Author Topic: عذاب بالثواب  (Read 281 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline Shani

  • Newbie
  • *
  • Posts: 130
  • Reputation: 0
عذاب بالثواب
« on: March 01, 2010, 06:15 PM »
ایک تو ہُوا وی آئی پی پروٹوکول کا عذاب بالثواب۔ عذاب عوام کے لئے اور اس کا ثواب اس وی وی آئی پی کے لئے جو ایسی عذابیہ خدمت کے لئے کسی شہر یا بستی میں نزول فرما چکا ہو اور اس شہر یا بستی کی ہَوائیں اور فضائیں چلا چلا کر خوشخبری سُنا رہی ہوں کہ ”بھینوں تے بھائیو‘ بچو اور بوڑھو دروازے اور کھڑکیاں بند کر لو! پھر رہا ہے شہر میں وی آئی پی کھلا“ مگر کیا اس وی آئی پی کلچر کے ضابطہ فساد بالعذاب میں صرف پروٹوکول ہی شامل ہے؟ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اہل شعور کے منتخب کئے ہوئے صدر کوئٹہ تشریف لے گئے اس شہر اور صوبے کی خوش بختی ہی کہا جا سکتا ہے ان کا نزو ل وہاں پر۔ خوش بختی اور خوشیوں کے اس طوفان میں شہر کی سڑکیں بند ہو گئیں اور ایک خاتون کو رکشے میں ہی بچے کو جنم دینے کے مصائب سے گزرنا پڑ گیا اور کتنے عوام کو کس کس اور کیسے کیسے عذاب سے گزرنا پڑا ہو گا؟ جس بھی کسی نے ایسے عذاب کو چکھا ہوا ہے اندازہ کر سکتا ہے۔ ان کی یعنی آصف علی زرداری کی جمہوریت کے چیف سید ابو استثنیٰ گیلانی سے کسی نے اس عذاب برائے ثواب و خدمت کی بات کی تو انہوں نے فرمایا تھا ”پھر کیا ہُوا جس کے بچے نے پیدا ہونا ہوتا ہے وہ تو ہوائی جہاز میں بھی پیدا ہو جاتا ہے“ سب کہیں سبحان اللہ! اگر ان سے کہا جائے کہ جس کسی نے مرنا ہو وہ تو ہسپتال کے وی آئی پی وارڈ کے دورہ کے دوران بھی مر جاتا ہے‘ رات کو سوئے تو صبح موت کی آغوش میں‘ کر سکتا ہے۔ آپ کی بی بی جلوس میں کہیں سے آئی گولی لگنے سے شہید ہو گئی تو کیا ہوا؟ موت نے تو آنا ہی تھا دنیا بھر کے ماہرین تحقیق و تفتیش کو کیوں تکلیف دے رہے ہو؟ ملک کے غریبوں کی خون پسینے کی کمائی کیوں لگا رہے ہو؟ تو اسے کیا کہیں گے سید ابو استثنیٰ اور ان کے پارٹی اور جمہوریت کے مالک و مختار؟ کہیں گے وہ اسے کہنے والے کی جہالت کے سوا کچھ اور؟ وہ کوئی بھی ہو جو بھی کوئی وی آئی پی نہیں اسے ایسی جہالت کے اظہار کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ غیر وی آئی پی جہالت کا حق۔ اب سنتے ہیں کہ سید ابو استثنیٰ گیلانی کے آقا و مولیٰ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پاک باز صدر آصف علی زرداری نے مبلغ پانچ لاکھ روپے اس خوش عذاب بچے کی والدہ محترمہ کو دینے کا اعلان فرما دیا ہے اپنی جیب سے؟ یا اپنے اہل شعور غریب غرباءعوام کی خون پسینے کی کمائی سے؟ پوچھ سکتا ہے کوئی ایسا جاہلانہ سوال سید ابو استثنیٰ گیلانی سے؟ اگر وہ وہی جواب دیں جو دیا کرتے ہیں کہ ”ہمیں تو عوام نے منتخب کیا ہوا ہے“ تو کیا کہہ سکیں گے آپ؟ پانچ سال انتظار کریں او ر پانچ سال بعد عوام کی عدالت میں شکایت گزاریں کہ تمہارے ہی خرچ پر عذاب سارا تمہارے لئے اور تمہارے خرچ پر تمہیں دئیے‘ ہر قسم کے عذاب کا ثواب حکمرانوں کے لئے؟ کیوں ؟ ایک عذاب کے بدلے میں پانچ لاکھ کا مزید عذاب مقدر ہے ہم عوام کا۔ کیا دنیا کا امیر ترین حاکمِ ملک و قوم وہ پانچ لاکھ اپنے خزانے سے نہیں دے سکتا تھا؟ نہیں ہرگز نہیں۔ انہیں عوام کے منتخب کئے ہووں نے منتخب نہیں کیا ہوا؟ جو چاہے ان کا حُسنِ عذاب کرے۔ یہ حق تو وہ کہتے ہیں آپ عوام نے ہی انہیں دیا ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بھی اس عذاب کے مزید ثواب کے لئے ایک لاکھ روپے دینے کا اعلان کر دیا ہے اپنے سرداری فنڈ سے؟ اور سید ابو استثنیٰ گیلانی نے اس لڑکی کی بی اے تک کی تعلیم کے اخراجات ادا کرنے کی خوشخبری نشر فرما دی ہے یعنی ”پھر کیا ہوا؟ لڑکوں کی جنس بھی تو بدل سکتی ہے“ جیسے حکمرانی کی جنس۔ والدین نے اس بچے کا نام ظفر خان رکھا تھا۔ عذاب برائے ثواب پر فتح پا لینے والا۔ مگر صاحبِ عذاب صدرِ پاکستان کی کسی عاشقہ نے اختلاف کیا اور کہا کہ نام تو اس کے نام پر ہونا چاہیے جس نے اس بچے کو رکشہ میں پیدا ہونے کا منفرد اعزاز بخشا ہے۔ والدین کو ان کا احسان تسلیم کرنا پڑا‘ اب سُنتے ہیں انہوں نے ”آصف علی“ نام رکھ دیا ہے مگر زرداری کیوں نہیں؟ اس لئے کہ زر اور زور نہیں اس بچے کے پاس؟ ویسے بچے کا نام این آر او خان رکھا جاتا تو این آر او قبیلہ زیادہ شاداں و فرحاں ہو جاتا۔ وہ عذاب بھی دے ہے اور وہی لے ثواب الٹا۔ جس سوچ‘ فہم و شعور اور ایثار و قربانی کا فدایانہ مظاہرہ کیا ہے نام بدلوانے والوں نے اور عوام کے خزانے سے لاکھوں دینے والوں نے وہ بھی وی آئی پی اور وی وی آئی پی طبقہ کے اخلاقِ عالیہ کا ہی حصہ ہے۔ اگر کوئی غیر وی آئی پی ایسا کرے تو نہیں قرار پائے گا وہ جاہل مطلق العنان؟ وی آئی پی اور وی وی آئی پی طبقہ کا اور اس طبقہ کے فدائین کا اپنا الگ معیارِ عدل و انصاف ہے‘ اپنا الگ دستورِ تعاون و حکمرانی ہے۔ ان سب کو جانچنے اور پرکھنے کے معیار بھی ان کے اپنے ہیں جن کا ہم عوام سے کوئی تعلق نہیں۔ اس لئے سب ہی اس عطا کی تعریف و توصیف کے مقابلے کی دوڑ میں لگے ہیں دوہرے عذاب کی تعریف و توصیف کے مقابلے کی دوڑ میں۔ یہ انہی کا کام ہے جن کے مرتبے ہیں بلند‘ کوئی اور کرے تو جاہل باجے!

Offline Allahwala

  • Sr. Member
  • *
  • Posts: 1337
  • Reputation: 6
  • Gender: Male
    • Email
Re: عذاب بالثواب
« Reply #1 on: April 13, 2011, 07:35 AM »
thanks for sharing  sml


Offline OLD MEN

  • Full Member
  • *
  • Posts: 396
  • Reputation: 0
  • Gender: Male
Re: عذاب بالثواب
« Reply #2 on: May 30, 2011, 04:52 PM »
nice sharing thanks  fllove