصوصیات میں اصول و ضابطے کی پابند، معقولیت پسند، تجزیہ کرنے کی عادی، کچھ پُراسرار اور نفاست پسند ہوتی ہے جب کہ اس کی منفی خصوصیات میں تنگ نظری اور غیرلچک دار رویے، عیب جوئی اور بہت زیادہ تنقید وغیرہ شامل ہیں۔
جوزا اور سنبلہ ایک ہی سیارے عطارد کے ماتحت ہیں لیکن دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ عام تعلقات میں گمبھیر اور سنجیدہ مزاج سنبلہ، جوزا کو اس کی تیز فہمی، خوش طبعی، خوش گفتاری اور خوش فعلی کے سبب پسند کرتا ہے اور اس کی صحبت میں فرحت و تازگی محسوس کر سکتا ہے، مگر دو قدم ساتھ چلنے کے بعد ان کے بنیادی اختلافات اور تضادات ابھر کر سامنے آنے لگتے ہیں۔ سنبلہ افراد عملی سوچ رکھتےہیں اور مفروضات پر یقین نہیں کرتے ہیں جب کہ جوزا بیشتر وقت ایک خیالی دنیا میں بسر کرتا ہے۔ امن پسند سنبلہ کو تبدیلی اور انقلاب وغیرہ سے کوئی خاص دل چسپی نہیں ہوتی لیکن ہوا کے دوش پر سوار جوزا کے نزدیک جب تک متواتر تغیر اور تبدل نہ ہوتا رہے جینے میں کوئی مزہ ہی محسوس نہیں ہوتا۔ سنبلہ کو حسن ترتیب اور نفاست بہت عزیز ہے اور جوزا کا خانہ ان دونوں خوبیوں سے یکسر خالی ہے۔ سنبلہ زودرنج ہے۔ جوزا کو غصہ آجائے تو اس کی زبان نہایت تندوتلخ ہو جاتی ہے۔ جوزا کو بھی سنبلہ کی رفاقت خوش گوار لگ سکتی ہے، مگر صرف تھوڑے عرصے کے لیے، لہٰذا اس تعلق سے گریز ہی بہتر ہے۔

جوزا اور میزان کا ساتھ

دونوں کا عنصرہوا ہے، لہٰذا عنصری خصوصیات یکساں ہیں۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق جوزا سے پانچواں برج میزان ہے جو محبوب کے لیے مخصوص ہے اور میزان سے جوزا کا نمبر نواں ہے جو مستقبل کی منصوبہ بندی کا خانہ ہے، لہٰذا دونوں کے درمیان موافقت کا شان دار زاویہ موجود ہے۔ میزان شخصیت کے مثبت پہلو مصلحت اندیشی، شائستگی اور سلیقہ، توازن اور انصاف پسندی، ذہانت اور دل کشی اور ہوشیاری ہے جب کہ منفی پہلو سہل روی اور کاہلی، تذبذب، خودغرضی اور بے ثباتی وغیرہ ہیں۔
جوزا اور میزان کا تعلق ایک حسین رفاقت میں ڈھل سکتا ہے۔ جوزا کی توانائی کا مسلسل بہاﺅ اور میزان کا اختراع پرداز دل کشی کی یکجائی بہت دل چسپ ہو سکتی ہے۔ میزان جوزا کو ذہنی چیلنج فراہم کر سکتا ہے جس کی جوزا کو ضرور ہے۔ میزان میں وہ نزاکت اور عشوہ گری نیز معاملہ فہمی اور موقع شناسی ہے جو جوزا کو سنبھالنے کے لیے ضروری ہے۔ جوزا کو میزان کے کسی منصوبے پر کام کرنا بہت دل چسپ اور خیال آفریں لگتا ہے۔ جوزا اور میزان دونوں آپس میں دنیا کے ہر موضوع پر لمبی چوڑی گفتگو کریں گے، البتہ کسی فیصلے پر پہنچنے کے عمل میں ایک دوسرے سے اختلاف کر سکتے ہیں۔ میزان جوزا کی غیرضروری باتوں کو الگ چھانٹ کر ایک توازن قائم کر سکتا ہے، البتہ جوزا کی بہ نسبت وہ کوئی فیصلہ کرنے میں بہت وقت لے سکتا ہے جب کہ جوزا ایک لمحے میں فیصلہ کرتا ہے۔ بہرحال یہ ایک دل چسپ اور پُرلطف جوڑی ثابت ہو سکتی ہے۔

