Author Topic: عبدالنبی المختار حضرت خواجہ محمد یار فریدی قدس سرہ العزیز کچھ یادیں کچھ تذکرے  (Read 1082 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline Master Mind

  • 4u
  • Administrator
  • *
  • Posts: 4468
  • Reputation: 85
  • Gender: Male
  • Hum Sab Ek Hin
    • Dilse
    • Email
بدالنبی المختار حضرت خواجہ محمد یار فریدی قدس سرہ العزیز
کچھ یادیں کچھ تذکرے
بشیر حسین ناظم ۔ تمغہ حسن کارکردگی

حضرت صاحبزادہ غلام قطب الدین مدظلہ العالی اس فقیر کمتراز قطمیر کے خاص کرم فرماؤں میں سے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ جل مجدہ' کے فضل و کرم اور حضور رحمت دارین صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم کے  مراحم کےزیر سایہ ہونے کے باعث پیکر تقویٰ و تورع ہیں' صاحب تدین و تشرع ہیں' گنج محاسن و کان محامد ہیں۔ علم ان کا سرمایہ اور عمل ان کی متاع عظیم ہے۔ وہ گفتار و کردار میں اپنے اسلاف و  رحمہم اللہ کا درخشاں نمونہ ہیں۔ اتباع سنت نبوی علی صاحبھا الصلوۃ و السلام ان کا شعار ہے اور محبت نبی مختار علیہ الصلوۃ والسلام ان کا دثار ہے۔ وہ محبتیں بکھیرتے ہیں اور مسرتیں سمیٹتے ہیں ۔ اس حلیہ علم و عمل سے آراستہ اور فضل و کمال سے پیراستہ نوجوان رعنا سے مجھے نہایت گہری محبت اور عمیق ارادت کیشی کا شرف حاصل ہے۔ وہ ایک ایسے سلسلۃ االذہب سے منسلک ہیں جس نے برصغیر پاک و ہند میں پھیلی ہوئی ظلمتوں کے سینے چاک کئے' کفر کی صر صر میں چراغ دین مصطفوی جلائے رکھا لوگوں پر جہل کی یلغار کو ہمت مردانہ سے روکا اور اسلام کے عقاید حقہ کی حفاظت و حصانت میں مومنانہ کردار ادا کیا۔
حضرت صاحبزادہ غلام قطب الدین ذاد اللہ فیوضہ سے میری پہلی ملاقات آج سے کوئی تین سال پہلے الحمراء آرٹ کونسل کے ایک ہال میں اس وقت ہوئی جب ان کے بزرگ نامی و سامی حضرت سرکار خواجہ عبدالنبی فریدی علیہ الرحمتہ قدس سرہ' کا عرس بپا تھا۔ اس دن سے آج تک میرا دل ان کی عروس محبت کے لئے اورنگ آراستہ اور حجلہ مزین ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اپنے محبوب محتشم  علیہ الصلوۃ والسلام کی عنایتوں اور اولیائے جملہ سلاسل کی برکتوں سے یہ رشتہ ارادت کیشی قائم و دائم رکھے۔ آمین۔
 حضرت خواجہ محمد یار عبد احمد مختاررحمتہ اللہ علیہ کی یاد میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں مجھے ان کی ایک فارسی غزل جس کا مطلع یہ ہے
Image
 ما سلطنت  بکوچہ  جاناں فروختیم
مور  حقیر  رابہ  سلیماں  فروختیم
 Image
