Author Topic: Cancer Horoscope برج سرطان  (Read 1400 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline Master Mind

  • 4u
  • Administrator
  • *
  • Posts: 4468
  • Reputation: 85
  • Gender: Male
  • Hum Sab Ek Hin
    • Dilse
    • Email
Cancer Horoscope برج سرطان
« on: November 22, 2010, 04:41 AM »
سرطان
دائرة البروج میں برج سرطان چوتھے نمبر پر واقع ہے۔ یہ آبی تکون کا پہلا رکن ہے اور سیارہ قمر کے ماتحت ہے۔ یہ برج استقامت اور استحکام کی علامت ہے۔ آگے بڑھنے کے لیے پسپائی اور انتظار اس کی فطرت ہے۔ اعضائے انسانی میں پستان، پیٹ، معدہ اور جلد اس سے متعلق ہیں اور نظام جسمانی میں تمام رطوبات زندگی اور دوران خون پر یہ اثرانداز ہوتا ہے۔ برج سرطان روحانی اور مادی قوتوںمیں توازن کا بھی مظہر ہے، کیوں کہ اس کا حاکم سیارہ چاند، سورج سے انعکاس نور کرتا ہے، لہٰذا اس برج میں انعکاسی اور انفعالی خصوصیات نمایاں ہوتی ہیں۔ حساسیت اور غور و فکر اس برج کا خاصا ہیں۔ ماہیت کے اعتبار سے یہ منقلب، یعنی تغیرپذیر ہے۔

برج سرطان کا طرہ امتیاز

محسوس کرنے کی خصوصیت اس برج کا نمایاں وصف ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ برج سرطان کے زیراثر پیدا ہونے والے افراد کی زندگی میں ان کے احساسات کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور اس امکان کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ان لوگوں کی زندگی میں اکثر غلطیاں ان کے احساسات کی وجہ سے ہی ہوتی ہیں۔ اپنے احساسات کے بھنور میں پھنس کر یہ لوگ کسی منطق کو قبول نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک کسی کام کے معاملے میں صرف منطقی دلیل ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ ان کے خیال میں ایک اچھے تاثر کی بھی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ ایک سرطان فرد اس کام کو چھوڑ دے گا جس میں اسے خوش گواریت کا احساس نہ ہو۔ دوسرے معنوں میں اس کا مقولہ یہ ہوگا ”جو دل چاہے، وہ کام کرو۔“ اس جملے سے سرطان کا زندگی کے بارے میں رویہ ظاہر ہوتا ہے۔ سرطان افراد میں قوت احساس زیادہ، براہ راست اور فوراً نمایاںہوتی ہیں اور اس کے مقابلے میں جاننے اور سوچنے کا عمل بے حد سست ہوتا ہے۔ احساس کی یہ شدت چوں کہ سوچنے اور جاننے کے عمل پر غالب ہوتی ہے، لہٰذا سرطان افراد اسے اپنے ایک حفاظتی خول کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور کسی بھی نئی پیش رفت کو محسوس کرتے ہی وہ خود کو اس حفاظتی خول میں پوشیدہ کر لیتے ہیں۔ سوچنے اور جاننے کا عمل اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔ ان کی اس فطرت سے اکثر دوسرے لوگ شاکی رہتے ہیں اور ان کے بارے میں کوئی غلط رائے قائم کر لیتے ہیں۔

 

برج جوزا اور سرطان کی حد اتصال
اگر آپ کی تاریخ پیدائش 19 جون تا 24 جون ہے تو آپ برج جوزا اور سرطان کی حداتصال پر پیدا ہوئے ہیں اور آپ کی شخصیت میں جوزا اور سرطان کی خصوصیات کا ایک دل چسپ امتزاجموجود ہے۔
جوزا اور سرطان کی مشترکہ خصوصیات کے حامل افراد کی شخصیت کو بصیرت افروز تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس بصیرت کی نوعیت نجی بھی ہو سکتی ہے اور عوامی بھی۔ یہ غیرمعمولی لوگ ذہین، زیرک لیکن متلون مزاجی، پُرکشش بھی اور گریزپا بھی، کبھی کبھی الگ تھلگ ہوتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں دل و دماغ کا ایک خوب صورت امتزاج ملتا ہے یا پھر اوپر تلے ان تمام چیزوں کا ایک افسوس ناک ملغوبہ۔ بہرحال صورت حال کوئی بھی ہو، یہ طے ہے کہ یہ شان دار اور سحرانگیز لوگ ہوتے ہیں جو اپنی ہی دنیا میں رہتے ہیں یا تو نہایت یارباش اور مجلسی یا پھر نہایت کم گو اور خاموش طبع۔وہ پانی کی طرح کوئی بھی شکل اختیار کر سکتے ہیں اور جو بننا چاہیں، بن سکتے ہیں اور یہی ان کی سب سے بڑی خوبی ہے اور ان کا طرئہ امتیاز ہے۔ کاش وہ اس بات کو سمجھیں اور سچی لگن اور ہمت اور عزم سے جدوجہد کریں، اپنی مقناطیسی کشش کو استعمال کریں، اپنی نظریں اپنے اہداف پر مرکوزرکھیں اور کسی بھی تیز بہاﺅ یا دھارے میں بہ جانے کے رجحان کو سختی سے کچل دیں۔
جوزا اور سرطان کے سنگم پر پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات یہ ہیں: عظیم فرانسیسی دانش ور ژاں پال سارتر، سابق وزیراعظم پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو، مشہور فلم ایکسٹریس میرل اسٹرپ، ملعون سلمان رشدی اور برما کی نوبل انعام یافتہ رہنما آں سنگ سوچی شامل ہیں۔

سرطان شخصیت
روایتی نظریہ یہ ہے کہ سرطانی افراد گھر اور خاندان سے بہت گہری وابستگی رکھتے ہیں لیکن اس کے علاوہ بھی آپ کی شخصیت کے کچھ دیگر پہلو ہیں۔ شہرت اور نمود و نمائش کے زبردست خواہاں ہیں اور غیرمعمولی طور پر حساس، انتہا سے زیادہ زودرنج ہیں، آپ میں چاہے جانے کی زبردست خواہش پائی جاتی ہے لیکن آپ آزاد بھی رہنا چاہتے ہیں۔ آپ کسی کیکڑے کی طرح اپنے مقصد، اپنے نظریے، اپنے محبوب یا کسی خیال، کسی ملکیت سے چمٹے رہنے کی زبردست قوت رکھتے ہیں۔ اس طرح آپ میں ناممکن الحصول کو بھی حاصل کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ آپ کا رویہ بالکل کیکڑے جیسا ہے جو کبھی تو آگے بڑھتا ہے اور کبھی پیچھے ہٹتا چلا جاتا ہے۔ پیسہ کمانے اورجمع کرنے کی زبردست خواہش آپ کے اند رپائی جاتی ہے اور آپ اچھی خاصی رقم جمع کر لیتے ہیں۔ آپ کی یہ خوبی آپ کو مالیاتی اداروں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے قابل بناتی ہے لیکن درحقیقت اس خواہش کا بنیادی سبب غیرمعمولی عدم تحفظ کے احساس سے پیدا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی آپ بے حد محتاط اور مختلف رویہاپناتے ہیں اور کوئی خطرہ مول لینے سے گھبراتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ مزید ملنسار اور بے تکلف ہونا سیکھیں، اس سے آپ کو فائدہ پہنچے گا۔ آپ پسند، ناپسند اور وفاداری کے معاملے میں شدت پسند واقع ہوئے ہیں۔
آپ میں دوسری شدت پسندی کا تعلق جنسی تعلق کے غلبے سے ہے جس کا ایک سبب آپ کی چمٹے رہنے والی فطرت ہے۔ آپ قربت اور ارمانوں کی تکمیل کے خواہاں ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو آپ میں جبر و استبداد اور مزاحمت پروان چڑھ سکتے ہیں اور یہ سب عدم تحفظ کے احساس کا ہی حصہ ہے۔ آپ کے اندر احساسات کی بڑی گہرائی پائی جاتی ہے اور یہ احساسات آسانی سے مجروح ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ آپ یہ بات بڑی حد تک اپنی ذات تک محدود رکھتے ہیں لیکن درحقیقت یہ ہے کہ آپ زیادہ تر اوقات میں اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کرنے کے بجائے انہیں چھپانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اگرچہ آپ کینہ پرور نہیں ہیں لیکن اپنے ساتھ کی گئی زیادتی یا بدسلوکی کبھی نہیں بھولتے۔
گاہے اس پر طاری ہوتی رہتی ہے تو یہ بڑے گرم جوش، حساس اور محبت کرنے والے لوگ ہیں۔