جوزا اور عقرب کا ساتھ

جوزا کا عنصر ہوا اور عقرب کا پانی ہے۔ دونوں کے عناصر کے درمیان کوئی تعلق خاطر نہیں۔ یہی صورت علم نجوم کے قواعد کے مطابق بھی ہے۔ عقریب شخصیت کے مثبت پہلو حوصلہ مندی، حساسیت، خوداعتمادی، مصلحت پسندی اور ہوشیاری ہے جب کہ اپنی منفی خصوصیات میں یہ تسلط پسند، حاسد، طنزکرنے والا، بے رحم، پُرتشدد اور مغرور ہوتا ہے۔
جوزا اور عقرب کی آپس میں مشکل ہی سے نبھے گی، کیوں کہ طاقت اور اختیارات کے متلاشی عقرب اور طفلانہ سیر و تفریح کے دل دادہ جوزا کے درمیان کوئی مطابقت ہی نہیں ہے۔ عقرب، جوزا کو متلون مزاج اور طفل مکتب سمجھتا ہے۔ جوزا، عقرب کی گمبھیرتا اور گہری سنجیدگی سے خائف ہو سکتا ہے۔ عقرب شخصیت غیرمعمولی حاکمیت پسند، ہر معاملے میں انتہائی سنجیدہ ہوتی ہے۔ یہ لوگ کبھی کوئی کام ادھورا نہیں چھوڑتے اور ہر قیمت پر اسے پورا کر کے دم لیتے ہیں۔ جوزا جو آزادی کے متوالے ہوتے ہیں، وہ کسی ایسے کام میں دل چسپی نہیں لیتے جسے منطقی انجام تک پہنچانے میں لمبا وقت درکار ہو۔ ان کے لیے تو یہ بہت ہی کوفت اور بوریت کی بات ہو سکتی ہے۔ یہ دونوں بروج ہر پہلو سے ایک دوسرے سے اتنے مختلف ہیں کہ کبھی ایک عمدہ جوڑی نہیں بن سکتے۔

جوزا اور قوس کا ساتھ

جوزا کا عنصر ہوا اور قوس کا آگ ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق دونوں مقابل کے برج ہیں، یعنی دونوں ایک دوسرے سے ساتویں نمبر پر واقع ہیں اور ساتواں خانہ شراکت و تعلقات سے متعلق ہے۔ ایک قوس شخصیت اپنے مثبت پہلوﺅں میں بے خوف اور صاف گو، باحوصلہ، متجسس اور فطرت پسند ہوتی ہے، جب کہ اس کی منفی خصوصیات میں شیخی، تشدد، ضرورت سے زیادہ خوداعتمادی، مبالغہ آرائی، بے اصولی، حماقت اور اکھڑپن شامل ہے۔
جوزا اور قوس ایک بھرپور اور مکمل جوڑی ہے۔ جوزا تیزگام ہے اور معاملات کو ہلکے پھلکے انداز میں لیتا ہے۔ قوس خوش خرم ہے اور معاملات کو بہت تیزی سے اپنے کنٹرول میں لے لیتا ہے۔ دونوں ہی تفریح پسند، انتہائی ذہین، نڈر اور بے باک ہیں۔ قلیل المیعاد تعلقات کے لیے یہ ایک زبردست جوڑی ہے لیکن طویل عرصے کے لیے یہ تعلق دھماکا خیز بھی ہو سکتا ہے۔ قوس گرم جوش، پُرخلوص، نظریاتی اور انتہائی محرک ہوتا ہے۔ جوزا ان تمام خوبیوں کو پسند کرتا ہے۔ جوزا میں تیزی طراری، چالاکی، دل آویزی اور کسی بحران میں بھی پُرسکون رہنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور قوس ان خوبیوں کا خواہش مند ہوتا ہے، البتہ قوس میں جوزا کا طنز برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ دونوں کی رفاقت یقینا بے حد اثرآفریں ہو سکتی ہے۔