ترنم سے پڑھنے کے لیے کہا گیا۔ اس محفل نور نگہت میں سپیکر پنجاب اسمبلی جناب میاں منظور احمد وٹو صاحب' جناب راجا رشید محمود صاحب' محترمہ بشری رحمان صاحبہ' برادر محترم جناب حاجی عبدالرشید فاروقی صاحب' حاجی علامہ محمد اقبال احمد فاروقی صاحب ' برادرم اقبال ربانی ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور نعت خوان بے ہمنا و یکتا جناب محمد ثناء اللہ بٹ صاحب موجود تھے۔ چونکہ میں اپنے ممدوح خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ کی زیارت سے کئی بار حزب الاحناف لاہور کے سالانہ جلسوں میں مشرف ہو چکا تھا اور ان کے مواعظ حسنہ سے بھی تمتع کر چکا تھا اس لئے جب میں نے اپنے دل میں ان کا نقش جمایا تو ذہن میں کچھ مناظر ابھرے جن  کے تناظر میں میں نے کچھ باتیں کیں جن سے میں خود محظوظ ہوا اور حاضرین و ناظرین  بھی مسرور و شاد کام ہوئے۔
یہ 1945ء یعنی تشکیل پاکستان سے دو سال قبل کی بات ہے کہ نعت خواں اعظم' وقت کے استاد جناب میاں غلام حسین چوہان مجھے اپنی معیت میں مرکزی حزب الاحناف لاہور  کے سالانہ اجلاس   جو مسجد وزیر خان لاہور میں منعقد تھا لے گئے۔ میرا طفولیت کا زمانہ تھا لیکن والد محترم کی تربیت کے فیضان سے میں نعت بہت اچھی پڑھتا تھا اور وہ بھی اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمتہ اللہ علیہ کی۔ وہاں والد محترم علیہ الرحمتہ نے مجھے دو نامور ہستیوں سے ملایا اور ان کے ہاتھ چومنے کے لئے کہا۔ میں نے تقلید کی تو دونوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرے مجھے دعائیں دیں اور میں اپنے والد صاحب کے ساتھ حضرت قبلہ محدث کچھوچھی رحمتہ اللہ علیہ کےپیچھے بیٹھ گیا۔ میرے میاں جی نے مجھے بتایا کہ وہ شخصیت جو صاحب حسن و جمال و خوبصورت لباس پہن کر بیٹھے ہیں ان کا نام حضرت محمد یار فریدی علیہ الرحمتہ ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ حضرت مقبول بارگاہ رب العالمین اور عاشق رحمتہ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ عالمان حق میں سے ہیں۔ ان کے مواعظ کی تاثیر یہ ہے کہ چلتے پانیوں کو روک لیتے اور اڑتے طائروں کی جان لے لیتے ہیں ان دنوں مجھے اتنی علمی شدھ بدھ تھی ہی نہیں کہ میں ان کے اقوال و فرمودات کا استقصاء کر سکتا البتہ اچھی آواز کی مجھے پہچان ضرور تھی۔
رات کا اجلاس حضرت محدث کچھوچھی علیہ رحمتہ کی صدارت میں تلاوت قرآن کریم سے شروع ہوا۔ اس وقت کے عظیم قاری جناب محمد طفیل صاحب نے تلاوت کی۔ بریلی سے آئے ہوئے ایک اچھے نعت خواں نے نعت پڑھی۔ پھر  حضرت قبلہ ابوالبرکات سید احمد صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے مجھے فرمایا کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ کی نعت
 Image
چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
مرا  دل بھی چمکا  دے چمکانے  والے
 Image
  پڑھو۔ میرے والد محترم نے مجھے آشیرباد دی تو میں نے ایسے ذوق و شوق سے نعت پڑھی کہ مجلس پر عجیب کیفیت طاری ہو گئی۔
اس محفل میں برصغیر پاک و ہند کے چیدہ  و چنیدہ علماء و مشائخ شرکت کے لئے تشریف لاتے تھے۔ جن میں محدث کچھوچھی رحمتہ اللہ علیہ کی یہ شان تھی کہ ان کے چہرے پر نظر پڑتی تو زبان پر اللہ اکبر آجاتا ۔ بعد میں پتا چلا کہ یہ صحیح مرد مومن کی نشانی ہوتی ہے کہ اس کے چہرے پر نظر پڑے تو زبان سے اللہ اکبر نکلتا ہے۔
