Author Topic: عاشق رسول علیہ الصلوۃ والسلام حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ  (Read 593 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline Master Mind

  • 4u
  • Administrator
  • *
  • Posts: 4468
  • Reputation: 85
  • Gender: Male
  • Hum Sab Ek Hin
    • Dilse
    • Email
عاشق رسول علیہ الصلوۃ والسلام  حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ
تحریر :۔  ارشاد احمد عارف

پنجاب کے طول عرض میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جو معطر ہوائیں چلیں اور جنہں نے ہر درد مند دل اور حب رسول علیہ الصلوۃ والسلام کی دولت سے مالا مال مسلمان کے دل و دماغ کو مہکا دیا وہ ان نفوس قدسیہ کی شبانہ روز محنت اور ذکر و فکر کا نتیجہ تھا جو اپنے آپ کو دولت عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بانٹنے اور اعلٰی ارفع تذکار سیرت سے مشام جاں معطر کرنے کے لئے وقف کر چکے تھے۔ انہی میں سے ایک نام حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ کا ہے جو بیک وقت سحر بیاں خطیب' خوش گو شاعر' صاحب علم و عرفان' پیر طریقت اور سب سے بڑی بات یہ کہ عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔ عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا اوڑھنا بچھونا اور مقصد حیات تھا۔ یہی وجہ ہے کہ خطہ پنجاب جہاں ان کی خوش الحانی' جادو بیانی اور گرمی گفتار کا معترف اور گواہ ہے وہاں ان کا اصل تعارف تاجدار مدینہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق و محبت سے معمور ایک ایسے صوفی کا ہے جس کے شب و روز ذکر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کٹتے اور حب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دولت کو عام کرنے میں گزرتے ہیں۔
خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ 1881ء میں ریاست بہاولپور کے معروف اور مردم خیز قصبہ گڑھی اختیار خان میں پیدا ہوئے اور اس دور کی ایک شہرہ آفاق علمی درسگاہ واقع چاچڑاں شریف میں مروجہ علوم کی تکمیل کی۔ یہ درسگاہ سرائیکی زبان کے امراء  القیس شاعر اور سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ کے صاحب سجادہ بزرگ حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کی نگرانی اور علمی سرپرستی میں علم و عرفان کے متوالوں کی توجہ کا مرکز تھی۔ برصغیر پاک و ہند کے طول و عرض سے ہر عمر اور نسل کے افراد اپنی علمی اور روحانی پیاس بجھانے کے لئے چاچڑاں شریف کا رخ کرتے اور گوہر مراد پاتے تھے۔ خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ نے صرف یہاں سے ظاہری علوم کی دولت ہی حاصل نہیں کی  بلکہ حضرت خواجہ فرید رحمتہ اللہ علیہ کے ہاتھ پر بیعت کر کے طریقت  و سلوک کی منزلیں بھی طے کیں۔ اس کے علاوہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے شعر و بیان کی اصلاح بھی لی۔ یہی وجہ ہے کہ خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ کے کئیں شعر خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے منسوب ہو کر زبان زد عام و خاص ہیں۔ حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کے انتقال کے بعد انہوں نے حضرت خواجہ محمد بخش نازک کریم رحمتہ اللہ علیہ سے فیض صحبت پایا او ان کے صاحبزادے خواجہ معین الدین رحمتہ اللہ علیہ سے خرقہ خلافت حاصل کیا۔ حصول علم کے بعد انہوں نے تبلیغ دین اور فروغ دین اور فروغ حب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی زندگی کا مشن بنایا اور ریاست بہاولپور میں دھوم مچا دی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنی تقریروں میں قرآن مجید اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاوت اس خوش الحانی سے کرتے کہ پوری محفل پر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی۔ اپنی سحر آفریں تقریروں میں مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ اور خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کے فارسی اور سرائیکی اشعار کا بر محل استعمال اس قدر شیریں لسانی سے کرتے کہ خطاب ذوا شد ہو جاتا۔ آہستہ آہستہ آپ رحمتہ اللہ علیہ پنجاب اور پھر برصغیر کے کونے کونے میں پہنچے اور اپنی وجد آفریں تقریروں سے لوگوں کو گرما اور تڑپا دیا۔ حب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور وحدت الوجود آپ رحمتہ اللہ علیہ کے خاص موضوعات تھے حقیقت یہ ہے کہ وحدت الوجود کے خاص فلسفیانہ نظریہ کو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے جس سلاست اور سادگی سے کم پڑھے لکھے اور بسا اوقات  بالکل ان پڑھ لوگوں تک پہنچایا وہ آپ رحمتہ اللہ علیہ ہی کا حصہ تھا۔ لاہور' اجمیر' امرتسر' دہلی  اور دیگر مقامات پر بزرگان دین کے اعراس اور دینی محفلوں میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کا خطاب خصوصی توجہ اور اشتیاق سے سنا جاتا اور سامعین مہینوں اس کی لذت اور حلاوت  کو محسوس کرتے تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ لاہور کی مذہبی انجمن نعمانیہ کے صدر بھی رہے۔ دارالعلوم حزب الاحناف کے سالانہ جلسہ  اور عرس حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کے موقع پر آپ رحمتہ اللہ علیہ کا وعظ حاصل محفل ہوتا تھا اور ملک کے طول و عرض سے آئے ہوئےسامعین اس سے  محظوظ ہوتے۔ چشتی سلسہ تصوف سے تعلق کے باعث سماع آپ رحمتہ اللہ علیہ کے روح کی غذا تھی۔ قوالی کی محفلوں میں ذوق شوق سے سے شریک ہوتے  ان محافل میں ذکر مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اچھے اشعار پر آپ رحمتہ اللہ علیہ کی آنکھیں اشک بار ہو جاتیں اور گریہ و وجد کی یہ کیفیت محفل کو گرما دیتی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا ایک خاص وصف ادب و تعظیم تھی۔ مشائخ و علماء کرام کے علاوہ نسبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے سادات کرام کا آپ رحمتہ اللہ علیہ انتہائی احترام کرتے۔ ان کے سامنے ہمیشہ دیدہ دل فرش راہ کرتے اور اس بات پر فخر کرتے کہ وہ دربار رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدح خواں اور گدائے بے نوا ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنی تقریروں میں بھی ادب اور تعظیم کا درس دیتے اور ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم' صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین' اہل بیت اور اولیائے کرام  رحمہم اللہ کی فضیلتوں اور تعلیمات کے ذکر کے ساتھ ساتھ ان کے احترام اور تقدس پر زور دیتے۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ مرشد کامل حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کی طرح اردو' فارسی اور سرائیکی  کے قادر الکلام شاعر تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے بعض سرائیکی اشعار تو برصغیر کےمذہبی حلقوں میں زبان زد عام ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا مجموعہ کلام دیوان محمدی المعروف انوار فریدی طبع ہو کر اہل ذوق سے خراج تحسین حاصل کر چکا ہے۔ ایک طویل عرصہ تک درد کی دولت اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انمول نعمت بانٹنے والا یہ قادر الکلام شاعر' خطیب اور گدائے مصطفٰی 14 رجب المرجب 1367ھ کو لاہور میں انتقال کر گیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کو ابتداء میں مزار حضرت میاں میر رحمتہ اللہ علیہ کے قریب بطور امانت دفن کیا گیا بعد میں گڑھی اختیار خان لے جا کر دفن کیا گیا۔ ہر سال آپ رحمتہ اللہ علیہ کا عرس گڑھی اختیار خان اور لاہور میں عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