جوزا اور جدی کا ساتھ

جوزا ہوا اور جدی کا عنصر مٹی ہے۔ دونوں کے عنصر مخالف ہیں۔ علم نجوم کے قواعد کی رو سے دونوں میں کوئی موافق زاویہ¿ نظر نہیں ہے۔ ایک جدی شخصیت امن پسند اورکارگزار، مستقل مزاج، خاموش طبع، بلند کردار، محتاط اور منطقی سوچ کی حامل ہوتی ہے، جب کہ اپنی منفی خصوصیات میں شکی مزاج، سردمہر اور خودغرض، مزاحمت کرنے والی، یاسیت پسند، ضدی اور جلد برا ماننے والی ہے۔
جوزا اور جدی کا اتحاد، کوئی نیک شگون نہیں ہے۔ جدی کو ایک ٹھوس تعلق کی ضرورت ہوتی ہے اور جوزا میں بہت ہلکا پن، تلون اور ناپائیداری نظر آتی ہے جو جدی کے احساسات اور جذبات کو سرد کر سکتیہے۔ جوزا کو جدی میں بہت سستی اور سنجیدگی نظر آتی ہے، لہٰذا یہ جوڑی نامناسب رہتی ہے، تاہم جوزا کو جدی کی رفاقت میں سکوت حاصل ہو سکتا ہے، مگر بہت قلیل عرصے کے لیے۔ جدی جوزا کی گہرائی کا اندازہ نہیں کر سکتا اور اس کے بھیدوں کو بھی کبھی نہیں پا سکتا۔ جدی کے پاﺅں زمین میں گڑے ہیں۔ وہ ہواﺅں میں اُڑنے والی اس جڑواں مخلوق کو کبھی نہیں سمجھ سکتا۔ جدی کم آمیز اور خاموش طبع ہے جب کہ جوزا گپ باز ہے۔ وہ خیالوں کی دنیا میں رہتا ہے۔ جدی چٹان کی طرح ایک ہی جگہ جما رہتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں، لہٰذا ان کی رفاقت دیرپا نہیں ہو سکتی۔

جوزا اور دلو کا ساتھ

دونوں کا عنصر ہوا، علم نجوم کے قواعد کے مطابق دوستی اور موافقت کا زاویہ نظر رکھتے ہیں۔ ایک دلو شخصیت کے مثبت پہلو دیانت داری اور سچائی کی تلاش، نرم دلی اور ہمدردی، تخلیقی خصوصیات، کشادہ ذہنی، ہر دل عزیزی اور ملنساری ہیں، جب کہ منفی پہلو متلون مزاجی اور نرالے انداز، تغیرپذیری، بغاوت، وہم وغیرہ ہیں۔
یہ صحیح معنوں میں ایک انتہائی شان دار، پُرجوش اور دل چسپ رفاقت ہوگی۔ دلو کی بے مثال کارکردگی جڑواں بچے(جوزا) کو یقینا سحرزدہ کر سکتی ہے۔ وہ ہمیشہ جوزا کو اپنی طرف متوجہ رکھ سکتا ہے۔ دونوں ہی شدید نٹ کھٹ اور تھوڑے سے سنکی ہیں۔ دل کے معاملے میں دونوں محبت کے کھیل کو بڑی خوبی سے جاری رکھ سکتے ہیں۔ یہ ملاپ مقناطیسی ہے۔ دونوں بروج تصور پرست ہیں اور مستقل اس دنیا سے دور دوسرے جہانوں کی سیر کرتے رہتے ہیں اور جو مناظر دیکھتے ہیں ان پر مستقل انگشت بدنداں رہتے ہیں۔ کبھی کبھی سستانے کے لیے اس دنیا میں آجاتے ہیں۔ ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکتے ہیں اور ایک بار پھر انجانے جہانوں کی سیر کے لیے پرواز کر جاتے ہیں۔ جی ہاں! یہ سچ ہے کہ یہ دونوں مٹر کی پھلی ہیں دو دانوں کی طرح ایک جیسے ہیں، لیکن ان میں چند بنیادی فرق بھی ہیں۔ دلو ضدی ہے اور کبھی کبھی مشکلات کھڑی کر سکتا ہے، دونوں ہی بے انتہا تغیر پذیر بھی ہیں۔ یہ دونوں مل کر جتنی آسانی سے کما سکتے ہیں، اتنی ہی آسانی سے اُڑا بھی سکتے ہیں۔ بہرحال یہ ایک خوش گوار رشتہ ہے۔

