Author Topic: رشتہ دھوکے کا؟  (Read 577 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline Shani

  • Newbie
  • *
  • Posts: 130
  • Reputation: 0
رشتہ دھوکے کا؟
« on: March 20, 2010, 04:03 PM »
رشتہ دھوکے کا؟ جمہوریت کا اپنے عوام کے ساتھ رشتہ ہے کیا؟ کیا نوعیت ہے ہمارے ہاں کی خون چوس جمہوریت کے عوام کے ساتھ رشتہ کی؟ مان لیا باوردی آمر اور اس کی با وفا پارٹی کی شکست سے 18 فروری 2008ء کو اس ملک میں جمہوریت آ گئی تھی مان لیا اس باوردی آمر کے سارے اختیارات کے ساتھ اس کے خالی کردہ ایوان صدر میں جو شخص مکین ہو گیا ہوا ہے وہ اس جمہوریت کا نشان ہے۔ مان لیا شوکت عزیز کی کرسی پر بٹھایا گیا یوسف رضا گیلانی آمریت کا نہیں جمہوریت کا چیف ایگزیکٹو ہے لیکن پچیس ماہ کے اس طویل عرصہ میں اس جمہوریت نے ملک کو اور اس کے عوام کو کونسا ایسا تحفہ دے دیا ہے جو باوردی آمریت نہیں دے سکی تھی؟ این آر او قبیلہ؟ روز رفتہ کراچی اور ملک کے دیگر حصوں میں بجلی کی نایابی کے عوام پر عذاب کی جھلک دکھانے کے دوران اس جمہوریت کی خادمہ خاص قومی اسمبلی میں پانی اور بجلی کے وزیر کی شکل دکھائی گئی تو وہ گرمی کے اس موسم میں بھی کوٹ پہنے ہوئے تھے کراچی کے گورنر ہاﺅس میں گورنر سندھ کی صدارت میں عوام کے اس عذاب کو کم کرنے کی مزید تدابیر ڈھونڈنے کے لئے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی کارروائی دکھائی جا رہی تھی اور اس اجلاس کے سارے شریک بھی گورنر سمیت کوٹ پہنے ہوئے تھے۔ اتنی گرمی اور بجلی کی نایابی کے وقت بھاری کوٹ؟ انہیں کس چیز نے ایسی کپکپی میں مبتلا کیا ہوا تھا؟ عوام چیخ رہے تھے اور ان کے منتخب نمائندے اور حکمران جن ایوانوں میں ان کے دکھ درد میں تڑپ پھڑک رہے تھے ان میں اتنی سردی تھی کہ ان تڑپنے پھڑکنے والوں کو اپنی تڑپ اور پھڑک کو ایئرکنڈیشنڈ ایوانوں کی سردی سے بچانے کے لئے بھاری کوٹ پہننا پڑ گئے تھے یہ ہے اس جمہوریت کی اپنے عوام کے ساتھ تعلق کی اصل نوعیت۔ ان خادموں اور حاکموں کو کسی شرم ورم کی کپکپی ہر گز نہیں تھی عوام کے خرچ پر عوام سے چھینی ہوئی بجلی سے یخ سرد کئے ایوانوں کی ٹھنڈک سے بچنے کے لئے ان غریبوں کو اس گرمی میں کوٹ پہننا پڑ رہے تھے۔ ورنہ شرم؟ جس کا ان ایوانوں میں ہی نہیں ان کے مالکوں کے ضمیروں میں بھی داخلہ ممنوع ہے۔ ان سب کو شرم و حیا سے بھی تو استثنٰی حاصل ہے پانی اور بجلی کے راجہ مہاراجہ کتنی خوشخبریاں سنا چکے ہیں۔ پچھلے پچیس ماہ کے دوران لوڈشیڈنگ ختم کر دینے کی؟ وہ فرما رہے تھے کہ بجلی اس لئے نہیں ہے کہ پانی نہیں ہے یعنی ملک میں نہ پانی ہے نہ بجلی ہے۔ ان کا مہاراجہ ےہی ہے مگر وہ مہاراجہ کرتا کیا ہے؟ عوام کے خلاف تدبیریں؟ مگر وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟ اپنی پارٹی اور جمہوریت کے مالک و مختار کی پیروی کی تو مجبوری نہیں درپیش اس مہاراجہ جی کو؟ ورنہ عام انسان تو ایسے وعدے کرنے اور کرتے رہنے پر شرم سے پانی پانی ہو رہا ہوتا اتنا پانی پانی کہ ڈیموں میں پانی کی کمی دور ہو جائے مگر وہی کیا‘ ہے کوئی جس نے ان دو سالوں کے عوامی عذاب کے بعد بھی کبھی کوئی شرم محسوس کی ہے؟ دیا کیا ہے اس جمہوریت نے ملک کو اور اس کے عوام کو؟ پرویز مشرف کی بجائے آصف علی زرداری شوکت عزیز کی جگہ یوسف رضا گیلانی اور چودھری برادران کی جگہ شریف برادران بجلی اور گیس کا عذاب پانی کی نایابی کا فساد‘ بے امنی‘ چوریاں‘ ڈاکے‘ دہشت گردی‘ مہنگائی ‘ بے روزگاری‘ کرپشن‘ رشوت ستانی‘ اقربا پروری‘ بدانتظامی اور این آر او قبیلہ اور کیا چاہتے ہو؟ بہت کچھ دیا ہے اس جمہوریت نے اپنے عوام کو۔ دی تھی اس آمریت نے اتنی ذلت اور رسوائی اس ملک کے عوام کو؟ روز رفتہ ایک پروگرام میں اس جمہوریت کے دور میں بیرونی قرضوں کے حجم میں بے پناہ اضافہ کے اعداد و شمار پیش کئے جا رہے تھے بتایا گیا تھا کہ آمریت کے دور میں آٹا تیرہ روپے کلو ہوتا تھا جو اب تیس روپے فی کلو سے زیادہ ہو چکا ہے چینی کی فی کلو قیمت ان پچیس ماہ میں دگنی ہو چکی ہے۔ پٹرول‘ ڈیزل اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے اور چیف جسٹس آف اسلامی اور جمہوریہ پاکستان فرماتے ہیں کہ ”اداروں میں کھانے پینے کا کام جاری ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں“ مگر کون پوچھے؟ وہی جو فرماتا ہے کہ ”میری کمزوریاں ہی میری طاقت ہیں؟ کر نہیں دیا ہوا این آر او شاہ نے ان پچیس ماہ کی حکمرانی میں اپنی اس طاقت کو ثابت ؟ جس کی طاقت ہی اس کی کمزوریاں ہوں پوچھ سکتا ہے وہ کسی سے کہ یہ کیا ہو رہا ہے ؟ پوچھا ہے اس نے کبھی بھی کسی سے یہ سوال؟ چیف جسٹس صاحب نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ”ہم قومی دولت لوٹنے پر خاموش نہیں رہیں گے“ لیکن کیا وہ کوئی ایسا سروے بھی کرائیں گے کہ قومی دولت لوٹی کتنی جا چکی ہے اور اس لوٹ مار میں کون کون کیسے کیسے شامل ہے اور شامل رہا ہے؟ کسی بھی ملک کے ازلی دشمن کا اس قوم کے خلاف منصوبہ ہوتا کیا ہے؟ اس ملک اور قوم کی اقتصادی بنیادوں کو تباہ کر دینا۔ کیا چیف جسٹس صاحب کوئی ایسا بینچ قائم کریں گے جو فیصلہ کرے کہ ہماری ملک کی اقتصادی بنیادیں کس نے تباہ کی ہیں؟ کون کون اس تباہی میں حصہ دار ہے؟ کون ہے وہ جو ہمارے دشمن کے مقاصد پورے کرتا رہا ہے اور کر رہا ہے؟
یہ قومی دولت لوٹنے سے بھی بہت بڑا قومی جرم ہے اس جرم کی سزا قوم اور ملک کو ملنا چاہئے یا اس کے ایسے دشمن کو؟ کریں گے چیف جسٹس آف پاکستان اس ملک اور قوم کی ایسی تاریخی خدمت؟ قوموں کی زندگی اور وجود کی بقا کےلئے ان کی اقتصادی بنیادوں کا تحفظ اور استحکام ان کی سرحدوں کے تحفظ سے بھی زیادہ اہم ہوتا ہے۔ رہ سکتی ہے کوئی قوم زندہ اپنی قومی اقتصادیات کی تباہی کے بعد؟ اور ہاں آپ کو معلوم ہے کہ یہودیوں کے صوفیا کے سلسلہ صدوقین سے وابستہ ان کے بزرگ روز حساب کے منکر ہوتے تھے؟ جو چاہو کرو کوئی پوچھنے والا نہیں یہ ایمان رکھتے تھے۔ مگر اس سلسلہ کے یہودی صوفیا جھوٹ اور فریب کو سب سے بڑا اخلاقی اور قومی جرم قرار دیتے تھے۔ ہم نے اس کا کچھ ذکر الامین ﷺ کی جلد اول میں کیا ہے تو پھر کیسا ہے اس جمہوریت کا رشتہ اپنے عوام سے؟ بھروسے کا یا دھوکے کا؟ کیا کہتا ہے آپ کا پچیس ماہ کا تجربہ؟ ان آپ کا جو روشن دل اور روشن ضمیر ہیں۔!

