شاعر بقلم خود
میں شاعر ہوں، مجھے تم نے کیا سمجھ رکھا ہے
شعر لکھتا ہوں بقلم خود، کیا چور سمجھ رکھا ہے
میرے سامنے کیوں کھڑے ہو یوں سر کو جھکائے
جاوید فقط شاعر ہے، کیا اسے حجام سمجھ رکھا ہے
انتقام
دم مرگ ایک شوہر کہہ رہا تھا اپنی بیوی سے
کہ میرے بعد کر لینا فلاں دشمن سے تم شادی
کیا برباد جس نے اس کو کیسے چھوڑ دوں بیگم
تمہارے ہی وسیلے سے تو ہوگی اس کی بربادی
چندا
کل اک چاند سی لڑکی کو دیکھا تو ہو گیا دل بے قابو
کہہ دیا سامنے جا کے پیار سے میں نے اس کو چندا
فوراً ١٠ روپے نوٹ تھما کے آگے سے وہ بولی
یہ تو بتلا دو کس مسجد کا مانگ رہے ہو چندہ
تابعدار شوہر
مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کر دیا ہوتا
نہیں سمجھا تھا جب میں تو دوبارہ کر دیا ہوتا
تمہیں تو علم ہے بیگم، میں تابعدار شوہر ہوں
زرا سا حکم ہی کرارا کر دیا ہوتا