سرطان اور اسد کا ساتھ
سرطان کا عنصر پانی اور اسد کا آگ ہے۔دونوں عناصر کے درمیان بعد مشرقین ہے۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق یہ باہم جڑواں برج ہیں، لہٰذا دونوں کے درمیان موافقت یا عدم موافقت کا کوئی زاویہ نظر نہیں ہے۔ا سد شخصیت کی مثبت خصوصیات فراخ دلی، وقار، گرم جوش، محبت، مہربانی اور وفاداری، خودشناسی، چستی اور ڈرامائی اور شاہانہ انداز ہے جب کہ منفی خصوصیات میں غرور و تکبر، شیخی، خودپسندی، ضرورت سے زیادہ خوداعتمادی اور تشدد شامل ہیں۔
اسد طاقت ہی طاقت ہے اور شیر کی دھاڑ کیکڑے کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہے۔ بہرحال کیکڑا، شیر سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ مثلاً یہ کہ ”فکر کرنا چھوڑو اور خوش رہنا سیکھو۔“ اسد اسے تحفظ فراہم کر سکتا ہے اور اس کا خیال رکھ سکتا ہے۔ اگر وہ ایک دوسرے کو بدلنے کی کوشش نہ کریں بلکہ ایک دوسرے کو سہارا دیں اور ایک دوسرے سے سیکھیں تو یہ رشتہ سودمند اور پائیدار ثابت ہو سکتا ہے۔ اسد کی پُراعتماد شخصیت اور بے تکلفی کیکڑے کو اس کے خول سے باہر لے آئے گی، جو بہت شرمیلا اور حساس ہے لیکن جب اسد اس پر غالب آنے کی کوشش کرے گا تو معاملہ بگڑ سکتا ہے۔ اگر اسد محبت اور نرمی سے کام لیتا رہے تو زندگی کا سفر ہم آہنگی کے ساتھ طے ہو سکتا ہے۔ پیسے کے معاملے میں بھی دونوں کی سوچ میں اختلاف ہے۔ اسد کے خیال میں پیسہ خرچ کرنے کے لیے ہوتا ہے اور وہ شاہانہ طریقے سے زندگی گزارنا چاہتا ہے جب کہ سرطان خرچ کرنے کے معاملے میں بہت محتاط ہے۔ اس کا اصول یہ ہے کہ پیسہ مستقبل کے لیے بچا کر رکھو۔ بہرحال یہ اختلافات اگر نمایاں ہو جائیںتو اس رفاقت کا قائم رہنا مشکل ہوگا۔
« Last Edit: March 19, 2013, 05:29 AM by Master Mind »

Offline Master Mind

  • 4u
  • Administrator
  • *
  • Posts: 4468
  • Reputation: 85
  • Gender: Male
  • Hum Sab Ek Hin
    • Dilse
    • Email
Re: Cancer Horoscope برج سرطان
« Reply #1 on: March 19, 2013, 05:30 AM »

کا عشرہ اوّل

اگر آپ کی تاریخ پیدائش 25 جون سے 2 جولائی تک ہے تو آپ برج سرطان کے عشرئہ اوّل میں پیدا ہوئے ہیں، جس پر سیارہ قمر ہی حکمران ہے، لہٰذا آپ کو ایک خالص سرطانی شخصیت کہا جا سکتا ہے۔ سرطان کے اس عرصے کا مرکزی خیال ”دردمند“ ہے۔ اس عرصے کو انسانی زندگی کے اس پہلو سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جب سمجھنے، محسوس کرنے اور ایک حد تک دوسروں کی مدد کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اس عشرے میں پیدا ہونے والے افراد کی نمایاں خصوصیات میں چمٹے رہنے کی مضبوطی اور ہم دردی و وفاداری، متلون مزاجی، نظریہ پسندی، شک و یاسیت، تذبذب اور احساس کم تری شامل ہے۔ یہلوگ اپنا راستہ بنانے میں بڑے ہوشیار ہوتے ہیں، کیوں کہ دوسروں کی ضروریات اور محسوسات کو سمجھنے کا خصوصی ملکہ رکھتے ہیں۔ اس تاثر کے باوجود کہ عام سرطان افراد خواب زدہ اور بے عمل ہوتے ہی۔ عشرئہ اوّل کے سرطان اکثر اپنے خوابوں کی تعبیر پا لیتے ہیں۔ یہ لوگ حیرت انگیز طور پر کاروبار کی سخت اور محنت طلب دنیا میں مالی معاملات کو متاثرکن انداز میں سنبھالنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ مزید یہ کہ عشرئہ اوّل والوں کی ایک خصوصیت سیلزمین شپ بھی ہے۔ انسانی نفسیات پر ان کی گہری نظر ہوتی ہے اوریہ دوسروں کو باآسانی قائل کر سکتے ہیں۔ ان لوگوں کے لیے گھر انتہائی اہمیت رکھتا ہے، لہٰذا یہ گھر کے تحفظ کا احساس ہمیشہ ساتھ لیے پھرتے ہیں اگرچہ یہ لوگ ”دفاعی ذہن“ کا رجحان رکھتے ہیں لیکن کسی موقع پر کیکڑے کی طرح انتہائی جارحانہ فطرت کا اظہار بھی کر سکتے ہیں۔ اس عشرے میں پیدا ہونے والی مشہور شخصیات یہ ہیں: مشہور نابینا ماہر تعلیم ہیلن کیلر، شہرئہ آفاق فلسفی روسو، عظیم باکسر مائیک ٹائی سن، شہزادی ڈیانا اور انمیلڈامارکوس۔

