Author Topic: رُوٹھا تو شہرِ خواب کو غارت بھی کر گیا  (Read 593 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline Super boy

  • Moderator
  • *
  • Posts: 4179
  • Reputation: 582
  • Gender: Male
رُوٹھا تو شہرِ خواب کو غارت بھی کر گیا


رُوٹھا تو شہرِ خواب کو غارت بھی کر گیا
پھر مسکرا کے تازہ شرارت بھی کر گیا

شاید اُسے عزیز تھیں آنکھیں میری بہت
وہ میرے نام اپنی بصارت بھی کر گیا

مُنہ زور آندھیوں کی ہتھیلی پہ اِک چراغ
پیدا میرے لہو میں حرارت بھی کر گیا

بوسیدہ بادبان کا ٹکڑا۔۔ہوا کے ساتھ
طوفاں میں کشتیوں کی سفارت بھی کر گیا

دِل کا نگر اُجاڑنے والا ہنر شناس!
تعمیر حوصلوں کی عمارت بھی کر گیا

سب اہلِ شہر جس پہ اُٹھاتے تھے اُنگلیاں
وہ شہر بھر کو وجہِ زیارت بھی کر گیا!

*محسن* یہ دِل کہ اُس سے بچھڑتا نہ تھا کبھی
آج اُس کو بھولنے کی جسارت بھی کر گیا

   
Ghalat Jagah Te Laayii,Ghaltii Sadii Si
Utto'n Keeti Laa Parwayii,Ghaltii Sadi Si
Ohda Kuj Gya Nai Saada Kuj Rehya Nai
Bewafa Naal Layi Yarii Ghaltii Sadii Si...!!!


Offline anjumkhan

  • Sr. Member
  • *
  • Posts: 1623
  • Reputation: 1664
  • Gender: Female
    • Email
Re: رُوٹھا تو شہرِ خواب کو غارت بھی کر گیا
« Reply #1 on: January 22, 2010, 03:27 AM »
 thanks thumbsss very nice

Bhlay Cheen lo muj sy meri jawani.
Mager muj ko lota do Bajpan ka sawan.
Wo kaghaz ki kashti wo barish ka pani.