ان دنوں تحریک پاکستان و تشکیل پاکستان کے لئے جدوجہد اپنے عروج کو پہنچنے والی تھی ۔ قرار دادِ پاکستان کے بعد بریلوی مکتب فکر کے جید علماء ( اللہ تعالیٰ ان کے دنیوی و روحانی مراتب و مدارج بلند فرمائے) نے پورے برصغیر پاک و ہند میں تحریک پاکستان میں زبردست حصہ لیا اور مرکزی حزب الاحناف کے سالانہ جلسوں میں قرارداد پاکستان کے عملی پہلوؤں پر کام کرنے کے لئے علمائے کرام کو مخصوص علاقوں میں متعین کیا گیا۔ حضرت ممدوح ما سرکار محمد یار فریدی علیہ الرحمتہ کو بنارس سنی کانفرنس کے بعد پورے سرائیکی بیلٹ میں تحریک پاکستان و تشکیل پاکستان کے لئے فرائض سونپے گئے آپ علیہ الرحمتہ نے نہ صرف  سرائیکی بیلٹ میں  ہی تحریک پاکستان و تشکیل پاکستان لے لئے کام کیا بلکہ حضرت مولانا محمد بخش مسلم رحمتہ اللہ علیہ  کے ساتھ پنجاب کے اضلاع جہاں یونینسٹ پارٹی کا اثر و رسوخ تھا' میں بھی کامیاب دورے کئے اور انگریز کی زلہ ربا پارٹی کا طلسم و سحر اچھی طرح توڑا۔ حضرت مولانا مسلم علیہ الرحمتہ نے بتایا کہ حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ  صوبہ سرحد میں ریفرنڈم کے وقت بھی ان کے ساتھ تھے۔ انہوں نے پختونوں کو قیام پاکستان کی برکات سے آگاہ کیا اور علالت کے باوجود پہاڑی علاقوں میں ان کے ساتھ جا کر سرحدی گاندھی عبدالغفار خان' ڈاکٹر خان صاحب اور دیگر مخالفین پاکستان کو کمر توڑ شکست دی۔
ہاں تو میں بات کر رہا تھا حزب الاحناف میں آپ علیہ الرحمتہ کی تشریف آوری کی اور خیالات کے اظہار کی حضرت قاری احمد حسن امروہی نہایت ہی خوش آواز' خوش صوت اور خوش الحان تھے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عبدالنبی المختاررحمتہ اللہ علیہ کو بھی لحن داؤدی سے نواز رکھا تھا۔ عموماً یہ ہوتا کہ یا تو پہلے قاری احمد حسن کو کچھ بیان کرنے کے لئے کہا جاتا یا حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ کو۔ حضرت قاری احمد حسن رحمتہ اللہ علیہ منبر پر بیٹھتے ہی خطبے کے بعد مثنوی مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ سے چند اشعار پڑھتے تو حاضرین کرام بسمل کی طرح لوٹنے لگتے۔ تعلیم کا معیار انتا بلند تھاکہ واجبی پڑھے لکھے حضرات فارسی خوب سمجھتے تھے اور علماء کو اس طرح داد دیتے تھے جیسے کوئی علامہ کسی علامہ کی علمی قدرومنزلت کرتا ہے۔
حضرت محمد یار بندہ احمد مختار رحمتہ اللہ علیہ کو بھی مبدء فیاض نے شیریں زبانی و رنگین بیانی کے بےبہا جوہر عطا کیے ہوئے تھے اور سرکار مدینہ علیہ الصلواۃ والسلام کی حضوری کا شرف حاصل تھا۔ خواجگان چشت رحمہم اللہ کی فیاضیوں نے حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ میں سینکڑوں خوبیاں پیدا کر دی تھیں۔ جن میں سے خوبئی سوز و گداز برذروہ معراج تھی۔ وہ بولتے تو سامعین کے دلوں کو برف کی طرح پگھلا دیتے۔ احجار کو پھول بنا دیتے۔ سنگ کو خاصیت موم بخش دیتے اور بعض دفعہ بے زبانی زبان بن جاتی تو لوگ ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگتے۔