برج سرطان کا عشرہ دوم

اگر آپ 3 جولائی سے 10 جولائی تک کے عرصے میں پیدا ہوئے ہیں تو آپ کا تعلق برج سرطان کے دوسرے عشرے سے ہے، جس پر سیارہ پلوٹو کی حکمرانی ہے اور اس طرح آپ سیارہ قمر اور پلوٹو کے اثرات کا امتزاج اپنی شخصیت و فطرت میں رکھتے ہیں۔
برج سرطان کے عشرئہ دوم کا مرکزی خیال ”غیرروایتی“ ہے۔ اس عرصے میں پیدا ہونے والوں کی زندگی عموماً غیررسمی اور غیرروایتی سرگرمیوں یا غیرمعمولی لوگوں میں ان کی دل چسپی کا مرکز بن جاتی ہے۔ مزید یہ کہ ان کی توجہ اپنی شخصیت کو بے مثال بنانے پر مرکوز ہوجاتی ہے، نوعمری کی پختہ سوچ کے تحت نہیں بلکہ نسبتاً اپنی انفرادیت قائم کرنے کے ضمن میں۔
عشرئہ دوم کا یہ عرصہ جن ایام پر مشتمل ہے، وہ گروپ کی اہمیت کو جانچنے، پوشیدہ رازوں کوعیاں کرنے، اپنے آپ کو نمایاں کرنے، نیز عجیب و غریب خیالات کو جگہ دینے، ہوائی قلعے تعمیر کرنے اور تلاش و جستجو سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسے میں تذبذب، ڈھلمل یقینی اپنا کردار ادا کرتی ہیں اور اوٹ پٹانگ سوچ سے معمور اس عرصے پر جوشے اپنا سب سے گہرا سایہ ڈالتی ہے، وہ ہے سستی، کاہلی اور تصور کا فقدان۔
عشرئہ دوم کے دوران پیدا ہونے والے سرطان افراد ہمیشہ ویسے نہیں ہوتے جیسے نظر آتے ہیں۔ وہ چاہے اپنے بارے میں نارمل تاثر دیں یا نہ دیں، ان کے بارے میں یقین کیا جا سکتا ہے کہ سطح کے نیچے ایک انوکھے، نرالے بلکہ عجیب و غریب ماضی اور خیالی زندگی کے رنگ ہلکورے لے رہے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مدت میں پیدا ہونے والے اپنے لاشعور سے رابطے میں رہتے ہیں، لہٰذا ضروری نہیں کہ ان کی عجیب و غریب حرکتیں انہیں بھی عجیب و غریب لگیں۔ وہ ناصرف انوکھے لوگوں میں بڑی کشش محسوس کرتے ہیں بلکہ عام سے نارمل لوگوں کے خبطی اور سنکی پہلوﺅں میں بھی خصوصی دل چسپی لیتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ بے شک معمولی پیشوں میں بالکل نارمل کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور کسی پر یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ خاص طو رپر عجیب ہیں، کیوں کہ وہ اپنی اوٹ پٹانگسوچ اور بے سرپیر خیالات کو اپنی ذات تک محدود رکھتے ہیں، جب کہ دوسری قسم کے عشرئہ دوم والے بے فکر اور بے پروا ہوتے ہیں۔ وہ اپنے تصوراتی جلووں کا درحقیقت دیدار کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔ یہ لوگ زندگی کے خفیہ گوشوں میں ایک روزن بنا کر ان پر روشنی ڈالتے ہیں اور یہ ایسے گوشے ہوتے ہیں جن کے بارے میں لوگ درحقیقت سوچتے تو ہیں لیکن اظہار کی جرات نہیں کر پاتے۔ وہ اپنے سماجی حلقے میں، حتیٰ کہ کاروباری دنیا میں عزت کا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ ان لوگوں کو چاہیے کہ دنیا کے سامنے نمایاں ہونے کی صحیح معنوں میں کوشش کریں اور زیادہ حساس نہ بنیں۔ اپنے کاروباری شعور کو پروان چڑھائیں، ان لوگوں سے رابطہ رکھیں جو آپ کی قدر کرتے ہیں۔ اس عشرے میں پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات یہ ہیں: مشہور ادیب فرانز کافکا، مشہور اداکار سلویسٹر اسٹالون، جان ڈی راک فیلر، ناول نگار باربر اکاٹ لینڈ، مذہبی پیشوا دلائی لامہ۔

برج سرطان کا عشرہ سوم

اگر آپ 11 جولائی سے 18 جولائی کے درمیان کسی بھی تاریخ کو پیدا ہوئے ہوں تو آپ کا تعلق برج سرطان کے تیسرے عشرے(دریجان) سے ہے۔ اس عشرے کا مرکزی خیال ”ترغیب دینے والا“ ہے اور اس عشرے پر سیارہ نیپچون حکمران ہے، جس کی خصوصیات میں پُراسراریت، سائنسی اور فن کارانہ رجحانات اور موجدانہ تخلیقی صلاحیتیں شامل ہیں مگر ساتھ ہی اپنے منفی اثرات میں بدنظمی، افراتفری، ہنگامہ آرائی اور فتنہ و فساد کی حالت بھی پیدا کر دیتا ہے۔ سیارہ قمر اور نیپچون کے اثرات کا امتزاجی اثر اس عشرے میں پیدا ہونے والے افراد کو قابل تغیر اور ناقابل قیاس فطرت کا مالک بناتا ہے۔ یہ لوگ عموماً سب سے بڑی جنگ خود اپنے خیالات کے خلاف لڑتے ہیں اور ابتدائی عمر میں ان کیمثبت یا منفی خصوصیات کا اندازہ ہوجاتا ہے۔
برج سرطان کے تیسرے عشرے میں پیدا ہونے والے مرد و خواتین کو اپنی قدر اور اہمیت کا دوسروں کو احساس دلانا یا قائل کرنا یا ان سے کام نکالنا خوب آتا ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے طاقت ور گھاگ لوگ اس عشرے میں پیدا ہوئے۔ یہ لوگ اپنے عظیم جذبے اور الوالعزمی کا اظہار کرتے ہیں مگر ہرگز آنکھیںبند کر کے کسی اندھے کنویں میں چھلانگ نہیں لگا سکتے۔ اگرچہ وہ مناظرے کے فن میں طاق ہو سکتے ہیں لیکن محض اپنی موجودی سے دوسروں کو قائل کر سکتے ہیں۔ ان کے لیے سیاسی اور سماجی داﺅ پیچ بائیں ہاتھ کا کھیل ہیں۔ اپنے آپ کو منوانے کی انتہائی اثرآفریں فطرت کا حامل ہونے کے سبب انہیں دوسروں پر حد سے زیادہ دباﺅ ڈالنے سے لازمی طو رپر گریز کرنا چاہیے، خاص طور سے جب بچوں کی تعلیم و تربیت کا معاملہ ہو۔ یہ لوگ جب اپنے خاندان، ادارے یا ملک و قوم کی بہتری اور اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے کام کر رہے ہوں تو انہیں جھٹلانا یا ان کی مخالفت کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ اگر یہ سیدھی اور سچی راہ پر گامزن ہوں، ان کی نیت اچھی ہو اور پُرخلوص و بے لوث ہوں تو ایک ترجمان یا نمائندے کی حیثیت سے اپنی طاقت کو دوسروں کی بھلائی کے لیے استعمال کر کے سب کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔
اس عشرے میں پیدا ہونے والی دنیا کی مشہور شخصیات میں عظیم مصور ریمبرا، نیلسن منڈیلا، رومن جنرل جولیس سیزر، مشہور امریکی ناول نگار اور قانون دان ارل اسٹینلے گارڈنر اور ارونگ اسٹون کوڈک کیمرے کا موجد، جارج ایسٹ مین، مشہور برطانوی کرکٹر ڈاکٹر گریس، مشہور باکسر لیون اسپنکس، شہرئہ آفاق اداکار یُل برائنر، ہیری سن فورڈ، اداکارہ انگمرڈ برگمین وغیرہ شامل ہیں۔
برج سرطان کی مثبت اور منفی خصوصیات ایک نظر میں
سرطان شخصیت کی مثبت خصوصیات میں مضبوطی اور استحکام، احساس و تخیل، ہم دردی اور پُراسراریت، اثرپذیری اور وفاداری اور بااصول ہونا شامل ہے، جب کہ اس کی منفی خصوصیات میں من موجی پن، احساس کم تری، تذبذب، یاسیت، زودرنجی اور معاف نہ کرنا شامل ہیں۔

