Author Topic: پیکر عرفان و آگاہی  (Read 362 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline Master Mind

  • 4u
  • Administrator
  • *
  • Posts: 4468
  • Reputation: 85
  • Gender: Male
  • Hum Sab Ek Hin
    • Dilse
    • Email
پیکر عرفان و آگاہی
« on: May 15, 2011, 10:14 PM »
پیکر عرفان و آگاہی
پروفیسر علامہ سید عبدالرحمٰن بخاری

حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ کی ذات گرامی ان نادرہ روزگار ہستیوں میں سے ہے جو صفحہ دھرتی پہ اپنے حسن سیرت اور عظمت کردار کے تابندہ نقوش ثبت فرما کر دنیا والوں کے لئے سرمایہ عزت و افتخار ٹھرتی ہیں۔ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت 1881ء میں گڑھی اختیار خان ضلع رحیم یار خان میں ہوئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عالم اسلام کےہر افق پر نکہت و ادبار کے منحوس سائےپھیل رہے تھے۔ ہندوستان 1857کے  ہنگامہ  رستا خیز سے گزر کر مکمل طور پر برطانوی سامراج کے تسلط میں آچکا تھا۔ کلیسا کے وارث صلیبی انتقام کے زہر میں بجھی تلواریں لہراتے ہر طرف بڑھ رہے تھے۔ دنیا کو حریت و انصاف کی منزلوں سے ہمکنار کرنے والے مسلمان خود غلامی کی شب دیجور کی دھلیز پر قدم رکھ چکے تھے۔ ان کی صلاحیتیں مفلوج اور دل و دماغ کے سوتے خشک ہو رہے تھے۔ فکرو عمل' اخلاق و کردار اور عادات و اطوار  سب پر انحطاط کا رنگ چھا رہا تھا۔ مغربی تہذیب پھیل اور اسلامی تہذیب سکڑ رہی تھی۔ مغربیت کے جلو میں مادیت و اباحیت' فحاشی و عریانیت اور الحادوں دھریت فروغ پا رہی تھی۔ ایسے مادیت گزیدہ اور فتنہ پرور ماحول میں انسانیت کو بالعموم اور امت مسلمہ کو بالخصوص انفرادی' اجتماعی اور آفاقی سطح پر زندگی کی بقاء و ارتقاء کے لئے روحانیت کی اشد ضرورت تھی کہ روحانیت ہی وہ واحد راستہ ہے جو کاروان انسانیت کو کرب و اضطراب کے اس تپتے صحرا سے نجات دلا سکتا تھا۔
اسلامی روحانیت کی نمائندگی صوفیائے کرام اور اولیاء عظام کرتے ہیں تکمیل دین اور ختم نبوت کے بعد پیغمبرانہ اصلاح کا کام انہی وارِثان نبوت کو سونپا گیا ہے۔ تاریخ شاہد ہے اور دنیا آگاہ کہ جب بھی معرکہ حق و باطل بپا ہوا یہ 'گروہ اولیاء' حق کی نصرت و حمایت میں سینہ سپر ہو گیا۔ امت کو جو بھی آزار پہنچا صوفیاء ہی اس کا مداوا بنے۔
بقول ایچ۔ اے۔ آرگب:۔
"تاریخ اسلام میں بارہا ایسے موقع آئے کہ اسلامی تمدن کا شدت سے مقابلہ کیا گیا۔ لیکن بایں ہمہ وہ مغلوب نہ ہو سکا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ صوفیاء کا انداز فکر فوراً اس کی مدد کو آجاتا تھا اور اس کو اتنی قوت و توانائی بخش دیتا تھا کہ کوئی قوت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی"۔ گب کی رائے سو فیصد درست ہے' دین حق پر جب بھی اور جہاں بھی کوئی آنچ آئی' گروہ اولیاء ہی اسے سنبھالنے کو آگے آیا۔ یہ خانقاہوں میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرنے والے ہمیشہ دین کے امین اور ملت کے محافظ رہے۔ ان کا وجود ہر دور اور ہر خطے کی ضرورت ہے۔
