Author Topic: ہو گاستارکوئی بڑھ کے تیری ذات سے کیا....!  (Read 238 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline Shani

  • Newbie
  • *
  • Posts: 130
  • Reputation: 0
کیا یہ ایک فیشن ہے یا محبت ہے؟ ....
یکایک ٹیلی ویژنوں کے چھم چھم کرتے اور دھک دھک کرتے پروگراموں کے بیچ گنبد خضریٰ کی تصویریں نظر آنے لگیں۔ درودوصلٰوة کی مہکار اٹھی اور ربیع الاول کے حرمت والے مہینے کا اعلان ہونے لگا۔ پھر باری باری ہر شہر کو سجائے جانے، محافل میلاد کروانے اور بارہ ربیع الاول کی مناسبت سے جلسے اور جلوس کے منعقد کرنے کے اعلانات ہونے لگے۔ ماحول کی بے راہ روی میں ایک اسلامی ملک سے ان آوازوں کا بلند ہونا بہت اچھا لگا.... نبی آخرالزمان کے میلاد کی خوشی میں، مسلمانوں کا بازار سجانا، چراغاں کرنا، ثنا خوانی کرنا، عقیدت و احترام کی محفلیں سجانا، ذکر اور فکر کے موتی لٹانا سمجھ میں آتا ہے۔ یہ مسلمانوں کا عقیدہ ہی نہیں ایمان ہے اور ایمان پر سب قربان ہے۔
اللہ تعالی سورہ آل عمران میں فرماتا ہے.... آپ فرما دیجئے کہ اگر تم خدا تعالی سے محبت رکھتے ہو تو تم لوگ میری اتباع کرو اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے تمام گناہ معاف کر دے گا اللہ بڑا معاف کرنے والا اور بڑی عنایت کرنے والا ہے....“ سورہ النساءمیں ارشاد ربانی ہے جس شخص نے رسول اللہ کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالی کی اطاعت کی....“
سب جانتے ہیں ایسے احکامات روز پڑھتے ہیں لیکن اطاعت اور محبت کے معانی سمجھنے سے قاصر ہیں۔ وہ ایک مہینہ جو محبت کے اظہار کے لئے ہم نے وقف کر رکھا ہے کیا اس ایک مہینے میں ہماری گفتار ہمارے کردار اور ہمارے اعمال میں کچھ فرق پیدا ہوتا ہے۔ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لے کر بتا سکتے ہیں کہ محبت کے تقاضوں نے ہمارے اندر کس قدر تبدیلی پیدا کی۔ کیا سیکھا.... کیا چھوڑا.... کیا اپنایا.... کس کس کا حق ادا کیا۔ اللہ کی راہ میں کتنا خرچ کیا۔ جھوٹ اور غلو سے کتنا پرہیز کیا۔ وعدوں کو کس حد تک نبھایا.... یا صرف مجالس کی حد تک اور نعت خوانی کی حد تک ہم اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ سورہ النساءمیں ارشاد ربانی ہے۔ ”....اور جو شخص اللہ تعالی اور اس کے رسول کا کہنا نہ مانے گا اور بالکل ہی اس کے ضابطوںسے نکل جائے گا۔ اس کو آگ میں داخل کریں گے۔ اس طور سے کہ وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ اس کو مستقل سزا ہو گی اس سزا میں ذلت بھی ہو گی....“
آج ہمارا ملک ایک مسلسل بے سکونی میں گرفتار ہے۔ اللہ کی تمام نعمتیں موجود ہونے کے باوجود کسی شعبے میں بھی خود کفیل نظر نہیں آتا۔ اغیار کے آگے ہاتھ پھیلا رہا ہے۔ سود در سود قرضوں میں جکڑا جا رہا ہے۔ جس ملک کو گندم میں خود کفیل ہونا تھا وہ حرص وہوس بو رہا ہے جس شخص کو دیکھو وہ دولت اور راحت کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ ہر معاملے میں جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔ جس معاشرے میں حد سے زیادہ جھوٹ بولا جائے اس معاشرے سے برکت اڑ جاتی ہے۔ آج ربیع الاول کا مقدس مہینہ خود جمیع مسلمانوں سے پوچھ رہا ہے کہ کیا تم واقعی اطاعت گزار اور پیروکار ہو....؟
احادیث مبارکہ میں حضور انور کے ارشاد کی روشنی میں ہر شخص اپنے اعمال اور کردار کو جانچنے کی ایک کوشش بھی اس مہینے میں کر لے.... تو کتنا اچھا ہو....
1....آپ نے فرمایا.... چار صفات ایسی ہیں۔ جس میں یہ پائی جائیں وہ منافق ہے۔
(1)امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔
(2).... بولے تو جھوٹ بولے۔