جلسہ حزب الاحناف میں آپ علیہ الرحمتہ نے اپنے مخصوص انداز میں مثنوی کے چند اشعار باقاعدہ وعظ سے پہلے پڑھے تو حضرت محدث کچھوچھی رحمتہ اللہ علیہ خاص کر مولانا الشیخ عبداغفور ہزاروی اعلیٰ اللہ مقامہ ونور اللہ فریحہ' اہتراز سر سے داد دینے لگے اور کہنے لگے واہ اوئے جنے دیا پترا(تمہارے قربان جاوں اے مرد حق کے لخت جگر) جلسے کی مختلف نشستیں ہوئیں۔ اہل لاہور اور دور دراز سے آئے ہوئے لوگ منتظمین سے پوچھتے رہے کہ حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ  کی کب باری ہے ۔ حضرت کی مقبولیت اور تاثیر وعظ کا اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
شاعر ملت ترجمان حقیقت حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے مسلمانان عالم کی سیاسی و دینی پستی و حضیض کو  بلندی و فراز میں بدلنے لئے مثنوی خودی و اسرار خودی شائع کرائی اس میں انہوں نے ہر اس مفکر کی خبر لی جو بے عملی' تکاسل' تساہل اور رسم شبیری کے خلاف تعلیم دیتارہا ہو۔ اس مثنوی میں حضرت علامہ علیہ الرحمتہ  نے افلاطون کو
 Image
گو  سفندے    درلباس   آدم   است
حکم  او برجان صوفی محکم است
 Image
کہ دیا۔ چند اور ایسے اشعار لکھے جو افلاطون کے خلاف تھے۔ اس پر پورے برصغیر پاک وہند میں جاہل صوفیاء نے ایک طوفان بدتمیزی کھڑا کر دیا اور افلاطون کی حمایت میں اس درجہ بڑھے کہ اسے   جبرائیل اندر لباس آدم است کہ دیا۔ جاہل صوفیاء کے طرز عمل سے حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کو سخت افسوس ہوا۔ اس صورت حال میں حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ نے شاعر ملت اسلامیہ حضرت علامہ اقبال علیہ الرحمتہ کو یہ مشورہ دیا کہ آپ کا پیغام ہر پڑھے لکھے کو پہنچ گیا ہے۔ لوگ تعلیم و معارف افلاطون کی حقیقت کو پا چکے ہیں اس لئے میری التماس ہے کہ آپ اگلے ایڈیشن میں ان اشعار کو حزف کر دیں جن پر نام نہاد صوفیاء کو اعتراض ہے۔ چنانچہ حضرت علامہ اقبال علیہ الرحمتہ نے اس مشورے کو نہایت دقیع و صائب سمجھ کر ان نام نہاد قابل اعتراض اشعار کو حزف کر دیا۔
اکلیل سر سنیاں' افسر فرق عالماں' تاج سر صوفیاں' شمس اخلاص' بدر  استقامت' کیوان محبت' مریخ مودت محفل طراز علم و ادب' قیصر و فغفور مملکت' تحقیق و تدقیق' جمشید سلطنت جرات و ہمت' عین خیر اور مجدد مسلک بریلویت الحاج حکیم محمد موسیٰ چشتی نظامی مد ظلہ العالی کے ہاں بڑے بڑے دقیع صاحباں مقام رفیع حضرات کو حاضری کا موقع ملتا ہے۔ ان میں بریلوی حضرات بھی ہوتے ہیں' دیوبندی حضرات بھی' خوش عقیدہ بھی' بد عقیدہ بھی مسٹر بھی مولانا بھی' غرضیکہ زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کا ہجوم رہتا ہے۔ حکیم صاحب قبلہ طبعاً محبتی بندے ہیں۔ بدون امتیاز مسلک ہر آنے جانے والے کی نہ صرف علمی و ادبی ضیافت کرتے ہیں بلکہ کام و دہن کی ضیافت بھی' اللہ تعالیٰ اس مرد قلندر کو اپنے مراحم کے ظل ہمایوں میں رکھے اور ہمیں ان کے علوم و معارف سے محظوظ ہونے کی توفیق دے آمین۔