سرطان بچہ

یہ بچے نہایت حساس اور اپنے اردگرد کے ماحول کا جلداثر قبول کرنے والے ہوتے ہیں۔ ان کی پسند ناپسند کا بے حد خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ کسی کام کے لیے انہیں جبراً مجبور نہ کیا جائے، ورنہ ان کی صحت پر برا اثر پڑے گا۔ عموماً یہ دوسرے بچوں سے الگ تھلگ رہتے ہیں مگر انہیں روایتی دوستی اور ہم دردی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بڑے فرض شناس ہوتے ہیں اور بڑی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اپنے گھر اور والدین سے خصوصی لگاﺅ رکھتے ہیں۔ معدے اور نظام ہضم کی خرابیاں انہیں اکثرپریشان کرتی ہیں، اس کے علاوہ نزلہ اور کھانسی اور اعصابی تھکن بھی ان کی خاص بیماریاں ہیں، لہٰذا ان کی خوراک کے سلسلے میں خصوصی توجہ دینی چاہیے، ورنہ یہ چڑچڑے، بدمزاج اور سست و کاہل ہو سکتے ہیں۔

سرطان باپ

ایک سرطان باپ کی حیثیت سے آپ میں باپ کی بہترین شفقت ہی نہیں ماں کی ممتا کا جذبہ بھی موجود ہے مگر آپ اپنی اولاد پر اس وقت اپنی ساری محبت نچھاور کر دیتے ہیں جب وہ بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔ ان کے نشوونما پانے کے ساتھ ساتھ ان کا اور ان کے خیالات کا ساتھ دیں، انہیں سختی سے مت جھڑکیں اور غصے سے بے قابو نہ ہوں۔ آپ بہت خیال پرور ہو سکتے ہیں اور اپنے بچوں کی قوت متخیلہ کو بڑھا سکتے ہیں۔ آپ کے لیے بہترین بات یہ ہوگی کہ زندگی کو اپنے بچوں کی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کریں۔
[/c]


Offline Master Mind

  • 4u
  • Administrator
  • *
  • Posts: 4468
  • Reputation: 85
  • Gender: Male
  • Hum Sab Ek Hin
    • Dilse
    • Email
Re: Cancer Horoscope برج سرطان
« Reply #2 on: March 19, 2013, 05:31 AM »

ماں

آپ گھر گرہستی کی شان دار حکمران ہیں اور ممتا کی بے مثال تصویر بھی ہیں۔ آپ گرم جوش اور بے حد محبت کرنے والی ہستی ہیں۔ اپنے بچوں کو اپنے پیروں میں سمیٹ کر رکھتی ہیں، تاہم آپ میں اپنے بچوں کے بارے میں حد سے زیادہ پریشان ہونے اور ان کا دل ٹٹولنے کا رجحان پایا جاتا ہے، اس کے بعد ہی آپ کی ممتا کو سکون نصیب ہوتا ہے۔

سرطان شوہر

سرطان مرد کم از کم دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک حاکمانہ مزاج کا حامل، عمدہ گھر پسند کرنے والا لیکن وہ رعب جمانے، ہنگامہ آرائی کرنے، کاموں میں عیب نکالنے اور نکتہ چینی کرنے کا عادی ہوتا ہے۔
دوسری قسم منفی صفات کی حامل ہوتی ہے۔ ایسے سرطان مرد بے حس، سست، نکمے اور تن پرور ہوتے ہیں۔ وہ عموماً شادی بھی صرف دولت اور مرتبے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی دھن کے پکے ہوتے ہیں۔
سرطان شوہر عموماً ایک مشکل شخص ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ گزارا کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔دوسرے مردوں کے مقابلے میں وہ گھر پر زیادہ وقت گزارتا ہے۔ گھر اور خاندان کی روایتی قدروں سے بڑی محبت کرتا ہے۔ تلون مزاجی، تغیر پذیری، جذباتیت و حساسیت، جوش و جذبہ جو عورتوں میں پایا جاتا ہے، وہ سرطان مرد میں بھی موجود ہوتا ہے۔ سرطان شوہر وفادار بن کر رہنا چاہتا ہے اور اس کا ذہن اپنی بیوی اور خاندان کے مسائل کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔ اس کے طور طریقوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ اپنی خدمت کروانے کے لیے حکم چلا رہا ہو۔ وہ کسی کام سے مطمئن نہیں ہوتا اور بہت پیار کرنے والی، خدمت گزار بیوی بھی اس کی حکمرانی کے بوجھ کو بری طرح محسوس کرنے لگتی ہے۔ عام طور پر سرطان شوہر وفادار ہوتے ہیں اور گھر سے باہر تعلقات قائم کرنا پسند نہیں کرتے، لہٰذا جب تک ان کے حواس انہیں گم راہ نہ کریں، وہ کسی پے چیدگی میں ملوث ہونے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

سرطان بیوی

سرطان بیویاں بڑی جذباتی اور اپنائیت کا اظہار کرنے والی ہوتی ہیں اور خود کو خاندانی زندگی میں گم کر دیتی ہیں۔ ایک عام جائزے کے مطابق ان کا مجموعی کردار روایتی نسوانیت ہوتا ہے۔ سرطان بیوی کی صورت میں آپ کو ایک کامل عورت مل سکتی ہے، کیوں کہ سرطان عورت درحقیقت بھرپور مادرانہ محبت و شفقت کی حامل ہوتی ہے۔ اگر اس کے زائچہ پیدائش میں دیگر سیارگان منفی اثرات پیدا نہ کر رہے ہوں تو وہ نہایت ہم درد، پیار کرنے والی خاتون ہوتی ہے۔ اس کا شوہر اسے جو کچھ مہیا کرتا ہے،وہ اس پر صابر و شاکر رہتی ہے۔ اس کا گھر وہی ہوتا ہے جہاں اس کا شوہر رہنے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔ وہ ایک معمولی رہائش گاہ میں چار چاند لگا دیتی ہے۔ اس کی موجودی باعث تقدس ہے۔ وہ جانتی ہے کہ اہل خانہ کی خدمت کیسے کی جاتی ہے۔ اس کی وفاداری قابل احترام خیال کی جاتی ہے اور اہل خانہ اس سے محبت کرتے ہیں۔
برج سرطان کے تابع پیدا ہونے والی خواتین میں ان خصوصیات کے علاوہ تلون مزاجی بھی پائی جاتی ہے، تبدیلی پسند اور شائستگی ہے۔ ناآشنا سرطان لڑکیوں کے لیے شادی کرنا بہت آسان ہوتا ہے، کیوں کہ ان کی فطری عادتیں اتنی ہم دردانہ ہوتی ہیں کہ شادی کے خواہش مند حضرات ان کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں اور چوں کہ انہیں تحفظ کی تلاش ہوتی ہے، سو وہ انہیں مل جاتا ہے لیکن اگر ایک ایسی لڑکی جو اعلیٰ اقدار کا شعور اور باوقار پس منظر نہیں رکھتی تو اسے اپنے شوہر کی مدد اور رہنمائی کی ضرورت پڑے گی، تاکہ وہ اپنے فرائض سمجھ سکے اور درست طور پر انجام دے سکے۔
سرطان بیوی کے تصور میں شوہر کا رتبہ ایک ”دیوتا“ کے مانند ہوتا ہے جو قابل پرستش ہے اور اگر وہ اسے مایوس کر دیتا ہے تو اس ناکامی کا روحانی صدمہ اس کے لیے ناقابل برداشت ہوتا ہے۔

