Author Topic: فیضان فرید علیہ الرحمتہ  (Read 469 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline Master Mind

  • 4u
  • Administrator
  • *
  • Posts: 4468
  • Reputation: 85
  • Gender: Male
  • Hum Sab Ek Hin
    • Dilse
    • Email
فیضان فرید علیہ الرحمتہ
« on: May 15, 2011, 10:12 PM »
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
      فیضان فرید علیہ الرحمتہ
               بشریٰ رحمٰن   
ہنس کے کہا محمدا  میں ہوں محمد عرب

حضرت قبلہ خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ قدس سرہ' صوفیائے کرام کی کہکشاں میں دمکتے ہوئے تابندہ و خیرہ چشم نور کی ایک ایسی کرن کی مانند ہیں جس کا شرار خون سلطان العارفین حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کے شعلے سے پھوٹا۔ تمام صوفیائے کرام و اولیائے عظام کا رخ غار حرا سے پھوٹنے والے چاند کی جانب ہے۔ اسی ماہ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نور ان کے افعال و کردار پر منعکس نظر آتا ہے۔ اللہ کے یہ نرالے بندے اپنی خاکستر میں عشق حقیقی کی ایک ایسی چنگاری لے کر دنیا میں آئے جو  ابد الاباد  تک کڑی در کڑی یونہی سلگتی رہے گی نور دیتی رہے گی ایک کا سلسلہ دوسرے سے یوں ملتا ہے جیسے دور سے آسمان پر ستاروں کے جھرمٹ بالکل ایک جیسے نظر آتے ہیں۔ لیکن  ذرا قریب ہو کر دیکھیں تو ہر ستارا دوسرے سے جدا نظر آتا ہے۔ البتہ سب کا مخزن نور اور ماخذ ظہور ایک ہی ہے۔
حضرت خواجہ محد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ کی ساری زندگی مرشد کی نگاہ فیض کا کرشمہ ہے۔ مرشد کامل ہو تو دل کی دنیا کو زیرو زبر کر کے رکھ دیتا ہے۔ حضرت قبلہ خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ سائیں نے اپنی نگاہ فیض رساں سے جناب خواجہ محمد یار رحمتہ اللہ علیہ کو محمد یار فریدی بنا دیا۔
جب آپ رحمتہ اللہ علیہ فریدی ہوئے تو رمز محبت سے شناسا ہوئے۔ دید مزید کی لذت سے آگاہی ہوئی تو محمد یار' محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یار بن گیا۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نام کا خمار ایسا تھا کہ تزکیہ نفس و معرفت الٰہیہ کی ساری منزلیں طے کر گئے۔ اپنے ہی نام سے نسبت کا عصا نکلا جس نے حیات کے چڑھے دریا کو بیچ دھارے میں سے دو لخت کر دیا۔ جہاں وصال محبوب کا حسین سنگم تھا ' وہیں پر خواجہ محمد یار رحمتہ اللہ علیہ کو دل کی ہر تمنا کا سراغ مل گیا۔
 Image
ہم   نام   محمد   ہوں   مداح   محمد   بھی
ہاتھوں سے نہ چھوٹے گا دامان محمد بھی
 Image
اپنے نام کی معنویت پر کس قدر نازاں ہیں
 Image
 خطا میری سب سے بڑی تھی مگر
محمد  نے   بخشی  خطائے   محمد
 Image
قدموں میں لوٹ پوٹ ہو کر رسائی کی حاصل کرنے کی ادا دیکھئے
 Image
ہنس کے کہا  محمدا میں ہوں محمد عرب
میرا جہاں گزر ہوا  تیرا وہاں گزر   نہیں
 Image
برصغیر کی پوری تاریخ میں صوفیاۓ کرام نے تبلیغ اسلام کے لئے جو سنہری کارنامے انجام دیئے ہیں انہی کی وجہ سے روح جنیدی رحمتہ اللہ علیہ و صدائے بلالی  رضی اللہ تعالٰی کی گونج ہمیشہ کے لئے اس سرزمین پر رہ گئی ہے۔ صوفی شعراء میں تین قدریں مشترک ہوتی ہیں۔
تصوف ' تبلیغ  اور  شاعری
سارے صوفی شعراء نے تبلیغ و تدریس کے لئے شاعری کو ابلاغ و اظہار کا ذریعہ بنایا بلکہ بعض شعراء نے تو کئی کئی زبانوں میں شاعری کی۔ خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی تین زبانوں میں شاعری کی۔
شاعری ایک الہامی کیفیت ہوتی ہے۔ ایک ایسا وجدان۔ جس میں لمحہ بھرکے لئے۔ بندے کی کوئی تار  رب سے مل جاتی ہے۔ پھر من کا طنبورہ آپ ہی آپ بجتا رہتا ہے۔ زبان گہر  اگلتی ہے اور قلم موتی چنتا رہتا ہے۔ صوفیوں کی شاعری ساری اندر کی شاعری ہے۔ اندر کے ایک خوبصورت سفر کی داستان دلآویز ہے۔
 Image
من  نمی  دانم کجا یم ' کیستم
در  خودی  خود  فنایم کیستم
بے  نوایم  بے نوایم  بے نوا
بے   نوایاں  را  نوایم  کیستم
 Image