جوزا اور حوت کا ساتھ

جوزا کا عنصر ہوا اور حوت کا پانی ہے۔ دونوں میں کوئی ربطِ خاص نہیں ہے۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق ان کے درمیان مخالفت کا زاویہ¿ نظر موجود ہے۔ حوت شخصیت کے نمایاں پہلو یہ ہیں: حساس اور آزاد فطرت، نرم دل اور خیال کرنے والا ترقی پسند، تخیلاتی، فطرت کا شائق اور کم آزاد، جب کہ اس کی منفی خصوصیات میں مبہم اور غیریقینی کیفیات، سست روی اور بے پروائی، الجھا ہوا انداز، غیرعملی اور کبھی کبھی عدم توازن شامل ہیں۔ آبی مچھلی(حوت) کو ہوا کے دوش پر سوار شوخ و شریر جوزا بہت دل چسپ اور پُرجوش لگے گا اور جوزا کو یہ مچھلی حد سے زیادہ حساس لگے گی۔ جوزا شخصیت مجلسی اور حوت خلوت پسند ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو دِق کر سکتے ہیں۔ دونوں ہی اپنی رو میں بہنے والے اور مسائل سے کترا کر بہت عمدگی سے نکل جانے والے ہیں۔ اگر دونوں ایک ہی دھارے میں بہنے کا آغاز کریں تو خطرناک نتائج لازمی ہیں۔ جوزا حوت کو سمجھنے اور تجزیہ کرنے کی کوشش میں اسے مکمل طور پر برباد کر سکتا ہے لیکن اس آبی مخلوق کو سمجھنا اس کے لیے قطعی ناممکن ہے۔ تاہم یہ دونوں باذوق ہیں اور دنیا کی عمدہ چیزوں کا شعور رکھتے ہیں اور یہی قدرِ مشترک دونوں کو ایک دوسرے سے قریب لانے کی موجب ہوتی ہے۔بہرحال یہ کوئی ٹھوس بنیادیں نہیں ہیں، جن پر شراکت کا عظیم الشان قلعہ تعمیر کیا جائے
[/c]
100

اور جوزا کا ساتھ

یہ پانی اور ہوا کا ساتھ ہے۔ دونوں کی ترجیحات مختلف ہیں۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق دونوں جڑواں بروج ہیں، اس لیے ایک دوسرے میں کشش محسوس کرتے ہیں لیکن دونوں کے درمیان موافقت یا عدم موافقت کا کوئی زاویہ نظر موجود نہیں ہے۔ جوزا شخصیت اپنے مثبت پہلوﺅں میں ہنس مکھ اور حاضر جواب،ہوشیار اور پُرجوش، ہمہ گیر اور زندہ دل، مصلحت اندیز اور موقع شناس جب کہ اس کے منفی پہلوﺅں میں قوت فیصلہ کی کمی، بے پروائی، بے ڈھنگاپن، خودپسندی، بے تکلفی وغیرہ شامل ہیں۔
سرطان اور جوزاکا باہمی تعلق عجیب ہے۔ اس جوڑی کے کامیاب ہونے کے روشن امکانات موجود ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی خامیوں اور خوبیوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ جوزا سرطان کو اپنی قوت متخیلہ سے انتہائی بلندی پر لے جا سکتا ہے۔ جوزا اور سرطان ایک سے زائد معاملات میں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ دونوں کو باتیں کرنا اچھا لگتا ہے، دونوں طویل داستانیں خوب مرچ مسالہ لگا کر مزاحیہ پیرائے میں بیان کر سکتے ہیں۔ دوسری قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں موڈی ہیں اور پل پل ان کا موڈ بدلتا رہتا ہے۔
دونوں ہی خواب و خیال کی دنیا میں رہنے والے ہیں اور مرکزنگاہ بننا پسند کرتے ہیں لیکن کیکڑا بہرحال بہت گھنا ہے۔ وہ کبھی اپنے جذبات یا خوف ظاہر نہیں کرتا جب کہ جوزا بہت کھلے دل کا ہے، وہ اپنا خوف، اپنے جذبات، خواب اور آرزو غرضیکہ سب کچھ بلاجھجک بیان کرتا ہے۔ جوزا ایک آزاد پنچھی بھی ہے جو آزادی کا متوالا ہے۔ یہی بات ان دونوں میں ٹکراو کا سبب بھی بن سکتی ہے، کیوں کہ سرطان حق ملکیت جتاتا ہے۔