گھر، ماں اور محبت

سرطان افراد کی زندگی میں ان تین چیزوں کی بڑی اہمیت ہے گھر، ماں اور محبت۔ گھر وہ جگہ ہے جہاں زندگی کی ابتدا اور انتہا ہوتی ہے۔ سرطان افراد(مرد و خواتین) کے لیے ان کا ذاتی گھر ضروری ہے تب ہی وہ خوش اور مطمئن رہ سکتے ہیں، کرائے کا مکان کبھی سرطان افراد کو احساس تحفظ نہیں دلا سکتا۔ درحقیقت عدم تحفظ کا احساس جتنا برج سرطان میں ہے، کسی اور برج میں نہیں۔ بچپن میں اسی لیے ماں کا مضبوط اور مامتا بھرا سایہ ان کے لیے ضروری ہے۔ یہ لوگ ہمیشہ اپنی ماں سے چپکے رہنا چاہتے ہیں، حد یہ کہ جوانی میں شادی کے بعد بیوی میں بھی ماں کی سی خیال رکھنے والی خصوصیات کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ عدم تحفظ کا یہی احساس انہیں ساری زندگی ایک ایسی محبت کی تلاش میں سرگرداں رکھتا ہے جس کی سچائی اور کاملیت کا انہیں پوری طرح احساس اور یقین ہے۔ اگر ایسی محبت سرطان افراد کو مل جائے تو وہ اپنے عدم تحفظ کے احساس سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔

سرطان کی صحت

جہاں تک سرطان افراد کی صحت کا تعلق ہے، اس کا سارا انحصار ان کے احساسات پر ہے۔ اگر ان کے احساسات کا موسم خوش گوار ہے تو جسمانی صحت بھی بہتر رہے گی اور اگر احساسات کا موسم مستقلناگواری، خوف اور خدشات سے بھرپور ہے تو جسمانی صحت کا بہتر ہونا بڑا مشکل کام ہے۔
اگر آپ ایک سرطان شخصیت ہیں اور بہت زیادہ کھانے یا بلانوشی پر اتر آئیں یا اس کے برعکس کھانا پینا چھوڑ دیں تویقین سے کہا جا سکتا ہے کہ آپ کو کوئی فکر یا غم کھا رہا ہے۔ آپ کھانے پینے کے شوقین ہیں، خاص طور سے آپ کو میٹھی چیزوں سے رغبت ہے۔ اس کے نتیجے میں آپ کی کمر پھیل سکتی ہے۔ آپ کے لیے اپنے جذبات پر قابو پانا ایک خوش و خرم اور پُرسکون گھریلو زندگی کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے ایک قابل بھروسا دوست کی ضرورت ہوگی، جس سے آپ اپنے دل کی بات کر کے ذہنی سکون محسوس کریں۔ ایک قابل اعتماد دوست یا ساتھی جس کے سامنے آپ اپنا دل کھول کر رکھ دیں، آپ کی بہت سی بیماریوں کا علاج ہے۔ اس کے علاوہ پابندی سے جسمانی ورزش بھی آپ کے لیے ضروری ہے۔ ورزش سے بڑھ کر کوئی اور شے آپ کی بلڈشوگر اور جذبات کو متوازن نہیں رکھ سکتی۔ مراقبہ آپ کے ذہن کو متانت اور بدن کو لچک عطا کر سکتا ہے۔ روزانہ چند منٹ کا مراقبہ آپ کے لیے اکسیر ثابت ہو سکتا ہے۔

سرطان اور حمل کا ساتھ

سرطان پانی اور حمل آگ ہے۔ دونوں عناصر ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق حمل سرطان سے دسویں نمبر پر ہے اور سرطان حمل سے چوتھے نمبر پر ہے۔ یہ زاویہ¿ نظر کسی جذباتی تعلق کے لیے ہرگز مناسب نہیں ہے۔
حمل شخصیت اپنے مثبت پہلوﺅں میں باہمت، پیش قدم، پُرجوش، نڈر، مستعد اور سرگرم، بے ساختہ اور کشادہ و صاف ذہن ہوتی ہے، جب کہ اس کی منفی خصوصیات میں خودغرضی و بے غرضی، بے صبراپن، خودبینی اور تکبر، شدت پسندی اور حسد، غلبہ پرستی اور اکھڑپن وغیرہ شامل ہیں۔
سرطان اور حمل کا ملاپ کسی دھماکاخیز صورت حال کا آغاز ہو سکتا ہے جس سے چنگاریاں اور شعلے ہی نکل سکتے ہیں مگر جلد ہی طوفان گزر جائے گا اور صرف اس کے اثرات رہ جائیں گے اور ظاہر ہے یہ اثرات دونوں کے لیے منفی سوچیں چھوڑ جائیں گے۔ حمل کے نزدیک زندگی ایک بہت بڑا چیلنج ہے، ایک زبردست مقابلہ ہے، لہٰذا وہ چیلنجوں اور رکاوٹوں کو ڈھونڈنے اور ان پر غالب آنے کے لیے نکل پڑتا ہے۔ اس کے لیے مقابلے کے بغیر زندگی کا کوئی لطف ہی نہیں، کوئی مزہ ہی نہیں۔ زندگی کے سلسلے میں سرطان کا رویہ سست، محتاط اور عیارانہ ہے۔ کیکڑا کبھی بھی مینڈھے کی طرح سیدھ میں آگے نہیں بڑھتا بلکہ کنارے کنارے سے پہلو بچاتے ہوئے آگے بڑھتا ہے۔ حمل کو اپنی طاقت کا اتنا یقین ہوتا ہے کہ جب اسے ٹھیس لگتی ہے تو اپنے دفاع میں آگ بگولا ہو جاتا ہے۔ کیکڑا اس کے غیرمحفوظ ہونے پر اسے طعنے دیتا ہے اور جب کیکڑے کو ٹھیس لگتی ہے تو وہ اپنے خول میں جا گھستا ہے یا پھر محض کیکڑا بن کر رہ جاتا ہے، لہٰذا یہ بات واضح ہے کہ ان دونوں کی سوچ مختلف ہے اور عادات بھی مختلف ہیں۔ آگ کی خوش امیدی اور پانی کی یاسیت پسندی، لیکن اگر دونوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے کی مہلت ملے تو وہ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے چاند پر پہنچ سکتے ہیں۔