حکیم صاحب کے ہاں جناب علامہ محمد حسین عرشی امرتسری اکثر تشریف لایا کرتے تھے۔ اگرچہ مسلکاً سرسید مرزا حیرت دہلوی' مولانا اسلم جیرا جپوری اور پرویز صاحب کے ہم مشرب تھے مگر آدمی بہت اچھے تھے' وہ قبلہ حکیم محمد موسیٰ مدظلہ سے مختلف دینی و فقہی اور مابعد الطبعیاتی مسائل پر گفتگو کرتے۔ ایک دن میں نے ان سے پوچھا کہ آج کل یا پچھلے کئی سالوں سے مسئلہ وحدت الوجود پر کونسی شخصیت علمی لحاظ سے سند ہے۔ علامہ محمد حسین عرشی صاحب نے بتایا کہ حضرت پیر مہر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ مستند شخصیت ہیں لیکن جس شخصیت نے مسئلہ وحدۃ الوجود کے اسرار و غوامض سمجھے اور انہیں اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا  وہ خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ  تھے۔ مزید استفسار پر انہوں نے بتایا کہ وہ مطالب و مفاہیم مثنوی کی تفہیم و تعلیم میں یکتائے روزگار تھے اور شارح و مفسر مثنوی مولانا روم علیہ الرحمتہ مولانا مرزا محمد نزیر عرشی امرتسری نقشبندی  و مجددی مرحوم سے ان کی اکثر ملاقاتیں  اور مختلف علوم بالخصوص ما بعد الطبعیاتی علوم پر گفتگو ہوتی رہتی تھی۔ چنانچہ مولانا مرزا محمد نزیر عرشی رحمتہ اللہ علیہ مثنوی کے بعض ادق مسائل کے حل کے لئے حضرت علامہ خواجہ محمدی یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ سے مشورہ کرتے۔ کہا جاتا ہے کہ جناب مرزا محمد نزیر عرشی صاحب نے شرح مثنوی کرتے ہوئے وحدت الوجود کے بارے میں بزرگان دین کی جو تقاریر نقل کی ہیں یا ان کا خلاصہ لکھا ہے ان مین عبدالنبی مختار رحمتہ اللہ علیہ کی دقیع رائے اور مشورہ شامل ہے۔
"وحدت الوجو د کے قائلین میں بڑے صلحاء و عرفاء اور اکابر تصوف شامل ہیں۔ چنانچہ سلسلہ قادریہ میں شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ ' صدرالدین قونوی' شیخ عبدالکیرم جیلی صاحب انسان کامل' شیخ عبدالرزاق جھنجھانوی شیخ امان اللہ پانی پتی' اور کیرویہ میں سے حضرت مولانا محمد جلال الدین صدیقی بلخی رومی رحمتہ اللہ علیہ صاحب مثنوی شریف حضرت شیخ شمس الدین تبریزی' سہروردیہ میں سے حضرت شیخ فریدالدین عطاررحمتہ اللہ علیہ چشتیہ میں سے حضرت سید محمد گیسو درازرحمتہ اللہ علیہ' سید جعفر مکی رحمتہ اللہ علیہ۔ نقشبندیہ میں سے حضرت خواجہ محمد عبیداللہ احراررحمتہ اللہ علیہ' حضرت مولانا نورالدین عماد الدین جامی رحمتہ اللہ علیہ ' ملا عبدالغفوری لاری' حضرت خواجہ محمد باقی باللہ رحمتہ اللہ علیہ' شیخ عبدالرزاق رحمتہ اللہ علیہ' شمس الدین عبیدالدین فرغانی' علمائے مدینہ منورہ سے حضرت شیخ ابراہیم' مکہ مکرمہ سے شیخ حسام الدین علی متقی رحمتہ اللہ علیہ' علمائے ہند میں سے شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ اس مسئلہ کے قائل ہیں اور حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ، حضرت خواجہ بزرگ رحمتہ اللہ علیہ' خواجہ قطب الدین رحمتہ اللہ علیہ کے کلام میں اس کے اشارات موجود ہیں۔ حضرت سیدنا خواجہ فریدا لدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ پاک پتن شریف سے تواتر کے ساتھ اس مسئلے کو نقل کیا جاتا ہے۔
دیوان محمدی تخلیق سلطان الکاملین العارفین حضرت خواجہ محمد یار فرید قدس سرہ پر سرسری نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ  آپ نے وحدۃ الوجود کے قائل اولیائے کرام بالخصوص حضرت بندہ نواز قبلہ عالم سید محمد گیسو درازرحمتہ اللہ علیہ گلبرگہ  شریف۔ خواجہ شاہ محمد بخش رحمتہ اللہ علیہ' حضرت مخدوم پاک صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ' حضرت شاہ قطب الدین صاحب غلام فرید ثانی رحمتہ اللہ علیہ' حضرت خواجہ خواجگان فریدالدین مسعود گنج شکررحمتہ اللہ علیہ ' سیدنا سرکار حضرت خواجہ خواجگان فخر کون و مکاں معین الدین حسن چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ' سیدنا و مولانا امام الاولیاء حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ اور جناب حضور پر نور حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ والی حصار مٹھن کی شان میں جو مدائح و مناقب لکھے ہیں ان میں مختلف پیرایہ میں وحدت الوجود کے مختلف الوان نظر آتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ سب رنگ صبغتہ اللہ کا عکس ہیں اور لون الاخضر کی شکل میں(جو تسراناظرین ہے) انہیں حضرات کو نطر آسکتے ہیں جنہوں نے میکدہ وحدۃ الوجود کے سقاۃ (ساقیوں) سے جام استعلام پی کر اپنے آپ کو اس رنگ میں رنگا ہوا ہے ورنہ ما وشما کے لئے یہ سب رنگ اسود و اصغر ہی ہیں۔
حضر ت خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ بحیثیت شاعر:۔
حضرت حکیم الامت ترجمان حقیقت علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ شعرو شاعری سے متعلق اپنی رائے کا اظہار فرماتے ہوئے کہتے ہیں۔
Image
شاعر  اندر سینہ  ملت چوں دل
ملتے  بے   شاعرے  انبار  گل
شعر را مقصود اگر آدم گریست
شاعری  ہم   پیشہ   پیغمبریست
Image
کسی قو م و ملت میں شاعری کا وجود ایسا ہوتا ہے جیسے انسانی پیکر میں دل کی حیثیت ہوتی ہے۔ اور ایک ملت جس کا کوئی قومی شاعر نہ ایسی ہے جیسے مٹی کا تودہ' اگر شعرو  شاعری کے مقاصد آدم گری ہوں تو شاعری بے شبہ و ارتیاب کار پیغمبری کی وارث ہوتی ہے۔ پیغمبران حق علیہم الصلواۃ و السلام حق تعالیٰ  جل مجدہ کی طرف سے مبعوث و مامور ہوتے ہیں اور ہدایت ربانی کے انوار سے اپنے قول و کردار سے اصلاح اقوام و ملت کرتے ہیں لیکن وہ شعرائے کرام جو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن حکیم الا الذین امنو کے زمرے میں آتے ہیں کے دل انوار اقوال و کردار رسول سے منور و مستفید ہوتےہیں۔ اسی لئے ان کے قلوب آئینہ جہاں نما بن جاتے ہیں۔ وہ نور بصیرت سے ملت کے روحانی جسمانی  امراض بھانپ لیتے ہیں اور ان کا علاج و معالجہ ادویہ و ادعیہ روحانیہ سے کرتے ہیں۔