سرطان اور سرطان کا ساتھ

اگرچہ دونوں یکساں خصوصیات کے حامل برج ہیں لیکن ان کی خصوصیات میں اس وقت کچھ فرق واقع ہو سکتا ہے جب دونوں میں سے کوئی ایک حد اتصال یا کسی دوسرے عشرے سے تعلق رکھتا ہو یا پھر دونوں کا انفرادی زائچہ پیدائش بھی دونوں کے درمیان تضادات کا سبب ہو سکتا ہے۔سرطان اور سرطان کی رفاقت اچھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس میں ہم آہنگی ہے اور اس بات کا غالب امکان ہے کہ یہ رفاقت پائیدار ثابت ہوگی۔ دو کیکڑے ساتھ بیٹھ کر ماضی کے ایام یاد کر سکتے ہیں جو ہمیشہ کے لیے بیت گئے ہیں۔ ماضی ان کے اعصاب پر سوار رہتا ہے اور وہ اسے کبھی نہیں بھولتے۔ دونوں ہی جذباتی اعتبار سے عدم تحفظ کا شکار رہتے ہیں اور شاید صرف اپنی ان ہی خصوصیات کی وجہ سے مکمل طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ انہیں ہمیشہ مستقبل کی فکر رہتی ہے اور وہ اپنے بڑھاپے کے لیے رقم جمع کرنے کی منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں۔ انہیں ہرو قت یہی خوف دامن گیر رہتا ہے کہ بڑھاپے میں انہیں کوئی نہیں پوچھے گا، وہ تنہا رہ جائیں گے، قلاش ہو جائیں گے، در در کی ٹھوکریں کھائیں گے وغیرہ۔ یہ سب سے بڑا خوف ہے جو ہر وقت ان کے اعصاب پر سوار رہا ہے۔ بہرحال اس بات کا امکان ہے کہ وہ اپنے خوف کے زیراثر لکیر کے فقیر ہو کر رہ جائیں اور زندگی سے زیادہ لطف اندوز نہ ہو سکیں گے۔ بہت سا خوف اور بہت سے آنسو، انہیں اس کی طرف سے محتاط رہنا چاہیے۔ اگرچہ کیکڑے میں بڑی امنگ اور ترنگ ہوتی ہے اور اگر آپ اس کی آدم بے زاری اور روٹھی روٹھی سی کیفیت کو نظرانداز کر دیں جو گاہےگاہے اس پر طاری ہوتی رہتی ہے تو یہ بڑے گرم جوش، حساس اور محبت کرنے والے لوگ ہیں۔

سرطان اور سنبلہ کا ساتھ

سرطان کا عنصر پانی اور سنبلہ کا مٹی ہے۔ دونوں کے درمیان ایک موافق تعلق موجود ہے۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق بھی دونوں کے درمیان موافق زاویہ نظر موجود ہے۔ سنبلہ شخصیت اپنے مثبت پہلوﺅں میں سلیقہ مند، معقولیت پسند، قاعدے قرینے کی خواہش مند، کچھ پُراسرارسی باتمیز ہوتی ہے، جب کہ اس کے منفی پہلو یہ ہیں: نکتہ چینی، اعتراض، تنگ نظری، کنجوسی، غیر ہم دردانہ رویہ وغیرہ۔
یہ ایک عمدہ جوڑی ہے۔ سنبلہ سرطان سے بہت فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ دونوں ہی محنتی ہیں، دونوں کوتحفظ چاہیے اور دونوں مہربان اور قدامت پسند ہیں۔ دونوں مل کر رقم پس انداز کر سکتے ہیں اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنا سکتے ہیں لیکن صرف ایک ہی دھڑکا ہے جو دونوں کو لگا رہتا ہے، آنے والے کل میں مالی تحفظ۔ سنبلہ کو سرطان کی مادرانہ شفقت اور تحفظ کی ضرورت ہے اور سرطان سنبلہ کے ٹھنڈے اور پُرسکون طور طریقے سے لطف اندو زہوتا ہے۔ دونوں ہی روایت پسند ہیں۔ مسئلہ اس وقت کھڑا ہو سکتا ہے جب کیکڑا ہر چیز پر اپنی ملکیت جتانے لگے اور یہ بھول جائے کہ سنبلہ کو آزادی اور تخلیہ بہت عزیز ہے۔ درحقیقت کیکڑا بھی بہت انفرادی اور گھنا ہے، لہٰذا جب سنبلہ یہ محسوس کرتا ہے کہ کیڑا اس پر حاوی ہو رہا ہے اور کچھ زیادہ ہی حق جتا رہا ہے تو وہ شدید ردعمل ظاہر کرتا ہے اور اس پر تنقید کی بوچھاڑ کر دیتا ہے اور یہ تنقید کیکڑے کو واپس اس کے خول میں لے جاتی ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے کی اس خامی کو مدنظر رکھنا چاہیے تو یہ جوڑی بہت شان دار ہوگی۔

