Author Topic: غواص بحر توحید  (Read 255 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline Master Mind

  • 4u
  • Administrator
  • *
  • Posts: 4468
  • Reputation: 85
  • Gender: Male
  • Hum Sab Ek Hin
    • Dilse
    • Email
غواص بحر توحید
« on: May 15, 2011, 10:17 PM »
غواص بحر توحید
تحریر:۔ مخدوم رکن الدین

دنیا میں جس قدر خیر و برکت نازل ہوتی ہے نیک لوگوں کی بدولت ہے جہاں میں نیک لوگ ہماری سعادت اور خوش بختی کا ذریعہ بنتے ہیں۔
رب تعالیٰ کی طرف سے اولیاءِ کرام اور مشائخ عظام ہماری اصلاح اور فلاح پر مامور ہیں۔ مردان خدا کی اپنی خودی جب محکم ہو جاتی ہے تو فطرت ان کو صفات کاملہ عطا کر دیتی ہے اور اس طرح صوفی و مومن کی ذات با صفات سے خلق مستفیض ہونے لگتی ہے اور فیض پاتی ہے۔
یہ مردان حق ہم تک توحید پہنچانے کا اس طرح وسیلہ بنتے ہیں جس طرح پھول ہم تک خوشبو پہنچانے کا وسیلہ بن جاتا ہے۔
خواجہ محمد یار رحمتہ اللہ علیہ گلزار محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک ایسے پھول تھے جنہوں نے عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشبو کو اپنے اندر سمویا اور پھر عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس خوشبو کو پورے سوز اور ساز کے ساتھ خلق میں تقسیم فرمایا۔
خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ غواص بحر توحید تھے۔ اور علامہ اقبال کی طرح ہر قطرہ دریا میں دریا کی گہرائی کے قائل تھے۔ قطرے میں دریا کی ذات کو پہنچانتے اور کہتے:۔
 Image
 ہک ہک وچ ہے ہک دا جلوہ ہک ڈیکھن مستانے
                        قسم قرآنے
 Image
محمد یار رحمتہ اللہ علیہ خالق اور مخلوق میں جدائی کے خیال کو قبول نہیں کرتے بلکہ وحدت الوجود کے مطابق ہر صورت میں رب کی صورت کے قائل تھے۔ ان کے نزدیک رب کا مفہوم وہ ہے جو حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ اور شیخ اکبر محی الدین ابن العربی رحمتہ اللہ علیہ نے بیان فرمایا۔
شیخ اکبر فرماتے ہیں یہ عالم حق تعالیٰ کی صورت ہے رب کی ذات رب کی صورت مقدسہ سے جدا نہیں ہے۔ عالم اور اس پر ابھرتی ہوئی تمام صورتیں دراصل اس کی ذات کا ظہور ہیں۔ ممکنات اس کے اسماء اور مخلوقات اسی صفات کے مظہر ہیں۔ حق تعالیٰ کا اپنی مخلوق  میں ظہور خاص انداز میں موجود ہے۔ حق تعالیٰ کو اپنے مظاہر سے وہ نسبت ہے جو روح کو جسم سے۔
نبیوں کی تخلیق عام آدمی کی تخلیق سے افضل ہے اس لئے نبی کی ذات میں رب اپنی صفات کی تکمیل کرتا ہے اس طرح نبی کی ذات میں اس کی ذات و صفات کا ظہور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواجہ محمد یار رحمتہ اللہ علیہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات میں رب کی ذات و صفات کو اور اسی وسیلے سے رب کو محسوس کیا۔
لہٰذا کہ ڈالا:۔
 Image
گر   محمد   نے   محمد  کو  خدا  مان لیا
پھر تو سمجھو کہ مسلمان ہے دغاباز نہیں
 Image
اور
 Image
 خدا  کوں  ڈٹھوسے محمد دے اولے
محمد کوں ڈہدیں ڈکھیندیں گزر گئی
احد نال  احمد  ملیندیں   گزر   گئی
 Image
رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت ہی دراصل آپ رحمتہ اللہ علیہ کے وجو دکے ذرے ذرے میں بس گئی تھی اور اس طرح آپ رحمتہ اللہ علیہ سراپاء عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بن گئے تھے۔
فرمایا:۔
 Image
خدا آکھاں تاں جگ ڈر دے
جدا آکھاں تاں دل مر دے
صفا آکھاں تاں حق تر دے
کریساں لک لکا کے تیئس
 Image
اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہی موحد کی شان قرار دیا اور فرمایا:۔
 Image
 شہہ توحید نے کیا شان بخشی ہے موحد کو
خدا  کو  جاننے  والا  خدا  معلوم  ہوتا  ہے
 Image
یہی وحدت الوجود اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواجہ محد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ کا مکمل احاطہ کر گئے وہ علم سے گزرگئے۔ وجدان سے گزرے اور آخر کار مقام حیرت تک پہنچے اور کہ ڈالا:۔
 Image
 نہ محمد ہوں نہ احمد نہ ہوں واحد نہ احد
مجھ کو سوچے تو فقط حیرت حیراں سوچے
 Image
لیکن مقام حیرت کے باوجود بھی
 Image
کنار  یار  سے نکلا نہیں محمد  یار
جہاں  رہا وہ محمد سے ہم کنار رہا