سرطان اور ثور کا ساتھ

سرطان کا عنصر پانی اور ثور کا مٹی ہے۔ دونوں کے درمیان حقیقی موافقت موجود ہے۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق بھی دونوں بروج کے درمیان موافقت کا زاویہ نظر موجود ہے۔ ثور، سرطان کی امیدوں کا مرکز ہے، جب کہ سرطان ثور کی ذہنی سرگرمیاں اور دل چسپیوں کا مرکز ہے۔
ثور شخصیت اپنے مثبت پہلوﺅں میں عملی مادہ پرست، خودبیں، فن کار، محتاط، پُراعتماد، نرم دل، قابل بھروسا اور وفادار ہے جب کہ منفی پہلوﺅں میں ضدی، غلبہ پسند، متعصب، اکھڑا، سست، خودپسند اور تنگ نظر ہوتی ہے۔
سرطان اور ثور کا اعتماد عمدہ ثابت ہو سکتا ہے، حالاں کہ دونوں ایک دوسرے سے اتنے ہی مختلف ہیں جتنے بظاہر دیکھنے میں نظر آتے ہیں مگر ان میں بہت سی قدریں مشترک ہیں، دونوں کو کھانا کھانے کا جتنا شوق ہے اتنا ہی پکانے کا بھی شوق ہے۔ دونوں کو گھر سے بہت محبت ہے۔ دونوں ڈھیر ساری سبز چیزوں کے شیدائی ہیں اور صرف سبزہ یا سبزی کے ہی نہیں بلکہ نوٹوں کے بھی۔ یہاں تک تو سب خیریت ہے، مسئلہ سرطان کے موڈ سے شروع ہوتا ہے۔ کیکڑا بلا کا موڈی ہے، گھڑی میں تولہ، گھڑی میں ماشہ۔ یہ بہت حساس ہے اور اسے ڈھیر ساری ہم دردی کی ضرورت ہے۔ کیکڑے کے بارے میں وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کب وہ ہنس پڑے گا، کب رونا شروع کر دے گا اور کب روتے روتے پھرہنس پڑے گا اور اس کے موڈ کو بدلتے دیر نہیں لگتی اور سانڈ کے لیے اس سے ہم دردی جتانا ذرا مشکل ہو جاتا ہے، خاص طور سے اس وقت جب کیکڑے پر خودترسی کے جذبات طاری ہوں۔ یہ بات نہیں کہ ثور رحم دل نہیں ہے، بات صرف اتنی سی ہے کہ ثور کے خیال میں ٹسوے بہانا محض تضیع اوقات ہے۔
دونوں افراد بلا کے بچت کرنے والے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دونوں کنجوس ہیں، بلکہ عدم تحفظ کا احساس انہیں مستقبل میں برے وقتوں کے لیے کچھ بچا کر رکھنے پر مائل کرتا ہے۔ بہرحال مالی اور جذباتی طور پر یہ جوڑی زبردست ہے۔
[/c]


Offline Master Mind

  • 4u
  • Administrator
  • *
  • Posts: 4468
  • Reputation: 85
  • Gender: Male
  • Hum Sab Ek Hin
    • Dilse
    • Email
Re: Cancer Horoscope برج سرطان
« Reply #3 on: March 19, 2013, 05:31 AM »

اور جوزا کا ساتھ

یہ پانی اور ہوا کا ساتھ ہے۔ دونوں کی ترجیحات مختلف ہیں۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق دونوں جڑواں بروج ہیں، اس لیے ایک دوسرے میں کشش محسوس کرتے ہیں لیکن دونوں کے درمیان موافقت یا عدم موافقت کا کوئی زاویہ نظر موجود نہیں ہے۔ جوزا شخصیت اپنے مثبت پہلوﺅں میں ہنس مکھ اور حاضر جواب،ہوشیار اور پُرجوش، ہمہ گیر اور زندہ دل، مصلحت اندیز اور موقع شناس جب کہ اس کے منفی پہلوﺅں میں قوت فیصلہ کی کمی، بے پروائی، بے ڈھنگاپن، خودپسندی، بے تکلفی وغیرہ شامل ہیں۔
سرطان اور جوزاکا باہمی تعلق عجیب ہے۔ اس جوڑی کے کامیاب ہونے کے روشن امکانات موجود ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی خامیوں اور خوبیوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ جوزا سرطان کو اپنی قوت متخیلہ سے انتہائی بلندی پر لے جا سکتا ہے۔ جوزا اور سرطان ایک سے زائد معاملات میں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ دونوں کو باتیں کرنا اچھا لگتا ہے، دونوں طویل داستانیں خوب مرچ مسالہ لگا کر مزاحیہ پیرائے میں بیان کر سکتے ہیں۔ دوسری قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں موڈی ہیں اور پل پل ان کا موڈ بدلتا رہتا ہے۔
دونوں ہی خواب و خیال کی دنیا میں رہنے والے ہیں اور مرکزنگاہ بننا پسند کرتے ہیں لیکن کیکڑا بہرحال بہت گھنا ہے۔ وہ کبھی اپنے جذبات یا خوف ظاہر نہیں کرتا جب کہ جوزا بہت کھلے دل کا ہے، وہ اپنا خوف، اپنے جذبات، خواب اور آرزو غرضیکہ سب کچھ بلاجھجک بیان کرتا ہے۔ جوزا ایک آزاد پنچھی بھی ہے جو آزادی کا متوالا ہے۔ یہی بات ان دونوں میں ٹکراو کا سبب بھی بن سکتی ہے، کیوں کہ سرطان حق ملکیت جتاتا ہے۔

سرطان اور سرطان کا ساتھ

اگرچہ دونوں یکساں خصوصیات کے حامل برج ہیں لیکن ان کی خصوصیات میں اس وقت کچھ فرق واقع ہو سکتا ہے جب دونوں میں سے کوئی ایک حد اتصال یا کسی دوسرے عشرے سے تعلق رکھتا ہو یا پھر دونوں کا انفرادی زائچہ پیدائش بھی دونوں کے درمیان تضادات کا سبب ہو سکتا ہے۔سرطان اور سرطان کی رفاقت اچھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس میں ہم آہنگی ہے اور اس بات کا غالب امکان ہے کہ یہ رفاقت پائیدار ثابت ہوگی۔ دو کیکڑے ساتھ بیٹھ کر ماضی کے ایام یاد کر سکتے ہیں جو ہمیشہ کے لیے بیت گئے ہیں۔ ماضی ان کے اعصاب پر سوار رہتا ہے اور وہ اسے کبھی نہیں بھولتے۔ دونوں ہی جذباتی اعتبار سے عدم تحفظ کا شکار رہتے ہیں اور شاید صرف اپنی ان ہی خصوصیات کی وجہ سے مکمل طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ انہیں ہمیشہ مستقبل کی فکر رہتی ہے اور وہ اپنے بڑھاپے کے لیے رقم جمع کرنے کی منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں۔ انہیں ہرو قت یہی خوف دامن گیر رہتا ہے کہ بڑھاپے میں انہیں کوئی نہیں پوچھے گا، وہ تنہا رہ جائیں گے، قلاش ہو جائیں گے، در در کی ٹھوکریں کھائیں گے وغیرہ۔ یہ سب سے بڑا خوف ہے جو ہر وقت ان کے اعصاب پر سوار رہا ہے۔ بہرحال اس بات کا امکان ہے کہ وہ اپنے خوف کے زیراثر لکیر کے فقیر ہو کر رہ جائیں اور زندگی سے زیادہ لطف اندوز نہ ہو سکیں گے۔ بہت سا خوف اور بہت سے آنسو، انہیں اس کی طرف سے محتاط رہنا چاہیے۔ اگرچہ کیکڑے میں بڑی امنگ اور ترنگ ہوتی ہے اور اگر آپ اس کی آدم بے زاری اور روٹھی روٹھی سی کیفیت کو نظرانداز کر دیں جو گاہےگاہے اس پر طاری ہوتی رہتی ہے تو یہ بڑے گرم جوش، حساس اور محبت کرنے والے لوگ ہیں۔