تاثیر شعر سے کون واقف نہیں۔ اس سے بعض اوقات صدیوں کے لا ینحل عقدے حل ہو جاتے ہیں۔ یہ تاثیر کہاں سے آتی ہے اور کیسے قلوب و افکار کے لئے وقف ہوتی ہے۔ اس کا جواب صاحبان علم و شعر یوں دیتے ہیں کہ تاثیر شعر کا منبع قلب ہے۔ جب دل کی تصلیح و تہذیب ہو جاتی ہے  تو مشاہداتی تجربات سے قلب احساس کا گھر بن جاتا ہے بس اس احساس کے اظہار کا نام تاثیر ہے۔ تاثیر کے لحاظ سے ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ  نے جذبات و احساسات کے وسیع عالم میں نہ صرف جذبہ عشق و محبت دردو سوز گداز کو ہی اجاگر کیا ہے بلکہ فلسفہ' تصوف ' لطافت' نفاست' شہامت ' جان نثاری'  اباء نفس' آزادی و حریت ' حسن ترکیب الفاظ' زبان دانی و لسانی اجتہاد کو اپنی مہارت و سخت کمانی سے شکار کر کے طباق دیوان محمدی میں قاری کی ضیافت کے لئے رکھ دیا ہے۔
اب ہم حضرت محمد یاررحمتہ اللہ علیہ بلبل بستان سید کائنات کے نشیدو نغمات کی ادبی و علمی  وجاہت دیکھتے ہیں صنائع و بدائع سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور فصاحت و بلاغت کے قلزم سے چند لولوئے لالہ نظر اقارئین کرتے ہیں۔
فصاحت و بلاغت:۔ مولانا شبلی مرحوم لکھتے ہیں شعراء کے لئے لازم ہے فصیح و بلیغ اور مانوس الفاظ کی جستجو و تفحص کریں۔ فصاحت کی تعریف یہ کہ حرفوں میں تنافر نہ ہو لفظ نادر الاستعمال نہ ہوں اور قیاس کےمخالف نہ ہو۔
حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علییہ کی درج ذیل منقبت کو دیکھئے کس طرح فصاحت کے دریا بہا رہی ہے۔ کسی لفظ میں تنافر اور مخالفت قیاس لغوی نہیں اور  منطقی مانوسیت ایسی ہے کہ ایک عامی بھی لطف اندوز ہو سکتا ہے۔
Image
 اے   آنکہ    نقش  پائے   تو  نقش  جبین ما
سوئے   تو   سجدہ  حجت  اسلام   و  دین ما
در  دست  خویش  عروہ  و ثقٰی  گریفتہ   ایم
دامان   یار   ماست    چہ  حبل    المتین   ما
ساقی  و   مے  مطرب  و  میخانہ   و   نگار
این  پنچ   یار  روز   شب    آمد    قرین   ما
تنہا    شدیم    از    دو جہان    فارغ    آمدیم
ہر  لحظہ   ہر  دم  است  کسے  ہم  نشین ما
کے   پر  شود    ز  شربت   دیدار آں   نگار
جام       نگاہ      چشم    خداوند     بین   ما
از   بند گان    حضرت      سرکار     نازکیم
سلطان     ما     جناب     محمد     معین   ما
Image
تاریخ وصال حضرت خواجہ شاہ محمد معین الدین ثانی رحمتہ اللہ علیہ اگر چہ عربی زبان میں کہی گئی ہے لیکن اس کے ایک ایک حرف ایک ایک لفظ میں فصاحت کا رنگ نمایاں ہے۔ دیکھئے الفاظ کی جستجو تفحص اور سادگی و ادا
Image
لقد  راح  من کان شیخاً کریماً
جلیلاً   جمیلاً    رؤفاً  رحیماً
