Author Topic: ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ کیخلاف پرتشدد مظاہرے..... حکومت عوامی مسائل کے فور  (Read 1132 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline Shani

  • Newbie
  • *
  • Posts: 130
  • Reputation: 0
اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ کیخلاف وفاقی دارالحکومت کے نواحی علاقہ بھارہ کہو سے جمعرات کے روز شروع ہونیوالے عوامی احتجاج کا سلسلہ گزشتہ روز شدت اختیار کرگیا اور مشتعل مظاہرین نے بھارہ کہو کے علاوہ فیض آباد راولپنڈی میں بھی توڑ پھوڑ کرکے دکانوں‘ گاڑیوں اور ٹریفک سگنلز کو نقصان پہنچایا‘ سڑکوں پر ٹائر جلائے اور پولیس پر پتھرائو کیا جبکہ اس احتجاج کی لائیو کوریج کرنیوالی ایک قومی نیوز چینل کی گاڑی پر بھی مظاہرین کے ایک گروپ نے ہلا بول دیا اور اس گاڑی کی ونڈ سکرین اور دیگر شیشوں کو توڑنے کے ساتھ ساتھ کیمرے کو بھی نقصان پہنچایا۔ بعض مظاہرین نے اس گاڑی کی جانب لوہے کے راڈ بھی پھینکے جس سے گاڑی میں موجود رپورٹر اور کیمرہ مین بمشکل تمام بچے۔ مظاہرین نے اس موقع پر ریسکیو 1122 کی گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچایا‘ پرتشدد مظاہروں کی وجہ سے گزشتہ روز اسلام آباد اور راولپنڈی کی مارکیٹیں بھی بند رہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت کا سلسلہ بھی منقطع ہو گیا جس کے نتیجہ میں مقامی باشندے اپنے گھروں اور دفاتر میں مقید ہو کر رہ گئے۔ مظاہرین کے پتھرائو کی وجہ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی ہو گئے جبکہ پولیس کی شیلنگ اور ہوائی فائرنگ سے متعدد مظاہرین بھی زخمی ہوئے۔ ایک طالب علم بھی پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہوا جس پر مظاہرین میں زیادہ اشتعال پیدا ہوا اور انہوں نے اپنے احتجاج کا سلسلہ فیض آباد تک پھیلا دیا۔ مقامی پولیس اور انتظامیہ ان مظاہروں کو کنٹرول کرنے میں مکمل ناکام نظر آتی تھی‘ چنانچہ رینجرز طلب کی گئی مگر اسکے باوجود سارا دن اور رات گئے تک اور پھر اس سے اگلے روز بھی مظاہرے مسلسل جاری رہے۔ اس دوران پچاس سے زائد مظاہرین کی گرفتاری عمل میں آئی جن میں سے بعض کو اگلے روز چھوڑ دیا گیا۔ ان مظاہروں کے باعث گزشتہ روز قومی اسمبلی کا اجلاس بھی متاثر ہوا جبکہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کی تفتیش کرنے والی اقوام متحدہ کی ٹیم بھی مظاہرین کے نرغے میں آگئی۔ وزیر داخلہ رحمان ملک کے بقول اسلام آباد میں بعض عناصر اپنے مقاصد کیلئے حالات خراب کر رہے ہیں‘ جن میں بعض سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی شامل ہیں۔ جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو خبر آئی ہے کہ مظاہرین نے امن ریلی نکالی ہے اور سٹریفک بحال ہو گئی ہے‘ خدا کرے بحال ہی رہے۔
حکمرانوں کی جانب سے عوامی مسائل حل کرنے کے معاملہ میں بے نیازی‘ گورننس کے انداز اور یوٹیلٹی بلوں کیساتھ ساتھ اشیائے خورد و نوش کے نرخوں میں آئے روز اضافے کے باعث عوام کو روزمرہ کے جن گھمبیر مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے‘ اسکے ردعمل میں تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق عوام کا مشتعل ہو کر سڑکوں پر نکل آنا‘ اپنے حقوق کیلئے عوامی شعور کی بیداری کی عکاسی کرتا ہے‘ جب حکمران طبقہ خود تمام سہولتیں اور مراعات حاصل کر رہا ہو‘ انکے دفاتر اور رہائش گاہیں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے عذاب سے بھی محفوظ ہوں‘ روز افزوں مہنگائی کے اثرات بھی ان پر مرتب نہ ہو رہے ہوں اور وہ عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے قومی وسائل کی لوٹ مار اور کک بیکس اور کمشنوں کے حصول میں مصروف ہوں اور غیرملکی دوروں کی بھی بھرمار ہو تو حکومتی پالیسیوں اور اقدامات سے نالاں عوام کی جانب سے یقیناً ایسا ہی ردعمل سامنے آئیگا جس کا گزشتہ دو روز سے اسلام آباد اور راولپنڈی میں عملی مظاہرہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ اور ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کی اجارہ داری قائم کرنے کیخلاف پرتشدد عوامی مظاہرہ ہو چکا ہے‘ جس میں متذکرہ ٹرانسپورٹ کمپنی کی چھ بسوں اور متعدد دیگر گاڑیوں کو بھی نذر آتش کیا گیا۔ اسی طرح بجلی کی لوڈشیڈنگ کیخلاف بھی کراچی‘ لاہور اور کوئٹہ سمیت ملک کے مختلف شہروں میں عوامی احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ امن و امان کی سنگین صورتحال نے ملک کے عوام کا الگ جینا دوبھر کیا ہوا ہے‘ حکومت کے مسلط کئے گئے مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کے مسائل سے بھی براہ راست عوام ہی متاثر ہو رہے ہیں اور چور‘ ڈاکو‘ لٹیرے بھی حکومتی مشینری کی ڈھیل کے نتیجہ میں چوری‘ ڈکیتی‘ راہزنی کی کھلم کھلا وارداتیں کرتے ہوئے عوام الناس ہی کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں۔ ملک کے ان سنگین حالات کے پیش نظر یہی تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ وفاق اور صوبوں میں سرے سے حکومت کی رٹ موجود ہی نہیں اور گڈگورننس‘ جس کی وجہ سے ہی کسی حکومت کے برقرار رہنے کا جواز بن سکتا ہے‘ کہیں نظر ہی نہیں آرہی۔
عوام نے تو مشرف کی جرنیلی آمریت کے مسلط کئے گئے مہنگائی‘ بے روزگاری‘ بدامنی کے مسائل سے نجات کیلئے ہی 18 فروری 2008ء کو اپنے ووٹ کی طاقت سے خاموش انقلاب برپا کرکے جرنیلی آمریت اور اسکی باقیات کو مسترد کیا تھا اور سلطانی ٔ جمہور کی راہ ہموار کی تھی‘ اگر اب منتخب جمہوری دور میں عوام کے مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھ گئے ہیں اور مراعات یافتہ حکمران طبقہ عوامی مسائل سے بے نیاز ہو کر اپنے اللے تللوں میں مصروف ہے تو مسائل کے بوجھ تلے دبے زندہ درگور انسانوں کے پاس خودکشی‘ خودسوزی یا اپنی بقاء کی جدوجہد میں حکومتی مشینری کی مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے کے سوا کیا چارہ کار رہے گا جبکہ ملک دشمن اور جمہوریت کے بدخواہ عناصر کو بھی حکومت کے پیدا کردہ ایسے حالات سے ہی فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے جو پرامن مظاہرین کی صفوں میں گھس کر تشدد‘ توڑ پھوڑ‘ گھیرائو جلائو اور دہشت گردی سے بھی گریز نہیں کرتے۔ بھارہ کہو اور فیض آباد میں توڑ پھوڑ‘ گھیرائو جلائو کے افسوسناک واقعات میں بھی یقیناً ایسے ہی ملک دشمن عناصر کا عمل دخل ہو گا اور لاہور میں بسوں کو آگ لگانے کے واقعات بھی ایسے ہی عناصر کی کارستانی ہو سکتی ہے مگر ان عناصر کو کھل کھیلنے کا موقع بھی تو حکومتی کمزوریوں کی وجہ سے ہی ملتا ہے۔ اگر عوام کو روزمرہ کے مسائل سے دوچار نہ ہونا پڑے اور ان مسائل کی وجہ سے انہیں اپنی جان کے لالے نہ پڑے ہوئے ہوں تو وہ ردعمل میں کیوں سڑکوں پر آئیں اور ملک دشمن عناصر کو انکی صفوں میں گھس کر کیوں دہشت و وحشت کا بازار گرم کرنے کا موقع ملے؟