(3)....عہد کرے تو اسے توڑ دے۔
(4)....لڑے تو شرافت کی حد سے گزر جائے۔
2.... اصل مجاہد وہ ہے جو خدا کی فرمانبرداری میں خود اپنے نفس سے لڑے اور اصلی مہاجر وہ ہے جو ایسے تمام کام چھوڑ دے جسے اللہ نے منع فرمایا۔
3....مومن وہ ہے جس سے لوگوں کی جان اور مال کو کوئی خطرہ نہ ہو۔
4....ایمان، تحمل اور فراخ دلی کا نام ہے۔
5.... تم میں سے سب سے کامل ایمان اس شخص کا ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں اور جو اپنے گھر والوں کے ساتھ حسن سلوک میں سب سے بڑھا ہوا ہے۔
6....جو شخص اپنا غصہ نکالنے کی طاقت رکھتا ہو اور پھر ضبط کر جائے اس کے دل کو اللہ ایمان اور اطمینان سے لبریز کر دیتا ہے۔
7خدا کی قسم وہ مومن نہیں، خدا کی قسم وہ مومن نہیں، خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے جس کی بدی سے اس کا ہمسایہ امن میں نہ ہو۔
8.... جھوٹی گواہی اتنا بڑا گناہ ہے کہ شرک کے قریب پہنچ جاتا ہے۔
9....بہترین ایمانی طاقت یہ کہ دوستی و دشمنی خدا کے واسطے ہو۔ تیری زبان پر خدا کا نام جاری ہو۔ تو دوسروں کے لئے وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لئے کرتا ہے۔
10.... جس شخص نے عیب دار چیز بیچی اور خریدار کو عیب سے آگاہ نہ کیا اس نے خدا کے غصے کو دعوت دی اور فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔
12.... جس نے چالیس دن غلہ اس نیت سے روکے رکھا کہ قیمتیں چڑھ جائیں تو بیچے گا، چالیس دن اس خیال سے روکنے کے بعد اگر وہ تمام غلہ خیرات بھی کر دے تو معاف نہیں کیا جائے گا۔
سرکار دوعالم کے ان چند فرمودات ہی کی روشنی میں .... اپنا اپنا محاسبہ کریں.... مگر کون کرے.... وہ تو اپنے آپ کو مطمئن کر لینے کی تاویلیں گھڑے ہوئے ہیں۔ میں ایک مرتبہ امریکہ کے ایک سٹور میں تھی۔ میں نے ایک چیز خریدی جو بظاہر بہت دلکش تھی جب کاﺅنٹر پہ گئی تو سیلز گرل باہر نکل آئی اور بولی آپ یہ نہ خریدیں اس میں نقص ہے۔ میں نے کہا کہاں نقص ہے۔ اس نے نکال کر دکھایا جو مجھے نظر نہیں آ رہا تھا.... میں حیران رہ گئی.... اور پھر اداس بھی ہو گئی یہ سوچ کر کہ ہمارے ہاں دکانداری میں یہ دیانت دارانہ رویہ نہیں ہے.... اہل مغرب نے یہ باتیں کہاں سے سیکھیں۔ ظاہر ہے انہوں نے اسلام کی اچھی باتیں اپنائیں۔ یہاں یہ عالم ہے بعض دکانداروں نے دکان کے اوپر حدیث مبارکہ لکھ کر لٹکائی ہوتی ہے.... مگر برابر ناقص مال بیجتے رہتے ہیں اور تول میں جھوک دیتے رہتے ہیں اور جھوٹی قسمیں کھاتے رہتے ہیں۔
چینی عنقا ہو گئی۔ ساری ملیں تو متمول اور مقتدر مسلمانوں کی تھیں۔ 18 روپے کلو سے 70 روپے کلو پر لے آئے۔ کیا محفل میلاد سجانے سے بخشے جائیں گے۔ گندم میں تو یہ ملک خودکفیل تھا کہاں چلا گیا آٹا.... اپنے مفاد کی خاطر چھپایا یا سرحد پار بھیجا غریب کو مفلس اور مجبور کیا.... ساری مارکیٹ میں چراغاں کر دیں کیا بخشے جائیں گے۔ اس ملک میں اشیائے خوردنی واجناس میں کسی چیز کی کمی نہیں۔ کمی ہے تو جذبہ ایمانی اور اطاعت مسلمانی کی....!
سب آجر تاجر، غریب امیر، بڑے چھوٹے، حکمران عوام.... سارا سال نہ سہی اس ایک مہینے ہی کے احترام میں اپنے طرز عمل میں بہتری پیدا کر لیا کریں۔ تیس دن صرف تیس دن محبت کا تقاضا تو نبھائیں۔
میرے ہر جرم کو رحمت نے تیری ڈھانپ لیا
ہو گا ستار کوئی بڑھ کے تیری ذات سے کیا ؟

Offline Allahwala

  • Sr. Member
  • *
  • Posts: 1337
  • Reputation: 6
  • Gender: Male
    • Email
thanks for sharing  sml


Offline OLD MEN

  • Full Member
  • *
  • Posts: 396
  • Reputation: 0
  • Gender: Male
nice sharing thanks  fllove