حضرت خواجہ محمدیار رحمتہ اللہ علیہ قدس سرہ کی شاعری طلب وصل و طرب کے اندر جزب و کیف دوری و رنجوری ۔ رسائی و نارسائی۔ بندگی و زندگی ۔ کا ایک خوبصورت گلدستہ ہے۔
 Image
دارالشفا میں  رہ کے میں بیمار کیوں رہوں
چارہ ہے جب تو میرا تو ناچار کیوں رہوں
 Image
شاعری کیا بس ایک مست الست کی سی کیفیت ہے کہ جس طرح کسی دیوانے کے ہاتھ میں نام محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اکتارا آگیا ہے۔ اور زخمی انگلیوں کی پوروں سے نغمے پھوٹ رہے ہوں۔
 Image
 ہم تو قرآن کے حافظ ہیں پڑھا کرتے ہیں
رخِ   محبوب   انوکھا  ہے  یہ  قرآن  اپنا
 Image
خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ کی شاعری پر اپنے مرشد قبلہ خواجہ پیر سائیں فرید علیہ الرحمتہ سائیں کی شاعری کا رنگ بھی چڑھا ہوا ہے، کیا کیجئے۔۔۔۔۔ جب مرشد قوس قزح کے سات رنگوں میں نظر آ ئے۔ تو کوئی رنگ اپنا رنگ نہیں رہتا۔ دراصل مرشد ہی کا رنگ صبغت اللہ کا مظہر ہے۔ تو پھر اس کا رنگ' حرف و آہنگ میں کیوں نہ چھلکے گا۔
 Image
ہر  ہک  دے   وچ    ہک   دا   جلوہ
ہر      جا       ہک     دے     ویرے
 Image
حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
 Image
ہک  جلوہ  ہر  ہر طرف ڈٹھم
سو گوٹھ  ڈٹھم  سو  دیار ڈٹھم
 Image
درج ذیل اشعار حضرت خواجہ محمد یار رحمتہ اللہ علیہ قدس سرہ  کے ہیں۔ مگر فکری و لسانی ہم آہنگی کی وجہ سے اکثر لوگ انہیں خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کے اشعار سمجھتے ہیں۔
 Image
حقیقت  محمد   دی  پا  کوئی  نئیں  سگدا
اتھاں چپ دی جا ہے الا کوئی نئیں سگدا
مزاہب  دے جھگڑے اساں چھوڑ بیٹھے
محبت دا  جھگڑا  چھڑا کوئی نئیں سگدا
 Image
حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ قدس سرہ  کی سرائیکی شاعری میں حزن و ملال' موسیقیت کا رچاؤ فکری بالیدگی' دل کی کیفیتوں کا اتار چڑھاؤ' روائیتی مٹھاس'ایک انمٹ آس اور سوندھی سوندھی مٹی کی باس ہے۔
 Image
محمد محمد پکیندیں گزر گئی
احد نال احمد ملیندیں گزر گئی
 Image
ان کی شاعری صحرا میں پچھلے پہر دبے پاوں چلنے والی ہواؤں کی طرح' والہانہ اور دل میں اتر جانے والی شاعری ہے
 Image
سدا  جیویں رقیباں وچ  تے  خوش   تھیویں  حبیباں  وچ
اساڈے  وت  نصیباں وچ'  لکھی ہئی  نت جدائی  سانول
اکھیں دی چوک توں صدقے' کجل دی نوک توں صدقے
تساڈی  جھوک توں صدقے' نہ  ٹہنڈی ہئی جدائی سانول