اس وقت عوام الناس میں اپنے گھمبیر مسائل کے حوالے سے بے چینی کی جو جھلک نظر آرہی ہے‘ وہ اپنے اظہار کے راستے تلاش کرتے کرتے ملک میں خانہ جنگی کی نوبت لا رہی ہے۔ میڈیا کے متحرک کردار کی وجہ سے اس وقت عوام میں اپنے حقوق کا شعور بھی بیدار ہے‘ اس لئے وہ کسی ناانصافی اور مراعات یافتہ حکمران طبقہ کے ہاتھوں اپنے حقوق سے محرومی پر پہلے کی طرح خاموش تماشائی اور مجبور محض بن کر نہیں بیٹھیں گے بلکہ اسلام آباد اور لاہور جیسے فوری ردعمل کا اظہار کے موقع کی تلاش میں رہیں گے۔ اگر وفاقی اور صوبائی حکومت عوامی مسائل کے حل کی جانب توجہ دینے کے بجائے سیاسی مخالفت میں تشدد اور توڑ پھوڑ کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوششوں میں مصروف رہے گی تو پھر انہیں اسلام آباد اور لاہور کے واقعات کو اس انقلاب کی جانب پیش قدمی سمجھنا چاہئے جس سے مسلم لیگ (ن) کے قائد اور وزیر اعلیٰ پنجاب اکثر ڈراتے نظر آتے ہیں۔ اگر حکومتی بے تدبیریوں کے نتیجہ میں اس انقلاب کی راہ ہموار ہوئی تو سب سے پہلے حکمران طبقہ ہی اس کی زد میں آئیگا۔
اندریں حالات سلطانی ٔ جمہور سے وابستہ حکمران طبقہ کو عوام کے ذہنوں میں ابلنے والے لاوے سے خود کو بچانے کی فکر کرنی چاہئے اور بالخصوص مہنگائی‘ بے روزگاری اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے مسائل سے نجات دلا کر انکی بے چینی دور کرنی چاہئے‘ ورنہ جرنیلی آمریت کو راندۂ درگاہ بنانے والے عوام اپنے مسائل میں اضافہ کا باعث بننے والی سلطانی ٔ جمہور کے بھی خیرخواہ نہیں ہو سکتے۔
شاہ محمود قریشی یہ بھی یاد رکھیں
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وہ یہ پیغام لے کر واشنگٹن جا رہے ہیں کہ باتیں بہت ہو چکیں‘ اب نتیجہ خیز اور ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے بریفنگ میں کہا کہ وہ وقت گزر گیا جب امریکہ پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کرتا تھا‘ اب ہم امریکہ سے ڈومور کا مطالبہ کرینگے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پوری دنیا نے ہماری قربانیوں کو تسلیم کیا ہے‘ اب امریکہ کی باری ہے کہ وہ کچھ کرکے دکھائے۔
وزیر خارجہ نے جمعرات کو دفتر خارجہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 24 مارچ کو واشنگٹن میں ہونیوالے سٹریٹجک ڈائیلاگ میں حصہ لینے کے علاوہ سینٹر جان کیری اور خارجہ امور کمیٹی کے ارکان کے ساتھ بھی ملاقاتیں کرینگے۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات کیلئے تیار ہونے کا بھی ذکر کیا‘ یقیناً پاکستان کے وزیر خارجہ امریکی عیاریوں پر بھی گہری نظر رکھے ہونگے کہ ایک طرف امریکہ ہمارے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملے کرکے قبائلی عوام کو خودکش حملوں جیسے ردعمل پر مجبور کر رہا ہے۔ دوسری طرف افغانستان کی سرحدی چوکیوں سے دہشت گردوں کو بآسانی پاکستان پہنچ جانے کا راستہ دے رہا ہے۔ وہ افغانستان میں طالبان سے مذاکرات کر رہے ہیں مگر پاکستان کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ ہم اپنے شہریوں سے بات چیت بھی نہ کریں۔ بھارت امریکہ اور اسرائیل کی انگیخت پر پاکستان کیخلاف محاذ کھولنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور امریکی وزیر دفاع خود بھارت میں کھڑے ہو کر پاکستان کیخلاف بیانات دے چکے ہیں اور دیگر امریکی اہلکار بھی جب بھی موقع ملتا ہے‘ بھارت جا کر پاکستان کیخلاف بھارت کی زبان بولتے ہیں اور بھارت کے وزیر داخلہ اور دفاع امریکی انگیخت پر ہی پاکستان کیخلاف انتہائی شرانگیزی کرتے ہیں جبکہ بھارتی چیف آف آرمی سٹاف کا یہ بیان بھی ریکارڈ پر ہے کہ ہم پاکستان اور چین کو 96 گھنٹے میں فتح کر سکتے ہیں۔ روس اور امریکہ ہماری مدد کرینگے۔