سرطان اور سنبلہ کا ساتھ

سرطان کا عنصر پانی اور سنبلہ کا مٹی ہے۔ دونوں کے درمیان ایک موافق تعلق موجود ہے۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق بھی دونوں کے درمیان موافق زاویہ نظر موجود ہے۔ سنبلہ شخصیت اپنے مثبت پہلوﺅں میں سلیقہ مند، معقولیت پسند، قاعدے قرینے کی خواہش مند، کچھ پُراسرارسی باتمیز ہوتی ہے، جب کہ اس کے منفی پہلو یہ ہیں: نکتہ چینی، اعتراض، تنگ نظری، کنجوسی، غیر ہم دردانہ رویہ وغیرہ۔
یہ ایک عمدہ جوڑی ہے۔ سنبلہ سرطان سے بہت فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ دونوں ہی محنتی ہیں، دونوں کوتحفظ چاہیے اور دونوں مہربان اور قدامت پسند ہیں۔ دونوں مل کر رقم پس انداز کر سکتے ہیں اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنا سکتے ہیں لیکن صرف ایک ہی دھڑکا ہے جو دونوں کو لگا رہتا ہے، آنے والے کل میں مالی تحفظ۔ سنبلہ کو سرطان کی مادرانہ شفقت اور تحفظ کی ضرورت ہے اور سرطان سنبلہ کے ٹھنڈے اور پُرسکون طور طریقے سے لطف اندو زہوتا ہے۔ دونوں ہی روایت پسند ہیں۔ مسئلہ اس وقت کھڑا ہو سکتا ہے جب کیکڑا ہر چیز پر اپنی ملکیت جتانے لگے اور یہ بھول جائے کہ سنبلہ کو آزادی اور تخلیہ بہت عزیز ہے۔ درحقیقت کیکڑا بھی بہت انفرادی اور گھنا ہے، لہٰذا جب سنبلہ یہ محسوس کرتا ہے کہ کیڑا اس پر حاوی ہو رہا ہے اور کچھ زیادہ ہی حق جتا رہا ہے تو وہ شدید ردعمل ظاہر کرتا ہے اور اس پر تنقید کی بوچھاڑ کر دیتا ہے اور یہ تنقید کیکڑے کو واپس اس کے خول میں لے جاتی ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے کی اس خامی کو مدنظر رکھنا چاہیے تو یہ جوڑی بہت شان دار ہوگی۔

سرطان اور میزان کا ساتھ

سرطان پانی اور میزان ہوا ہے۔ دونوں کے عناصر میں ربطِ باہمی نہیں ہے۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق دونوں برج مخالف زاویہ¿ نظر رکھتے ہیں۔ میزان شخصیت اپنے مثبت پہلوﺅں میں نفیس اور باسلیقہ، متوازن اور انصاف پسند، ہوشیار و باتدبیر ہے، جب کہ اپنی منفی خصوصیات میں سست اور آرام طلب، ڈھلمل یقین، خودغرض اور بے ثبات، متذبذب اور الگ تھلگ ہے۔
سرطان اور میزان کی رفاقت ایک قلیل مدت کے لیے نہایت شان دار ثابت ہو سکتی ہے۔ دونوں ہی ایک دوسرے کی رفاقت میں ہنس بول سکتے ہیں اور خوب لطف اندوز ہو سکتے ہیں لیکن تھوڑی دیر کے لیے۔ ان دونوں کی بنیادی خصوصیات ایک دوسرے سے اتنی مختلف ہیں کہ ہنسی مذاق اور راگ رنگ کی یہ محفل بہت جلد اُجڑ جاتی ہے۔ دونوں کے درمیان اہم نوعیت کے اختلافات بہت سے ہیں لیکن اگر دونوں ایک دوسرے سے سیکھنے کے متمنی ہوں تو یہ رفاقت نبھ سکتی ہے۔ سرطان پیسے جمع کرنے کا شوقین ہے اور میزان کو بھی اس کا کچھ کم شوق نہیں ہے لیکن میزان اپنی حد سے زیادہ عیاشی اور رنگ رلیوں کے سبب اپنی صحت تباہ کر لیتا ہے، جب کہ سرطان کی صحت اس کی حد سے بڑھی ہوئی یاسیت زدگی کی وجہ سے تباہ ہو جاتی ہے۔ میزان منطق اور استدلال کا حامی ہے اور سرطان سرتاپا حساس اور جذبات سے بھرپور ہے لیکن اس کے جذبات خول میں بند رہتے ہیں۔ میزان امن پسند ہے اورکیکڑا چمٹے رہنے والا ہے جو آسانی سے ہار نہیں مانتا۔ اگر دونوں ایک دوسرے سے سیکھنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں تو اس رفاقت کا نتیجہ اچھا نکل سکتا ہے۔

سرطان اور عقرب کا ساتھ

سرطان اور عقرب کا عنصر پانی اور علم نجوم کے قواعد کے مطابق دونوں برج باہم موافقت کا زاویہ نظر رکھتے ہیں۔ عقرب شخصیت کی مثبت خصوصیات میں بلند حوصلگی، باتدبیری، باریک بینی، ہوشیاری اور موقع شناسی اور اقتدار پسندی شامل ہے جب کہ منفی خصوصیات میں تسلط پسندی، حسد اور جلن، چالاکی، طنز و تشدد اور غرور نمایاں ہیں۔ سرطان اور عقرب کی جوڑی مضبوط ترین رفاقتوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس رفاقت میں سرطان اتنا ہی پنپتا ہے جتنا عقرب پنپ سکتا ہے۔ عقرب میںسرطان کے لیے زبردست مقناطیسی کشش ہے اور سرطان عقرب کی تمام تر طاقت اور پُراسراریت کے باعث شدت سے اس کی طرف کھنچتا ہے۔ یہ دونوں بروج تحفظ اور عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا ہیں۔
دونوں یقین اور غیریقینی کے تذبذب کا شکار ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں حقائق سے آگاہ ہیں اور دونوں اپنے بارے میں بھی خوب جانتے ہیں، لہٰذا دونوں ایک دوسرے پر بھروسا کرتے ہیں۔ سرطان اور عقرب کے نزدیک ان کا ماضی بہت اہم ہے۔ وہ اسے کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ دونوں اپنے بچپن کو یاد کرتے ہیں اور ماضی سے چمٹے رہتے ہیں۔ دونوں کے اعصاب پر پیسہ سوار ہے، جس کی کمی انہیں ہمیشہ محسوس ہوتی رہتی ہے، لہٰذا دونوں پیسے کے حصول کی جدوجہد میں لگے رہتے ہیں۔ یہ قدر مشترک دونوں کو ساتھ ساتھ رکھتی ہے۔

