Author Topic: گھر گھر ہائیکورٹ  (Read 442 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline Shani

  • Newbie
  • *
  • Posts: 130
  • Reputation: 0
گھر گھر ہائیکورٹ
« on: March 20, 2010, 04:02 PM »
مجوزہ آئینی پیکیج کا گاہے بگاہے ڈھکن کھول کر ”ہواڑ“ نکالی جاتی ہے تو اس کے محسوس ہونے والے ذائقے سے دل کی خوشی اور طمانیت کا اہتمام ہونے کی بجائے متلی کی کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے طے شدہ معاملات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ جاری رکھنے کی عادت پوری کی جا رہی ہو۔ عادت کی یہ مجبوری ویسی ہی ہے جیسے بچھّو اپنی جان بچانے والے کچھوے کی پیٹھ پر بیٹھے اسے ڈنک مارنے پر مجبور ہوتا ہے۔
آئینی پیکیج کے ذریعے جو کرنے کا اصل کام ہے، اس راہ پر تو آنہیں رہے، بس ”جھاکا“ دیئے جا رہے ہیں۔ بس نوید سنائے چلے جا رہے ہیں، ٹرخائے چلے جا رہے ہیں مگر جب بھی اور جہاں بھی داﺅ لگتا ہے، عدلیہ کو آئینی پیکیج کا چھانٹا لگانے کیلئے ضرور کمربستہ ہو جاتے ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کے تقرر کے ایشو پر منہ کی کھانے کے بعد مجوزہ آئینی پیکیج کا ڈھکن کھول کر جو ہواڑ نکالی گئی، اس کی لپیٹ میں پھر عدلیہ ہی کو لے لیا گیا اور سیاسی نوعیت کے عدالتی کمیشن کے ذریعہ ججوں کے تقرر کو اس آئینی پیکیج کا حصہ ظاہر کرکے سسٹم کو خراب کرنے کیلئے اپنی آئی پر آنے کا پیغام دے دیا گیا۔ اب دوبارہ ہواڑ نکالی گئی ہے تو ابال کھانے والی کھچڑی میں سے اچھل کر باہر آنے والا دانا اسلام آباد ہائیکورٹ اور اس کی بچہ عدالتوں کی تشکیل کا پیغام لے آیا ہے جس کا مقصد فراہمی ¿ انصاف کے تقاضے پورے کرنے سے زیادہ اپنی ضد کو پالنے کا ہی نظر آتا ہے۔
جب سپریم کورٹ کی فل کورٹ اپنے 31 جولائی 2009ءکے فیصلہ میں پہلے ہی اسلام آباد ہائیکورٹ کو آئینی عدالتی ڈھانچے کے منافی قرار دے کر ختم کر چکی ہے تو بند کئے گئے اس راستے کی جانب پھر قدم اٹھانا عدالتی فیصلہ کو چیلنج کرنے سے ہی تعبیر کیا جائے گا۔ جبکہ اب تو اسلام آباد ہائیکورٹ کی مکمل خودمختاری کی پخ لگا کر اس قدم کو اور بھی سبز قدم بنایا جا رہا ہے۔ ہائیکورٹ کے ہوتے ہوئے اس کے متوازی ایک نیا عدالتی ڈھانچہ تشکیل دینے کا پیغام دیا جا رہا ہے جس کی بار ایسوسی ایشن بھی الگ ہوگی۔ جب اسلام آباد ہائیکورٹ کے مجوزہ جائے مقام سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر پہلے ہی ہائیکورٹ موجود ہے تو پھر اسلام آباد ہائیکورٹ کا نام دے کر اسی کے عدالتی فرائض پر مبنی ایک نئی ہائیکورٹ کو تشکیل دینے کی کیا ضرورت ہے۔ جبکہ نیت فراہمی ¿ انصاف کی ہو تو پہلے سے موجود ہائیکورٹ میں مطلوبہ ججوں کی تعداد پوری کرکے اور دیگر سٹاف کی کمی دور کرکے فراہمی ¿ انصاف کے تقاضے پورے کئے جاسکتے ہیں مگر نیت تو بس اتھل پتھل کرنے اور عادت کی مجبوری کے تحت عدالتی عملداری کے ساتھ چھیڑ چھاڑ جاری رکھنے کی ہے اور مقصد تو اپنے منظور نظر وکلاءکو نوازنے کا ایک نیا راستہ نکالنے کا ہے اس لئے سلطانی ¿ جمہور کے رکھوالے راہ پر آنے کی بجائے پھر ہزیمت اٹھانے کی ہی ٹھانے بیٹھے ہیں۔
