جلتے دیے کے سامنے
جھونکا ہوا کا دیکھ کر
تم کیوں اداس ہوگئے
موسم خزاں کا دیکھ کر
تم دکھوں کے سوز کا
موسموں کے روگ کا
درد مت سہا کرو
اداس مت ہوا کرو
یہ درد ہیں حٰات کے
کچھ رنگ کائنات کے
کچھ دکھوں کی تیز بارشیں
کچھ پھول ہیں نشاط کے
تم پھول بس چھوا کرو
اداس مت ہوا کرو