پھر برصغیر پاک وہند تو اَصلاً ہے ہی روحانیت پرور خطہ۔ اس کی مٹی گداز آفریں' اس کا ماحول روح افزاء اور اس کے باسی سوز دروں کے شیدا۔ یہاں محسوسات کو تخیلات کا روپ دیا گیا۔ مادیات کو مجردات کے آئینے میں دیکھا گیا۔ یہاں کے شعرو سخن کا آہنگ الم انگیز' صوت و نغمہ کی لے پرسوز' نظریہ حیات متشائم اور طرز احساس پر دروں بینی غالب ہے۔ اور اس سب کچھ کا مبداء وہی روحانیت کا فطری ماحول اور طبعی ذوق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر میں اسلامی زندگی کے تمام سوتے روحانیت ہی کے سر چشمے سے پھوٹتے ہیں۔ اس خطے میں اسلام کا ورد و فروغ صوفیاء کرام اور اولیاءِ عظام کا ہی رہین کاوش ہے۔ خیبر سے راس کماری تک برصغیر کاچپہ چپہ روحانیت اسلام کا گہوارہ ہے۔ قدم قدم پر اولیاء کرام کی خانقاہیں اور گوشے گوشے میں مردان خدا کے آستانے ہیں ۔ فاتحین آتے جاتے رہے' سلاطین کے دربار بنتے اور اجڑتے رہے' قلعے تعمیر ہوتے اور منہدم ہوتے رہے' شہر بستے اور ویران ہوتے رہے' لیکن اللہ والوں کے دربار جہاں سج گئے' رونقیں لگا گئے۔ صدیوں بیت گئیں' تربیت دینی اور تزکیہ روحانی کے یہ مراکز دلوں کو سیراب اور روحوں کو شاداب کر رہے ہیں۔ صرف برصغیر ہی میں نہیں'پوری دنیائے اسلام میں روحانیت اور اصلاح باطن کی شمع انہی اولیائے کاملین کی بدولت روشن ہے۔یہ آستانے ہر طرف عشق الہٰی اور اتباع مصطفوی    ( علی صاحبہا الصلوۃ والسلام) کی سوغات بانٹ رہے ہیں۔
ان باکمال ذوات قدسیہ میں حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ کا وجود گرامی صف اول کی زینت ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ ان خاصان خدا اور مقربین بارگاہ حق میں سے ہیں ۔ جنہیں دیکھ کر خدا یاد آتا اور محبوب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقوش سیرت جگمگا اٹھتے ہیں۔ جن کے فیض صحبت سے بگڑے ہوئے نفوس کی اصلاح ہوتی اور بجھے ہوئے قلوب میں ایمان کی حرارت چمکتی ہے۔ خواجہ ممحد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ  کی ذاتی زندگی' عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مرقع اور اتباع سنت کا آئینہ تھی۔ خلوتوں  اور جلوتوں میں اسی کی جلوہ گری تھی۔ بندگی حق آپ رحمتہ اللہ علیہ کا شیوہ اور تذکار رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  آپ رحمتہ اللہ علیہ کا وظیفہ تھا۔ عمر بھر خدمت و اشاعت دین اور فروغ سیرت و سنت کے لئے کوشاں رہے۔ دعوت و ارشاد' وعظ و تبلیغ اور شعر و شاعری آپ رحمتہ اللہ علیہ کے وسائل عمل تھے۔ رشد و ہدایت  کے روحانی کام سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کا حلقہ ارادت پاک و ہند کے طول و عرض میں پھیل گیا۔ وعظ و تقریر میں سحر بیانی کا عالم یہ کہ مخالفین کا اعتراف ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے وعظ میں اڑتے پرندے ٹھر جاتے اور چلتا ہوا دریا تھم جاتا۔
شعر و ادب کی دنیا میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کےکمال فن کا آئینہ " دیوان محمدی" کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ " دیوان محمدی" کا مفصل جائزہ تو اس مقالے میں ممکن نہیں۔ البتہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی شاعری ' فکر اور فن کو سماجی تناظر اورو ادبی روایت کے پس منظر میں رکھ کر دیکھتے ہوئے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے شاعرانہ کردار اور تاثیر و افادیت کے حوالے سے چند اجمالی نکات پیش کئے جاتے ہیں۔
خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ شاعری کے جس دبستان سے تعلق رکھتے ہیں' اس کا سرچشمہ تصوف اور روحانیت ہے۔ اور اس کا  مابہ الامتیاز فقر درویشی' عشق حقیقی اور گداز قلب و روح ہے۔ اسلامی تہذیب' دنیا کی تمام مستند اور مکمل تہذیبوں کی طرح ایک مذہبی اور روحانی تہذیب ہے۔ جس کی بہترین عکاسی تصوف کے آئینے میں ہوتی ہے۔ اس لئے یہ کہنا کہ " تصوف برائے شعر گفتن خوب است " طنز نہیں۔ بلکہ ایک بہت بڑی اور اساسی حقیقت کا اظہار ہے اور وہ یہ کہ مذہبی تہذیب میں انسانی زندگی کی دیگر تمام گوشے کی طرح شعرو ادب بھی مذہب اور روحانیت کے زیر اثر ہوتے ہی۔ مذہب خدا اور  بندے کے  رشتے سے شروع ہو کر انسانی رشتوں کی تمام شکلوں کو اپنے دائرے میں سمو لیتا ہے۔ اور اس کے زیر اثر شعر و ادب کے مواد' ہیئت' زبان بلکہ لب و لہجہ تک میں مذہبی تہذیب کی روح در آتی ہے اور یوں انسانی سوسائٹی میں شعرو ادب وہی کام کرتے ہیں جو خود مذہب انجام دیتا   ہے۔
یوں بھی شعر گوئی بذات خود ایک جذبات آمیز اور جذبات آفریں عمل ہے۔یہ وہ ساز ہے جس کے تاروں میں احساسات کے نغمے خوابیدہ ہوتے ہیں۔ ہر شاعرانہ فکر اور تخلیق و تعمیر اور تطہیر و بالیدگی میں تصوف ہی سب سے زیادہ موثر کردار ادا کرتا ہے۔ اور غالبًا یہی  وجہ ہے کہ دنیا کے بلند ترین ادب کا بھی آخر کار تصوف' اخلاقیات اور روحانیت سے رشتہ ہوتا ہے۔ اسی لئے جہاں مشرق و مغرب کے لاتعداد صوفیاء نے شاعری کو اپنے کشف و تجلی اور عرفان و وجدان کا وسیلہ اظہار بنایا ہے' وہیں دنیا کے اکثر بلند پایہ شعراء کے کلام کے ڈانڈے' اس کے باوجود کہ وہ عملاً صوفی نہ تھے' بالآخر تصوف اور علم باطن سے جا ملتےہیں۔ اسلامی تہذیب میں تصوف اور شاعری کا باہمی رشتہ علامہ شبلی نعمانی رحمتہ اللہ علیہ کے اس اعتراف سے واضح ہوتا ہے کہ "فارسی شاعری اس وقت تک قالب بے جان رہی جب تک اس میں تصوف کا خمیر شامل نہیں ہوا۔ کیونکہ شاعری اصل میں اظہار جذبات کا نام ہے اور تصوف سےپہلے سرے سے جذبات کا وجود ہی نہ تھا۔ "
یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ شاعری میں تصوف کی بھر پور آمیزش اسلامی تہذیب کی بالکل ابتدائی صدیوں میں ہی ہو گئی تھی۔ ابو سعید ابولخیر کی رباعیوں سے شروع ہو کر حکیم سنائی' خواجہ عطار' سعدی' رومی' عراقی' شبستری' اوحدی' حافظ' بیدل اور جامی سے ہوتی ہوئی برصغیر کی مختلف زبانوں فارسی' اردو' پنجابی ' سندھی' سرائیکی اور پشتو وغیر کے بیسیوں شعراء مثلاً خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ 'بوعلی قلندر رحمتہ اللہ علیہ' امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ' نظیری' عرفی' ظہوری' گرامی' شاہ لطیف رحمتہ اللہ علیہ' سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ' شاہ حسین رحمتہ اللہ علیہ' بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ' میاں محمد بخش رحمتہ اللہ علیہ' خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ اور پیر مہر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ  تک پہنچی۔ برصغیر کے انہیں شعراء کی صف اول میں عہد آخیر کے صوفی شاعر ہمارے ممدوح خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ بیک وقت فارسی' اردو اور سرائیکی تینوں زبانوں کے قادر الکلام شاعر کی حیثیت سے سامنے آتے  ہیں۔