سرطان اور میزان کا ساتھ

سرطان پانی اور میزان ہوا ہے۔ دونوں کے عناصر میں ربطِ باہمی نہیں ہے۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق دونوں برج مخالف زاویہ¿ نظر رکھتے ہیں۔ میزان شخصیت اپنے مثبت پہلوﺅں میں نفیس اور باسلیقہ، متوازن اور انصاف پسند، ہوشیار و باتدبیر ہے، جب کہ اپنی منفی خصوصیات میں سست اور آرام طلب، ڈھلمل یقین، خودغرض اور بے ثبات، متذبذب اور الگ تھلگ ہے۔
سرطان اور میزان کی رفاقت ایک قلیل مدت کے لیے نہایت شان دار ثابت ہو سکتی ہے۔ دونوں ہی ایک دوسرے کی رفاقت میں ہنس بول سکتے ہیں اور خوب لطف اندوز ہو سکتے ہیں لیکن تھوڑی دیر کے لیے۔ ان دونوں کی بنیادی خصوصیات ایک دوسرے سے اتنی مختلف ہیں کہ ہنسی مذاق اور راگ رنگ کی یہ محفل بہت جلد اُجڑ جاتی ہے۔ دونوں کے درمیان اہم نوعیت کے اختلافات بہت سے ہیں لیکن اگر دونوں ایک دوسرے سے سیکھنے کے متمنی ہوں تو یہ رفاقت نبھ سکتی ہے۔ سرطان پیسے جمع کرنے کا شوقین ہے اور میزان کو بھی اس کا کچھ کم شوق نہیں ہے لیکن میزان اپنی حد سے زیادہ عیاشی اور رنگ رلیوں کے سبب اپنی صحت تباہ کر لیتا ہے، جب کہ سرطان کی صحت اس کی حد سے بڑھی ہوئی یاسیت زدگی کی وجہ سے تباہ ہو جاتی ہے۔ میزان منطق اور استدلال کا حامی ہے اور سرطان سرتاپا حساس اور جذبات سے بھرپور ہے لیکن اس کے جذبات خول میں بند رہتے ہیں۔ میزان امن پسند ہے اورکیکڑا چمٹے رہنے والا ہے جو آسانی سے ہار نہیں مانتا۔ اگر دونوں ایک دوسرے سے سیکھنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں تو اس رفاقت کا نتیجہ اچھا نکل سکتا ہے۔

سرطان اور عقرب کا ساتھ

سرطان اور عقرب کا عنصر پانی اور علم نجوم کے قواعد کے مطابق دونوں برج باہم موافقت کا زاویہ نظر رکھتے ہیں۔ عقرب شخصیت کی مثبت خصوصیات میں بلند حوصلگی، باتدبیری، باریک بینی، ہوشیاری اور موقع شناسی اور اقتدار پسندی شامل ہے جب کہ منفی خصوصیات میں تسلط پسندی، حسد اور جلن، چالاکی، طنز و تشدد اور غرور نمایاں ہیں۔ سرطان اور عقرب کی جوڑی مضبوط ترین رفاقتوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس رفاقت میں سرطان اتنا ہی پنپتا ہے جتنا عقرب پنپ سکتا ہے۔ عقرب میںسرطان کے لیے زبردست مقناطیسی کشش ہے اور سرطان عقرب کی تمام تر طاقت اور پُراسراریت کے باعث شدت سے اس کی طرف کھنچتا ہے۔ یہ دونوں بروج تحفظ اور عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا ہیں۔
دونوں یقین اور غیریقینی کے تذبذب کا شکار ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں حقائق سے آگاہ ہیں اور دونوں اپنے بارے میں بھی خوب جانتے ہیں، لہٰذا دونوں ایک دوسرے پر بھروسا کرتے ہیں۔ سرطان اور عقرب کے نزدیک ان کا ماضی بہت اہم ہے۔ وہ اسے کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ دونوں اپنے بچپن کو یاد کرتے ہیں اور ماضی سے چمٹے رہتے ہیں۔ دونوں کے اعصاب پر پیسہ سوار ہے، جس کی کمی انہیں ہمیشہ محسوس ہوتی رہتی ہے، لہٰذا دونوں پیسے کے حصول کی جدوجہد میں لگے رہتے ہیں۔ یہ قدر مشترک دونوں کو ساتھ ساتھ رکھتی ہے۔