ایسے حالات میں شاہ محمود قریشی کو امریکہ کے ساتھ بات چیت کیلئے بہت تفصیلی بات کرنا ہو گی۔ امریکہ پاکستانی علاقوں پر ڈرون حملے بند کرے‘ یا پھر ہم انہیں مار گرائیں‘ کیونکہ ان حملوں کی وجہ سے قبائلی عوام پاکستان کیخلاف خودکش بمبار حملے کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں اور دوسری طرف بھارت مشرقی محاذ پر ہمارے لئے خطرہ بنا ہوا ہے۔ مغربی محاذ پر ہماری بے جا مصروفیت کی وجہ سے وہ کشمیر میں ہمارا پانی روک رہا ہے‘ بند پر بند بنائے جا رہا ہے اور ہمیں آنکھیں بھی دکھا رہا ہے۔ امریکہ اگر پاکستان کی مدد کرنا چاہتا ہے تو کشمیر پر اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں پر عمل کرائے اور مسئلہ کشمیر طے کرانے میں مدد کرے۔ اسکے بعد اس خطہ میں امن و امان ہو جائیگا۔ کشمیری عوام کو انکی مرضی سے آزادی مل جائیگی اور پاکستان بھارت کے ساتھ دوستی کے بارے میں بھی سوچ سکتا ہے‘ ابھی تک تو وہ ہمارے ازلی دشمن کا ہی رول ادا کررہا ہے۔
غریبوں کیلئے گھر ایک مستحسن فیصلہ
وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب صوبے میں جلد کم لاگت ہائوسنگ سکیموں کا آغاز کر رہی ہے‘ جس سے بے گھر افراد کا ’’اپنا گھر اپنی جنت‘‘ کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو گا۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا ہے کہ یہ سکیمیں اعلیٰ معیار کی ہونگی اور ان میں تمام بنیادی سہولتیں موجود ہونگی‘ انہوں نے کہا کہ ان سکیموں میں تمام گھروں کی الاٹ منٹ نہایت شفاف طریقے سے قرعہ اندازی کے ذریعہ ہو گی۔ ان سکیموں میں بیوائوں‘ یتیموں کیلئے بیس فیصد جبکہ معذور افراد کیلئے پانچ فیصد کوٹہ مختص ہو گا۔ وزیر اعلیٰ کا خیال اور ارادے بہت تعمیری اور عام لوگوں کی بہبود کے بارے میں ہیں۔ مثلاً لاہور شہر میں اراضی کی قیمتیں بہت زیادہ ہو گئی ہیں‘ ان قیمتوں کو کم کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ پنجاب میں بھی کراچی کی طرح ملٹی سٹوریز فلیٹ سسٹم متعارف کرایا جائے۔ لاہور میں سرکاری ملازمین کیلئے جو ہائوسنگ کالونیاں ہیں‘ ان کو بھی ملٹی سٹوری فلیٹ سسٹم میں تبدیل کر دیا جائے۔ اس سے ایک تو سرکاری ملازمین کیلئے رہائش کی کافی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے اور دوسرے سرکاری ملازمین کرائے کے مکانوں کے بجائے سرکاری کالونیوں میں رہائش اختیار کرینگے۔
جی او آرز میں ملٹی سٹوریز فلیٹ سسٹم کی وجہ سے سرکاری ملازمین کو حکومت جو کرایہ مکان کیلئے بھاری رقم ادا کر رہی ہے‘ وہ بھی بچ جائیگی اور ملٹی سٹوری عمارتیں تعمیر کرنے کی اجازت کے ساتھ اراضی کے نرخ بھی کم ہو جائیں گے۔ اس طرح وزیر اعلیٰ خیر کا جو کام کرنا چاہ رہے ہیں‘ یہ بآسانی اور کم قیمت میں ممکن ہو گا۔ پیغبمر اسلام نبی برحق حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی حکم ہے کہ شہروں کو زیادہ نہ پھیلائو‘ اب ہمارے شہر کافی پھیل چکے ہیں‘ اب انہیں اوپر کی طرف اٹھایا جائے‘ زمینوں کو پلاٹوں کی صورت میں تقسیم کرنے سے ہماری زرخیز زرعی اراضی کم ہو رہی ہیں‘ اس لئے شہروں میں اب ایسی ہائوسنگ سکیموں کی منظوری دی جائے جو پلاٹوں کی بجائے بلندو بالا فلیٹ سسٹم متعارف کرائیں۔