ایک مکمل نئے عدالتی ڈھانچے کی تشکیل سے قومی خزانے پر کتنا بوجھ پڑے گا اور اس مزید بوجھ کی وجہ سے نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے، پسے ہوئے عوام کی مزید کتنی مَت ماری جائے گی۔ اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں کیونکہ عوام کی حکمرانی میں عوام ہی کو پسنے کی پالیسی پر یہ پہلے ہی عمل پیرا ہیں۔ انہیں تو بس اپنا گھر پورا رکھنے کی فکر ہی لاحق رہتی ہے اور یہ فکرمندی ایسی ہے کہ کسی تعمیری اور مثبت سوچ کی جانب آتے ہی نہیں دیتی اس لئے سسٹم کے بارے میں کسی اور کے فکرمند ہونے سے انہوں نے ازخود تائب تھوڑا ہو جانا ہے۔ بیک وقت پیاز اور چھتر کھانے کا نشہ ہی ایسا ہے کہ ”کانوں کو پڑ گیا ہے مزا، کوئی کچھ کہے“
گزشتہ ماہ میرا فیصل آباد جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں ہائیکورٹ فیصل آباد بنچ کی تشکیل کی تحریک کیلئے لگن بہت زوروں پر نظر آئی جس بھی وکیل دوست اور جس بھی صحافی دوست سے ملاقات ہوئی، ایک ہی تقاضہ سامنے آیا ”آپ ہائیکورٹ فیصل آباد بنچ کی تشکیل کیلئے ہمارا ساتھ دیں“ فیصل آباد کے عوام کا سالہا سال سے جاری یہ مطالبہ اب تک صرف اس لئے پورا نہیں ہو پایا کہ فیصل آباد سے سوا سو کلو میٹر کے فاصلے پر لاہور ہائیکورٹ موجود ہے جو فیصل آباد کے عوام کیلئے بھی فراہمی انصاف کے تقاضے پورے کر رہی ہے اور اب تو ساہیوال کو بھی ڈویژن کا درجہ مل چکا ہے۔ اگر فیصل آباد میں ہائیکورٹ کا بنچ بن گیا تو پھر اس سے سو کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ساہیوال کے عوام کا کیا قصور ہے کہ انہیں اپنے گھرمیں ہائیکورٹ کی سہولت سے محروم رکھا جائے۔
مجھے پہلے تو ہائیکورٹ فیصل آباد بنچ کی تشکیل ایک خواب نظر آتا تھا مگر اب اسلام آباد ہائیکورٹ بس تشکیل پا لینے دیں۔ فیصل آباد ہی نہیں، ساہیوال میں بھی ہائیکورٹ بنچ کی تشکیل کا جواز نکل آئے گا۔ کیونکہ ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر نئی اسلام آباد ہائیکورٹ تشکیل پاسکتی ہے تو پھر فیصل آباد اور ساہیوال کے عوام نے بھلا کسی کا کیا نقصان کیا ہوا ہے انہیں سو کلومیٹر سے بھی زیادہ فاصلے پر موجود لاہور ہائیکورٹ کا عذر پیش کرکے اپنی ہائیکورٹ سے کیوں محروم رکھا جائے۔
جناب یہ ایسا پنڈورا بکس ہے جو کھول دیا گیا تو گھر گھرہائیکورٹ سے ہوتا ہوا گھر گھر صوبے کی تشکیل تک جا پہنچے گا اس لئے ”سیٹلڈ ایشوز“ کے ساتھ متھا لگانے اور اس شوق میں اپنے ”کھُنّے“ پھڑوانے کی بجائے اس کام کی جانب آئیں جس کی ملک ، قوم اور سسٹم کو ضرورت ہے، وہ ہے تمام جرنیلی خرافات سے آئین کو پاک کرنا۔ اس میں سب سے بڑا گند 17 ویں آئینی ترمیم والا ہے۔ اس گند کو آپ باہر نہیں نکال رہے اور مزید گند ڈالنے کا سوچے چلے جارہے ہیں۔پھر تعفن نہیں اٹھے گا تو اور کیا ہوگا۔

Offline AMEENAJEE

  • Newbie
  • *
  • Posts: 34
  • Reputation: 0
  • Gender: Female
Re: گھر گھر ہائیکورٹ
« Reply #1 on: December 28, 2010, 05:27 AM »
nice one

Offline asad

  • Full Member
  • *
  • Posts: 414
  • Reputation: 0
    • Email
Re: گھر گھر ہائیکورٹ
« Reply #2 on: April 09, 2011, 01:32 PM »
good sharing janab

Offline Allahwala

  • Sr. Member
  • *
  • Posts: 1337
  • Reputation: 6
  • Gender: Male
    • Email
Re: گھر گھر ہائیکورٹ
« Reply #3 on: April 13, 2011, 07:33 AM »
thanks for sharing  sml


Offline OLD MEN

  • Full Member
  • *
  • Posts: 396
  • Reputation: 0
  • Gender: Male
Re: گھر گھر ہائیکورٹ
« Reply #4 on: May 30, 2011, 04:53 PM »
nice sharing thanks  fllove

Offline asad

  • Full Member
  • *
  • Posts: 414
  • Reputation: 0
    • Email
Re: گھر گھر ہائیکورٹ
« Reply #5 on: September 26, 2011, 12:34 AM »
nice sharing  thumbsss