سرطان اور قوس کا ساتھ

سرطان اور قوس پر پانی اور آگ کی شراکت ہوگی۔ دونوں کے درمیان عناصر میں مخالفت موجود ہے جب کہ علم نجوم کے قواعد کے مطابق دونوں کے درمیان کوئی زاویہ نظر نہیں ہے۔ قوس شخصیت اپنے مثبت پہلوﺅں میں بے خوف اور صاف گو، کھلنڈری، متجسس اور ذہین، فراخ دل، خوش مزاج اور آزاد ہوتی ہے جب کہ اس کی منفی خصوصیات میں شیخی خور، جارح فطرت، ضرورت سے زیادہ پُراعتماد، بے سلیقہ، قوت ارتکاز سے عاری اور مبالغہ آرائی ہے۔
سچی بات تو یہ ہے کہ سرطان اور قوس ایک دوسرے کے لیے بنے ہی نہیں۔ باہر کی دنیا اور اسپورٹس کا شیدائی قوس سرطان کے ساتھ گھر میں بند ہو کر نہیں بیٹھ سکتا۔ وہ سیر و سیاحت کے لیے اِدھر اُدھر جانا چاہتا ہے جب کہ سرطان کو نجی محفلوں میں ایک پُرتکلف ماحول میں رہنا پسند ہے۔ کیکڑا جذباتی ہے اور چمٹے رہنا چاہتا ہے، جب کہ قوس آزاد پنچھی ہے اور ہر دم حرکت میں رہنا چاہتا ہے۔ قوس کی ایک کم زوری یہ ہے کہ وہ چالاک نہیں ہے اور کیکڑے کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ وہ حد سے زیادہ حساسہے۔ دوسری اختلافی وجہ یہ ہے کہ قوس پیسہ خرچ کیے بغیر نہیں رہ سکتا اور سرطان یہ برداشت نہیں کر سکتا، البتہ دونوں کچھ معاملات میں ایک دوسرے کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ قوس سرطان کو ہنسا سکتا ہے اور سرطان کی احتیاط پسندی اور حساسیت قوس کے کام آسکتی ہے۔ بہرحال یہ ایک مشکل رفاقت ضرور ہے۔