خواجہ  صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے جس عہد میں صوفیانہ شاعری کا بیڑا اٹھایا وہ برصغیر ہی میں نہیں' پورے عالمی منظر نامے پر امت مسلمہ کےہمہ جہتی زوال و انحطاط کا تاریک ترین دور تھا۔ مغربی استیلاء کے زیر اثر مادیت اور اس کا زہر علم و فکر اور جزبہ و احساس کی پہنائیوں میں بھی اتر رہا تھا۔ ایسے میں شعر و ادب بھی مذہبی و روحانی روایات سے صریح گریز اور انحراف کی راہ پر گامزن تھے۔ اسی تناظر میں ترقی پسند تحریک کا آغاز اور نشو و نما ہوئی۔ ملت کے اس اجتماعی آشوب کے عہد میں جبکہ شعر و ادب کی پوری فضا پر یاس و قنوط کی گھمبیر تاریکی مسلط ہو رہی تھی۔ تہذیبی اقدار کا دم گھٹ رہا تھا' اور ہر صنف سخن کا مرکزی لہجہ  شکایت زمانہ اور آشوب عہد میں ڈوبا ہوا تھا اور کوئی نو وارد تخلیق کار اس وقت تک اپنے آپ کو زمانے کے طرز احساس میں شریک نہیں گردانتا تھا جب تک وہ شکایت ' احتجاج' نفرت' مایوسی اور سلبی احساسات کو اپنے اظہار کی اکائیوں میں شامل نہ کر لیتا۔
نظریاتی اور ثقافتی گھٹن کے اس ماحول میں مذہبی' صوفیانہ اور روحانی شاعری کا بیڑا اٹھانا فی الواقع اولوالعزم ہستیوں ہی کا کام ہو سکتا تھا۔ کیونکہ یہ ایک طرف اپنی قدیم مٹتی ہوئی روایات کو تھام کر پورے عصری ماحول کےخلاف مزاحمت اور مسلسل پیکار کا متقاضی تھا اور دوسری جانب یہ وہ واحد راستہ تھا جو انسانی آشوب کا تدارک اور ملی آزار کا حقیقی مداوا کر سکتا تھا۔ اسی لئے اس عہد کے معروف ترک فلسفی ضیاء گوگ الب نے معاشرتی زوال کی روک تھام کے لئے تصوف کی رہنمائی کو ضروری قرار دیا تھا ۔ اور مغربی فلسفی برٹرنڈر سل نے بھی برملا پکارا تھا کہ مشینی معاشرے سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ تصوف و روحانیت کا عروجی سفر ہے۔ لہٰذا اس عہد میں تصوف اور روحانیت کی لطیف و سبک زبان میں سوسائٹی سے ہمکلام ہونے کی ضرورت تھی اور یہی صوفیانہ شاعری کو پروان چڑھانے کا جذبہ محرکہ تھا جس نے ہمارے ممدوح خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ اور دیگر عظیم صوفیاء کو اس ادبی ذمہ داری سے عہد بر آ ہونے پر مجبور کیا۔ ملت کے اس درد کا احساس خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے ان اشعر میں ہویدا ہے۔
 Image
 درد' مندیم و درد ملت ما است
درد  دلدار  دین  و دولت ما است
ننگ  و ناموس  را نمی  خواھیم
ذلت کوئے دوست عزت ما است
 Image
چنانچہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ ااور ان کے عہد کے دیگر صوفی شعراء کی پیہم سعی و کاوش کی بدولت صوفیانہ شاعری کی صدا پوری قوت سے صحرء تہ میں گونجی اور تصوف نے زوال امت کے اس عہد میں ایک بار پھر انسان کے باطن کو شاعری کی آواز سے فیضیاب کر کے معاشرہ کو اپنی اآغوش میں لے لیا اور مذہب و روحانیت کے پاکیزہ اسرار و رموز سے آگاہی بخشی' حسیاتی تعزل کی ہمہ گیر فضا میں روحانی ترنم کی یہ لے
