محبتیں جب بوجھ ہو جائیں تو
ان میں گرفتار لوگ
پچھتاوں کی لہروں پہ حسرتوں کی ناؤ کو بن پتوار چھوڑ دیتے ہیں
ہم نے دیکھا ہے
پھر ساحل نہیں ملتا
اور کشتیاں ڈوب جاتی ہیں
اب ساحل کی تمنا کس کو ہے !!
پر گھڑی وہ کیوں نہیں آتی
سمندر کے گہرے نیلے پانیوں میں جب ہم کو ڈوب جانا ہے
اور ان آنکھوں میں رکے سب آنسوؤں نے
جب اپنے ساحل کو پانا ہے