سرطان اور جدی کا ساتھ

سرطان کا عنصر پانی اور جدی کا مٹی ہے۔ دونوں کے درمیان حقیقی رشتہ موافقت موجود ہے۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق یہ دونوں مقابل کے برج ہیں، یعنی دونوں ایک دوسرے سے ساتویں نمبر پر واقع ہیں اور ساتواں گھر شراکت اور تعلقات سے منسوب ہیں۔ چناں چہ دونوں عمدہ شریک کار یاشریک حیات بن سکتے ہیں۔
جدی شخصیت اپنی مثبت خصوصیات میں حقیقت پسند، جرات مند، عملی، مستقل مزاج، ہم درد و بلند کردار، خاموش طبع اور محتاط منطقی اور محنتی ہیں جب کہ اس کی منفی خصوصیات میں سردمہری اور شک، خودغرضی، خودسری، ضد اور مزاحمت، زود رنجی اور یاسیت شامل ہیں۔
سرطان اور جدی کی شراکت نہایت شان دار ہے۔ یہ ایک عمدہ اور محفوظ رفاقت ثابت ہوتی ہے۔ جدی سرطان کو تحفظ اور چاہے جانے کا احساس لائے گا اور سرطان جدی کو ہنسائے گا، رُلائے گا اور اسے اس کی اہمیت کا احساس بھی دلائے گا۔ دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہیں گے۔ یہ رفاقت پیسہ کمانے کے معاملے میں بھی شان دار ہے۔ دونوں کو جمع کرنے کا شوق ہے۔ انہیں نوادرات سے اتنی ہی محبت ہے جتنی تاریخ سے اور گزرے ہوئے ایام سے۔ فن کارانہ چیزیں اور موسیقی بھی ان کے دلوں کو لبھاتی ہے۔ یہ دونوں چوں کہ دو مختلف سیاروں کے محکوم ہیں، لہٰذا بے حد مختلف فطرت کے مالک ہیں۔ کیکڑا(سرطان) جذباتی ہے۔ وہ انحصار کرنے اور خواب دیکھنے والا ہے۔ بکری(جدی) عملی، خودکفیل اور حقیقت پسند ہے۔ ان دونوں میں وہ خوبیاں ہیں جو ایک دوسرے کو درکار ہیں مگر دل چسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں کے تعلقات میں اس بات کا امکان موجود ہے کہ یا تو دونوں میں مکمل ہم آہنگی ہوتی ہے یا پھر یکساں طور پر عدم مطابقت ہوتی ہے، جس سے گھر میدان جنگ بن سکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ دونوں کی خصوصیات میں یکسانیت بھی ہے اور اختلاف بھی۔ چوں کہ کیکڑابے حد جذباتی اور حساس ہے، لہٰذا بکری کو بھی زیادہ حساس ہونا پڑے گا۔ اس رفاقت میں دونوں ایک دوسرے سے بہت کچھ نہیں سیکھ سکتے اور یہی دونوں کے حق میں بہتر ہوگا۔

سرطان اور حوت کا ساتھ

سرطان اور حوت دونوں آبی برج ہیں۔ دونوں کے درمیان عناصر کے اعتبار سے موافقت موجود ہے۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق حوت سرطان سے نواں برج ہے اور سرطان برج حوت سے پانچویں نمبر پر ہے۔ گویا حوت سرطان کی قسمت اور سرطان برج حوت کا محبوب ہے۔ دونوں کے درمیان زبردست موافقت کا زاویہ موجود ہے۔
برج حوت کی اپنے مثبت پہلوﺅں میں حساس اور آزاد فطرت، نرم دل اور ہم درد، ترقی پذیر اور متاثر کرنے والا تخیلاتی اور فطرت پسند ہے جب کہ اس کی منفی خصوصیات میں غیریقینی کیفیات، مبہم انداز، سست روی، بے پروائی، غیرعملی، غیرمتوازن سا ہونا شامل ہیں۔
سرطان اور حوت کی جوڑی نہایت شان دار ہو سکتی ہے۔ مچھلی اور کیکڑا دونوں پانی کی مخلوق ہیں اور جبلی طور پر اور وجدانی اعتبار سے ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ یہ دونوں بروج خیال پرست اور جذباتی ہیں۔ بے شک ان کی رفاقت ایک دوسرے کے لیے سکون بخش ثابت ہو سکتی ہے۔ دونوں ہی متلون مزاج ہیں۔ اگر دونوں میں مقابلہ ہو کہ کون زیادہ متلون مزاج ہے تو غالباً حوت یہ مقابلہ جیت جائے گا۔ مچھلی کو پیسے سے زیادہ دل چسپی نہیں لیکن کیکڑے کے لیے نوٹوں کی بو اور کڑکڑاہٹ بڑی مسحورکن اور مدہوش کردینے والی ہوتی ہے۔ سرطان حوت کو پیسے کی اہمیت کے بارے میں لاکھ قائل کرنے کی کوشش کرے لیکن وہ اس طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا۔ اسے کیکڑے کی جمع پونجی سے کوئی دل چسپی نہیں ہوگی۔ مچھلی درحقیقت اس معاملے میں کیکڑے سے بالکل اُلٹ ہے۔ وہ کبھی بچت نہیں کر سکتی، لہٰذا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ حوت افراد بے حد فضول خرچ ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ دونوں گھر سےمحبت کرتے ہیں اور زیادہ عرصے تک بے گھر رہنا برداشت نہیں کر سکتے، ہاں مگر کبھی کبھی دونوں اِدھر اُدھر مٹرگشت کرنے کی شدید آرزو کرتے ہیں لیکن سرطان کی اپنے گھر سے محبت بہرحال اوّلیت رکھتی ہے۔

[/c]
Pages: 1 ... 9 [10]