Author Topic: وفاقی وزیر شہباز بھٹی کو قتل کردیا گیا  (Read 191 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline King

  • Sr. Member
  • *
  • Posts: 1652
  • Reputation: 4
  • Gender: Male



پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی فائرنگ میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

ایس پی جمیل ہاشمی نے بتایا کہ وفاقی وزیر سیکٹر آئی ایٹ تھری سیکٹر سے نکلے تھے کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ ان کو جب مقامی نجی ہسپتال منتقل کیا گیا تو وہ دم توڑ چکے تھے۔

کلِک ’سلمان تاثیر شہیدِ حق ہیں‘

ہسپتال انتظامیہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جب شہباز بھٹی کو ہسپتال لایا گیا تو وہ ہلاک ہو چکے تھے۔

دوسری جانب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے وفاقی وزیر کے قتل کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ ایس پی جمیل ہاشمی کے مطابق ان پر فائرنگ کر کے نامعلوم افراد فرار ہو گئے۔

انہوں نے بتایا کہ پورا کلاشنکوف کا برسٹ فائر کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

شہباز بھٹی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے پمز ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

ایس پی ہاشمی نے کہا کہ پولیس کو شک ہے کہ وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی کو ناموسِ رسالت قانون کے متعلق بیانات دینے پر ٹارگٹ کیا گیا ہے۔

آئی جی اسلام آباد واجد درانی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر شہباز بھٹی آئی ایٹ تھری میں اپنی والدہ کے گھر سے نکلے ہیں۔ ان کو ایک سفید مہران گاڑی نے روکا ہے اور اس پر سے تین یا چار افراد نکلے ہیں۔
آئی جی اسلام آباد واجد درانی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر شہباز بھٹی آئی ایٹ تھری میں اپنی والدہ کے گھر سے نکلے ہیں۔ ان کو ایک سفید مہران گاڑی نے روکا ہے اور اس پر سے تین یا چار افراد نکلے ہیں۔

آئی جی کے مطابق ڈرائیور نے بتایا کہ پہلے مسلح افراد نے ان پر بندوقیں تانی ہیں اور جب وہ نیچے ہوا ہے تو وہ گھوم کر دوسری سائیڈ پر گئے اور وفاقی وزیر پر فائرنگ کردی۔

انہوں نے کہا کہ ڈرائیور کو حراست میں لینے کا سوال پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وہ ہمارے پاس ہی ہے۔ ڈرائیور نے بتایا ہے کہ چار افراد تھے جن میں سے ایک گاڑی چلا رہا تھا اور تین گاڑی سے اتر کر آئے ہیں۔ تینوں نے شلوار قمیض اور جرسی پہن رکھی تھی۔

ہمارے نامہ نگار دلاور خان وزیر نے بتایا کہ تحریک طالبان پاکستان محمند ایجنسی کے ترجمان سجاد نے فون پر شہباز بھٹی کے قتل کی ذمہ داری قبول کی۔

سجاد نے بتایا کہ تحریکِ طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان خود رابطہ نہیں کر سکتے اس لیے وہ رابطہ کر کے اس وقاعے کی ذمہ داری قبول کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہباز بھٹی کو اس لیے قتل کیا گیا کہ وہ گستاخِ رسول تھے۔

    جمیعت علماء اسلام (ف) کے تین اراکین مولوی آغا محمد، مفتی اجمل خان اور حاجی روز الدین نے قوی اسمبلی میں شہباز بھٹی کے احترام میں دو منٹ کی اختیار کردہ خاموشی میں حصہ نہیں لیا اور وہ بد دستور بیٹھے رہے

یاد رہے کہ پنجاب گورنر سلمان تاثیر کو جب اسلام آباد ہی میں ان کے گارڈ نے فائرنگ کر کے ہلاک کیا تو شہباز بھٹی نے ایک بار پر یہ موقف دھرایا تھا کہ توہین رسالت کے قانون پر نظرثانی کی جانی چاہیے تاکہ اس کا غلط استعمال روکا جاسکے۔

شہباز بھٹی نے کہا تھا ’پاکستان کی تمام اقلیتیں پیغمبر اسلام اور الہامی کتابوں کا دل سے احترام کرتی ہیں اور ان کی توہین کا تصور بھی نہیں کرسکتیں لیکن بعض لوگ اس قانون کو ذاتی انتقام کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس قانون کی آڑ میں بے گناہ لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔‘
قومی اسمبلی میں مقتول وزیر کی یاد میں خاموشی:

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق بدھ کی شام کو شہباز بھٹی کے قتل کے سوگ میں قومی اسمبلی کے اراکین نے کھڑے ہوکر دو منٹ کی خاموشی اختیار کی اور کوئی کارروائی کیے بنا اجلاس جمعرات تک ملتوی کردیا گیا۔

جمیعت علماء اسلام (ف) کے تین اراکین مولوی آغا محمد، مفتی اجمل خان اور حاجی روز الدین نے شہباز بھٹی کے احترام میں دو منٹ کی اختیار کردہ خاموشی میں حصہ نہیں لیا اور وہ بد دستور بیٹھے رہے۔

وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ شہباز بھٹی کے قتل کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قتل کے ذمہ داران کو حکومت کٹہرے میں لائے گی۔

انہوں نے کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس میں سیاسی اور فوجی قیادت مل کر ملک میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کا کوئی حل نکالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور اس سے دنیا میں پاکستان اور اسلام کا نام بدنام ہورہا ہے

Offline Fatima

  • Moderator
  • *
  • Posts: 1590
  • Reputation: 2
  • Gender: Female
  • sAb mOkAdAr Ki BaAt Hi
Re: وفاقی وزیر شہباز بھٹی کو قتل کردیا گیا
« Reply #1 on: December 20, 2011, 02:46 AM »

thanks for sharing