 " از دل خیزد و بر دل ریزد" کے مصداق انسانی دلوں کو گرمانے اور روحوں کو تڑپانے لگی۔ اور بنی آدم کو پاکیزہ مذہبی تجربے کی لذت سے بہرہ ور کرنے لگی یوں اسلامی سماج میں گداز قلب و روح کا موسم لوٹ آیا اور زندگی پھر مشینوں کی بجائے محبت کی زبان میں گفتگو کرنے لگی۔ ہمدردی' اخلاق اور ایثار کی اعلیٰ رسمیں تصوف اور صوفیانہ شاعری کی بدولت سوسائٹی میں پروان چڑھنے لگیں۔
خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا تعلق چشتی دبستان تصوف سے تھا اور ان سے پہلے ایران و برصغیر کے بے شمار چشتی صوفیاء شعر و ادب کی پاکیزہ روایات تخلیق کر چکے تھے۔ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے نظام  فکرو فن کی اساس انہیں صوفیانہ شعری روایات پر استوار کی۔ اور اپنے ہر دلعزیز لہجہ اور مقبول عوامی زبان کے ذریعہ تصوف کو پنجاب  میں ایک عوامی تحریک کا روپ دینے میں بھر پور کردار ادا کیا۔ ان کے دیوان پر سرسری نظر ڈالنے سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی فارسی' اردو اور سرائیکی شاعری کی آغوش میں برصغیر کی طویل کلاسیکی صوفیانہ روایت' فکری سرمائے اور ادبی و لسانی ورثے کو سمیٹ کر نئے قالب میں ڈھال دیا ہے۔ ان کے کلام کی گہرائی میں مختلف صوفیانہ لہجے' انداز اور تیور جذب ہو کر ایک عجیب قوس قزح کا روپ دھار چکے ہیں۔ صوفیانہ روایات کا کل سرمایہ تین اساسی دائروں میں سمٹ آتا ہے۔:۔
۱۔ ما بعد الطبعیاتی معتقدات
۲۔ صوفیانہ اخلاق و تعلیمات
۳۔ روحانی احوال و واردات
اور یہ تینوں عناصر ہمارے ممدوح خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے کلام میں پوری تابانی سے جگما رہے ہیں۔
۱۔ ما بعد الطبعیاتی معتقدات:۔
چشتی دبستان تصوف کے مابعد الطبعیاتی  عقائد کی اساس وحدت الوجود کا نظریہ ہے۔ چشتیہ تعلیمات کاسارا فکری منظر نامہ اسی فلسفہ کے گرد تشکیل پاتا ہے۔ اس لئے برصغیر اور ایران کے دیگر صوفی شعراء کی طرح خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ کے نظام فکروفن کا تانا بانا بھی اساسی طور پر اسی عقیدے سے بنا ہوا ہے۔ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں وحدت الوجود کا اعلانیہ' پر جوش اور دو ٹوک اظہار ہوتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس نظریےکو مجرد تعقلاتی و فلسفیانہ سطح پر نہیں برتا اور نہ اسے زندگی کہ پست سطحوں تک اترنے دیا۔ بلکہ ایک مسلمہ صداقت کے طور پر اس کے مذہبی اور سماجی نتائج اخذ کئے اور اسے ایک تحرک و افادی بخش سماجی نظریے میں ڈھال کر پیش کیا ہے۔
 Image
 ہم  خالق  و مخلوقم   ہم  رازق  و  مرزوقم
مطلوبم  و  جو یندہ  من  غیر  نمی    دانم
از   عشق   خرابم   من معشوق عتابن  من
چشمیست   چوببیندہ من  غیر نمی دانم
مز مار   و  سرایندہ    گو یندہ   و      شنوندہ
ہم   صوفیءِ   رقصندہ   من  غیر نمی دانم
چوں   ابر  گہر  بارم  چوں   برق   شرر   دارم
ہم   سوزم   و   سوزندہ   من  غیر  نمی دانم

خاک     راہ       درد        مندانم       مگر
درد      منداں         را دوایم         کیستم

ہماں  رازے کہ اندر دل نہاں می داشتم آخر
بگفتم   بر سر  ممبر  بہ پیش اہل راز ایں جا
 Image
۲۔ صوفیانہ تعلیمات:۔