Offline AMEENAJEE

  • Newbie
  • *
  • Posts: 34
  • Reputation: 0
  • Gender: Female
Re: رشتہ دھوکے کا؟
« Reply #1 on: December 28, 2010, 05:27 AM »
very good nice shairng

Offline asad

  • Full Member
  • *
  • Posts: 414
  • Reputation: 0
    • Email
Re: رشتہ دھوکے کا؟
« Reply #2 on: April 09, 2011, 01:32 PM »
good sharing janab

Offline Allahwala

  • Sr. Member
  • *
  • Posts: 1337
  • Reputation: 6
  • Gender: Male
    • Email
Re: رشتہ دھوکے کا؟
« Reply #3 on: April 13, 2011, 07:34 AM »
thanks for sharing  sml


Offline OLD MEN

  • Full Member
  • *
  • Posts: 396
  • Reputation: 0
  • Gender: Male
Re: رشتہ دھوکے کا؟
« Reply #4 on: May 30, 2011, 04:53 PM »
nice sharing thanks  fllove

Offline asad

  • Full Member
  • *
  • Posts: 414
  • Reputation: 0
    • Email
Re: رشتہ دھوکے کا؟
« Reply #5 on: September 26, 2011, 12:34 AM »
nice sharing  thumbsss

Offline Fatima

  • Moderator
  • *
  • Posts: 1590
  • Reputation: 2
  • Gender: Female
  • sAb mOkAdAr Ki BaAt Hi
Re: رشتہ دھوکے کا؟
« Reply #6 on: January 13, 2012, 08:01 PM »
thanks