تفکرت  جی ارخہ  ذات  یوم
فقالوا  لقد   فاز  فوزاً  عظیماً
Image
سادگی اور ادا:۔ اگر سادگی ادا کو یوں معرف کیا جائے کہ مضمون کے جس قدر اجزاء ہوں ان کا کو ئی  جزو نہ رہ جائے' اجزاء کی ترتیب اصلی حالت میں قائم رکھی جائے اور وزن اور بحرو قافیہ کی ضرورت سے اجزائے کلام اپنی اپنی مقررہ جگہ سے ہٹنے نہ پائیں ' تو یہ بات بلا خوف کہی جاسکتی ہے کہ حضرت خواجہ علیہ الرحمتہ کے اشعار کے کالبد میں سادگی ادا روح روان کی طرح مرئی ہے۔ اور روز مرہ کو بہت زیادہ دخل ہے۔
Image
 زلف   کا   بال  بال  بگڑا  ہے
قید  کرنے کو  جال  بگڑ ا  ہے
قامت   یار  کی    قیامت   سے
آج  محشر  کا  حال  بگڑا  ہے
چین  ابرو کو  دیکھ  کر یک دم
چینیوں   کا   کمال   بگڑا  ہے
Image
فارسی غزل مین سادگی بیان و ادا دیکھئے
Image
ما   سلطنت   بکوچہ   جاناں    فروختیم
مور    حقیر    رابہ    سلیمان   فروختیم
ما  وصل  یار خویش  بہ ہجراں فروختیم
یوسف   فروختیم  و چہ  ارزاں فروختیم
در   بندگی    پیر  مغاں   پیر  گشتہ   ایم
ما    زندگی    بہ    بندگی   آں  فروختیم
زخم  جگر  بہ  ہیچ  دوا بہ   نمی   شود
داروئے   زخم  رابہ  نمکداں  فروختیم
لا مزہبیم و مزہب  ما  ترک مزاہب است
مزہبے      بمشرب     رندان    فروختیم
ما   حامد   محمد   پاکیم       از     ازل
حمد   خدا    بحمد    خدا داں    فروختیم
Image
سلاست و روانی:۔ علمائے صنائع و بدائع اور نقادان شعر نے زبان کی صفائی اور سلاست روانی کو کلام کا عام جوہر تسلیم کیا ہے ۔ حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ ایسے مشاق شاعر ہیں کہ اگر انہوں نے قصیدہ بھی لکھا ہے تو حقائق کو اس سلاست و بے تکلفی سے ادا کیا ہے گویا دو آدمیوں کے مابین مکالمہ و حوار ہو رہا ہے۔ شاعری کے اس درجہ کو سند قبولیت و پزیرائی ملتی ہے اور ایسا شاعر نہایت ہی خوش قسمت تسلیم کیا جاتا ہے کہ اس کا کلام اس کے ارتحال کے بعد بھی زبان زد خاص و عام ہو۔
قصائد میں سلاست و روانی دیکھئے
Image
اے  فخر  ہر نبی  و لی  یا علی مدد
علام   ہر  خفی  و  جلی  یا علی مدد
در ظل  لطف  عام  تو عالم پناہ یافت
ظل خدائے  بے   بدلی  یا علی  مدد
نور خدا  بگشت عیاں صور ت علی
بے اختلاط  آب  و  گلی  یا علی مدد
ایں  مدح   نا   تمام  ز حسن  تمام تو
آورد   بار  منفعلی    یا    علی   مدد
فریاد  و زاریم  نگر  و لطف کن شہا
من  بلبلم  تو  پاک  گلی  یا  علی مدد
Image
سراپا نگاری:۔ حلیہ نگاری یا سراپا نگاری محاکات کی ہی شکلیں ہیں ۔ حضرت محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ نے قصائد میں جو سراپا نگاری کی ہے ان میں وہ خیالی باتیں نہیں ہیں بلکہ اپنے مشاہدے کو قوت واہمہ سے بھی آگے لے گئے ہیں اور انہوں نے جن جن بزرگوں کا سراپا لکھا وہاں صنعت تنسیق الصفات کا پورا خیال رکھا ہے اور حرفوں اور لفظوں سے ایسی تصویر کشی کی ہے کہ ممدوح ایک شخصیت کی شکل میں نظر آجاتا ہے۔ ذیل