ہر دور اور ہر انداز کی شاعری کے مخصوس موضوعات اور اظہار کے جداگانہ اسالیب ہوتے ہیں۔ برصغیر کی اسلامی ثقافت میں صوفیانہ تعلیمات اور روحانی اقدار و آداب کے جتنے بھی مظاہر وقتاً فوقتاً ابھرتے رہے' خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ کی شاعری کے آئینے میں ان کا بھرپور عکس جھلکتا ہے۔ ان کا نظام افکار تصوف اور روحانیت کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ تاہم یہ قرآنی اسرار اور نبوی معارف سے ضو گیر ہے۔ عشق حقیقی' جذبہ عبدیت' عرفان حق' حب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم' اتباع سنت' پیروی شریعت' محبت شیخ' درد ملت' ہمدردی انسانیت' ایثار' اخلاق اور وفا کیشی کے مضامین ان کے دیوان میں جا بجا ملتے ہیں۔ تاہم ان روایتی مضامین کے شعری اظہار میں خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی معنی آفرینی' فنی پختگی اور شاعرانہ مہارت نے جدت و ندرت کےکئی رنگ پیدا کر دئیے ہیں۔
 Image
اے   کز  نگاہ  ناز  تو  ناز  آفریدہ اند
و ز طاق  ابروئے  تو  نما ز  آفریدہ اند
در شوق آں گلم نشد از غنچہ در ظہور
در  بلبل ایں چہ سوزو گداز آفریدہ اند
Image
 از    قَدِ  او   قِدم    ترا شید ند
از ید      او    کرم    ترا شید ند
گریہ  چشم ماچہ طوفاں کرد
کہ  از و    بحر ویم    تراشیدند 
 Image
سرائیکی شاعری میں خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی انفرادیت پسندی نئے نئے موضوعات تلاش کرتی اور ان کے لئے جداگانہ پیرایہ ہائے بیان تراشتی نظر آتی ہے۔ فارسی اور اردو شاعری کے مقابلے میں یہاں ان کا نبوغ بھر پور عظمت کے ساتھ نمایاں ہے۔
 Image
میڈے درد دے دفتر ہک پاسے
مجنوں   وچارہ      ہک    پاسے
 Image
مذاھب دے جھگڑے اساں چھوڑ بیٹھے
محبت   دا  جھگڑا  چھڑا کوئی نئی سگدا
 Image
 صبا  کوٹ  مٹھن دے پیریں کوں آکھیں
ہیں بلبل کوں خود گل بنڑیسو کے کیناں
 Image
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خواجہ  علیہ رحمتہ  نے برصغیر کی شاعری کی پاکیزہ و بر تر روایات سے جو کچھ حاصل کیا اس سے انہیں جو قوت و توانائی حاصل ہوئی وہ اس دیوان کی تخلیق میں کام آئی ہے۔
۳۔ روحانی احوال و واردات:۔
شاعری دراصل شاعر کی داخلی شخصیت کا اظہار ہے۔ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ صاحب حال صوفی تھے۔ ان کے نفسی احوال' باطنی کیفیات اور روحانی واردات کا عکس جمیل ان کی شاعری میں پوری آب و تاب کے ساتھ جھلکتا ہے ۔ انہوں جو کچھ لکھا ہے' نفس کی داخلی پہنائیوں اور عالم وجد و حال میں کھو کر لکھا ہے۔ اس لئے ان کی شاعری میں حقیقی اثر آفرینی ہے۔ اکثر نعتوں اور منقبتوں میں جذباتی  تسلسل پایا جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جس شدت سے جذبہ ان پر طاری ہوتا ہے اسی شدت سے وہ اسے شعری سانچے میں ڈھال دیتے ہیں۔
 Image
 دلبرا  بہر  خدا گاہے  بیادر کوئے ما
تابہ بینی زیر پایت جان و ایمان کسے

سالہا   در   پردہ    ہایت    دیدہ    ام
یک  زماں  بے  پردہ   دیدہ   آرزوست
آرزویم      را    نگر     شوقم  بہ   بیں
در  مقام   او    رسیدن        آرزوست

در   مذہب  ما کفر  بود   غیر  تو دیدن