Offline Master Mind

  • 4u
  • Administrator
  • *
  • Posts: 4468
  • Reputation: 85
  • Gender: Male
  • Hum Sab Ek Hin
    • Dilse
    • Email

Offline AMEENAJEE

  • Newbie
  • *
  • Posts: 34
  • Reputation: 0
  • Gender: Female

Offline Leon

  • Moderator
  • *
  • Posts: 6136
  • Reputation: 126
  • Gender: Male
  • Happy Ending
    • Hum Tum
Tanhai Main Bethe Bethe Gum Ho Jata Hun
Main Aksar Main Nahi Rehta Tum Ho Jata Hun

Offline asad

  • Full Member
  • *
  • Posts: 414
  • Reputation: 0
    • Email

Offline Allahwala

  • Sr. Member
  • *
  • Posts: 1337
  • Reputation: 6
  • Gender: Male
    • Email


Offline OLD MEN

  • Full Member
  • *
  • Posts: 396
  • Reputation: 0
  • Gender: Male

Offline asad

  • Full Member
  • *
  • Posts: 414
  • Reputation: 0
    • Email

Offline beautiful

  • Dilse Member
  • *
  • Posts: 527
  • Reputation: 4
    • Email

Offline Fatima

  • Moderator
  • *
  • Posts: 1590
  • Reputation: 2
  • Gender: Female
  • sAb mOkAdAr Ki BaAt Hi