سرطان اور قوس کا ساتھ

سرطان اور قوس پر پانی اور آگ کی شراکت ہوگی۔ دونوں کے درمیان عناصر میں مخالفت موجود ہے جب کہ علم نجوم کے قواعد کے مطابق دونوں کے درمیان کوئی زاویہ نظر نہیں ہے۔ قوس شخصیت اپنے مثبت پہلوﺅں میں بے خوف اور صاف گو، کھلنڈری، متجسس اور ذہین، فراخ دل، خوش مزاج اور آزاد ہوتی ہے جب کہ اس کی منفی خصوصیات میں شیخی خور، جارح فطرت، ضرورت سے زیادہ پُراعتماد، بے سلیقہ، قوت ارتکاز سے عاری اور مبالغہ آرائی ہے۔
سچی بات تو یہ ہے کہ سرطان اور قوس ایک دوسرے کے لیے بنے ہی نہیں۔ باہر کی دنیا اور اسپورٹس کا شیدائی قوس سرطان کے ساتھ گھر میں بند ہو کر نہیں بیٹھ سکتا۔ وہ سیر و سیاحت کے لیے اِدھر اُدھر جانا چاہتا ہے جب کہ سرطان کو نجی محفلوں میں ایک پُرتکلف ماحول میں رہنا پسند ہے۔ کیکڑا جذباتی ہے اور چمٹے رہنا چاہتا ہے، جب کہ قوس آزاد پنچھی ہے اور ہر دم حرکت میں رہنا چاہتا ہے۔ قوس کی ایک کم زوری یہ ہے کہ وہ چالاک نہیں ہے اور کیکڑے کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ وہ حد سے زیادہ حساسہے۔ دوسری اختلافی وجہ یہ ہے کہ قوس پیسہ خرچ کیے بغیر نہیں رہ سکتا اور سرطان یہ برداشت نہیں کر سکتا، البتہ دونوں کچھ معاملات میں ایک دوسرے کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ قوس سرطان کو ہنسا سکتا ہے اور سرطان کی احتیاط پسندی اور حساسیت قوس کے کام آسکتی ہے۔ بہرحال یہ ایک مشکل رفاقت ضرور ہے۔

سرطان اور جدی کا ساتھ

سرطان کا عنصر پانی اور جدی کا مٹی ہے۔ دونوں کے درمیان حقیقی رشتہ موافقت موجود ہے۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق یہ دونوں مقابل کے برج ہیں، یعنی دونوں ایک دوسرے سے ساتویں نمبر پر واقع ہیں اور ساتواں گھر شراکت اور تعلقات سے منسوب ہیں۔ چناں چہ دونوں عمدہ شریک کار یاشریک حیات بن سکتے ہیں۔
جدی شخصیت اپنی مثبت خصوصیات میں حقیقت پسند، جرات مند، عملی، مستقل مزاج، ہم درد و بلند کردار، خاموش طبع اور محتاط منطقی اور محنتی ہیں جب کہ اس کی منفی خصوصیات میں سردمہری اور شک، خودغرضی، خودسری، ضد اور مزاحمت، زود رنجی اور یاسیت شامل ہیں۔
سرطان اور جدی کی شراکت نہایت شان دار ہے۔ یہ ایک عمدہ اور محفوظ رفاقت ثابت ہوتی ہے۔ جدی سرطان کو تحفظ اور چاہے جانے کا احساس لائے گا اور سرطان جدی کو ہنسائے گا، رُلائے گا اور اسے اس کی اہمیت کا احساس بھی دلائے گا۔ دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہیں گے۔ یہ رفاقت پیسہ کمانے کے معاملے میں بھی شان دار ہے۔ دونوں کو جمع کرنے کا شوق ہے۔ انہیں نوادرات سے اتنی ہی محبت ہے جتنی تاریخ سے اور گزرے ہوئے ایام سے۔ فن کارانہ چیزیں اور موسیقی بھی ان کے دلوں کو لبھاتی ہے۔ یہ دونوں چوں کہ دو مختلف سیاروں کے محکوم ہیں، لہٰذا بے حد مختلف فطرت کے مالک ہیں۔ کیکڑا(سرطان) جذباتی ہے۔ وہ انحصار کرنے اور خواب دیکھنے والا ہے۔ بکری(جدی) عملی، خودکفیل اور حقیقت پسند ہے۔ ان دونوں میں وہ خوبیاں ہیں جو ایک دوسرے کو درکار ہیں مگر دل چسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں کے تعلقات میں اس بات کا امکان موجود ہے کہ یا تو دونوں میں مکمل ہم آہنگی ہوتی ہے یا پھر یکساں طور پر عدم مطابقت ہوتی ہے، جس سے گھر میدان جنگ بن سکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ دونوں کی خصوصیات میں یکسانیت بھی ہے اور اختلاف بھی۔ چوں کہ کیکڑابے حد جذباتی اور حساس ہے، لہٰذا بکری کو بھی زیادہ حساس ہونا پڑے گا۔ اس رفاقت میں دونوں ایک دوسرے سے بہت کچھ نہیں سیکھ سکتے اور یہی دونوں کے حق میں بہتر ہوگا۔

سرطان اور حوت کا ساتھ

سرطان اور حوت دونوں آبی برج ہیں۔ دونوں کے درمیان عناصر کے اعتبار سے موافقت موجود ہے۔ علم نجوم کے قواعد کے مطابق حوت سرطان سے نواں برج ہے اور سرطان برج حوت سے پانچویں نمبر پر ہے۔ گویا حوت سرطان کی قسمت اور سرطان برج حوت کا محبوب ہے۔ دونوں کے درمیان زبردست موافقت کا زاویہ موجود ہے۔
برج حوت کی اپنے مثبت پہلوﺅں میں حساس اور آزاد فطرت، نرم دل اور ہم درد، ترقی پذیر اور متاثر کرنے والا تخیلاتی اور فطرت پسند ہے جب کہ اس کی منفی خصوصیات میں غیریقینی کیفیات، مبہم انداز، سست روی، بے پروائی، غیرعملی، غیرمتوازن سا ہونا شامل ہیں۔
سرطان اور حوت کی جوڑی نہایت شان دار ہو سکتی ہے۔ مچھلی اور کیکڑا دونوں پانی کی مخلوق ہیں اور جبلی طور پر اور وجدانی اعتبار سے ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ یہ دونوں بروج خیال پرست اور جذباتی ہیں۔ بے شک ان کی رفاقت ایک دوسرے کے لیے سکون بخش ثابت ہو سکتی ہے۔ دونوں ہی متلون مزاج ہیں۔ اگر دونوں میں مقابلہ ہو کہ کون زیادہ متلون مزاج ہے تو غالباً حوت یہ مقابلہ جیت جائے گا۔ مچھلی کو پیسے سے زیادہ دل چسپی نہیں لیکن کیکڑے کے لیے نوٹوں کی بو اور کڑکڑاہٹ بڑی مسحورکن اور مدہوش کردینے والی ہوتی ہے۔ سرطان حوت کو پیسے کی اہمیت کے بارے میں لاکھ قائل کرنے کی کوشش کرے لیکن وہ اس طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا۔ اسے کیکڑے کی جمع پونجی سے کوئی دل چسپی نہیں ہوگی۔ مچھلی درحقیقت اس معاملے میں کیکڑے سے بالکل اُلٹ ہے۔ وہ کبھی بچت نہیں کر سکتی، لہٰذا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ حوت افراد بے حد فضول خرچ ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ دونوں گھر سےمحبت کرتے ہیں اور زیادہ عرصے تک بے گھر رہنا برداشت نہیں کر سکتے، ہاں مگر کبھی کبھی دونوں اِدھر اُدھر مٹرگشت کرنے کی شدید آرزو کرتے ہیں لیکن سرطان کی اپنے گھر سے محبت بہرحال اوّلیت رکھتی ہے۔

[/c]