بینندہ   غیرے  تو   مسلمان نباشد

در بندگی  پیر  مغا ں    پیر گشتہ ایم
ما   زندگی    بہ بندگیء آں فروختیم
ما   حامد   محمد   پاکیم   از    ازل
حمد   خدا  بحمد  خدا داں  فروختیم
 Image
خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے شاعری کو ادبی مشغلے کے طور پر نہیں'بامقصد وظیفہ زندگی کی حیثیت سے اختیار کیا ہے۔ ذہنی مرکزیت اور قلبی یکسوئی کے تحت ان کے باطنی واردات پیغام حیات میں ڈھل گئے ہیں۔ عشق حقیقی ان کا مسلک ہی نہیں' مقصد حیات ہے۔ ان کا عشق پور وجود کو گھیرے ہوئے ہے۔ عشق خدا' عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور عشق شیخ ان کی شخصیت اور ان کے خمیر میں گھلا ہوا ہے۔ اس عشق کی پہنائیوں سے پھوٹنے والی ایک مشترک روحانی' جزباتی لہر ان کے پورے کلام میں موجزن ہے۔ انہوں نے ہر جذبے کو گویائی کا جوہر بخشا ہے۔ وفور شوق' حدت عشق' سوزوگداز اور گھلاوٹ ان کی شاعری کے بنیادی عناصر ہیں۔ نعتوں میں عشق کی جاں نواز حدت اپنے عنفوان پر ہے۔
 Image
ہر کسے دارد تمنائے دگر
دین و ایمانم تمنائے نبی
 Image
 Image
شہ خیر الوریٰ کے عشق میں اب تو محمد بھی
محمد  مصطفیٰ کا  نقش پا   معلوم ہوتا ہے
 Image
 محمد محمد پکیندیں گزر گئی
احد نال احمد ملیندیں گزر گئی
 Image
اسلوب بیاں:۔
اور اب آخر میں چند لفظ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے اسلوب شاعری کے بارے میں
شاعری کےمدارج مختلف' انداز متنوع اور اسالیب بو قلموں ہیں۔ ہر شاعر اپنا الگ مزاج اورجداگانہ انداز رکھتا ہے  جو اس کے کلام  میں مواد و موضوع' طرز احساس اور اسلوب اظہار کی مختلف صورتوں میں نمایاں ہوتا ہے۔ صوفیانہ شاعری کا درجہ کمال یہ ہے کہ اسلوب اور مواد دونوں ہی اپنے معیار کے نقطۂ عروج پر ہوں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر شعر تصوف میں ڈھل جاتا ہےا۔ اور تصوف شعر میں اتر آتا ہے۔ خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ کی شاعری اسی درجہ کی ہے۔ انہوں نے صوفیانہ مضامین صرف نظم ہی نہیں کئے' بلکہ ان میں شعری خوبیاں اور فنی لطافتیں بھی سمونے کی کوشش کی ہے اور مقصدیت کے باوجود کلام میں حتی الامکان شگفتگی قائم رکھی ہے۔
 Image
 برخاک نشستیم و زافلاک گزشتیم
اے  خاک  درپاک تو اکسیر زمانے

در   دیر   و   حرم   گزر    ندارند
دار  است   برائے      درد منداں
 Image
خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا طرز بیاں فطری جاذبیت لئے ہوئے ہے۔ زبان صاف' اسلوب دلکش اور انداز انتہائی سادہ ہے۔ عمیق صوفیانہ مضامین میں بیان کرتے ہوئے بھی سریت' ایمائیت اور مشکل پسندی سے گریز کیا ہے۔ لفظی صنائع بدائع ان کے ہاں فکر اور جذبے میں اس طرح تحلیل ہو گئے ہیں کہ بعض اوقات ان کی جداگانہ تشخیص دشوار ہو جاتی ہے۔ ایک شعر ملاحظہ ہو۔ 
 Image
 بپا   نعل   عبودیت        بسر تاج      الوہیت
خدا یکتا کی یکتائی کا نقشہ بن کے نکلیں گے
 Image
الغرض ان کے ہاں فکر' فن اور جذبے کا اتنا خوشگوار امتزاج ہے کہ تین مختلف زبانوں میں لکھنے والے کسی اور شاعر کے ہاں اس کی مثال مشکل سے ملے گی۔


پرفیسر علامہ سید عبدالرحمٰن بخاری
ریسرچ اسکالر
قائد اعظم لائبریری' جناح باغ:۔ لاہور