Author Topic: ملک اسحاق ایک بار پھر جیل پہنچ گئے  (Read 176 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline Farooq

  • Dilse Member
  • *
  • Posts: 553
  • Reputation: 0
    • Email
اہور میں پولیس نے کالعدم جماعت سپاہ صحابہ کے رہنما ملک اسحاق کو گرفتاری کے بعد جیل بھجوا دیا ہے۔

ملک اسحاق پر الزام ہے کہ انہوں نے چند ہفتے پہلے لاہور کے ایک جلسہ عام میں اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔
اسی بارے میں

    ملک اسحاق دس روز کے لیے نظر بند
    جب پاکستان پر فرقہ واریت کا سایہ تھا
    ’اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے‘

متعلقہ عنوانات

    پاکستان

کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے رہنما ملک اسحاق کومقامی مجسٹریٹ نے چودہ روز کے لیے عدالتی تحویل میں کوٹ لکھپت جیل بھجوا دیا ہے۔

ایس پی ماڈل ٹاؤن لاہور نے ملک اسحاق کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کو بتایا کہ انہیں جمعرات کے روز لاہور ایئر پورٹ سے وطن واپسی پر گرفتار کیا گیا۔

ملک اسحاق پر شیعہ مسلک کےتقریبا سوافراد کے قتل کے الزام تھا اور وہ ان چار افراد میں شامل ہیں جنہوں نے سولہ سال پہلے پاکستان میں ایک خفیہ تنظیم لشکر جھنگوی کی بنیاد رکھی تھی۔

پولیس کے مطابق یہ کالعدم تنظیم شیعہ مسلک کے افراد کے وسیع پیمانے پر قتل میں ملوث رہی ہے اور اب اس کے روپوش کارکنوں کے تعلق تحریک طالبان سے استوار ہوچکے ہیں۔ اس تنظیم کے قیام کے ایک ڈیڑھ سال کے اندر اس کے بانی امیر ملک اسحاق گرفتار ہوگئے تھے اورگذشتہ سال جولائی میں تقریبا پندرہ برس کی قید کاٹنے کے بعد ضمانت پر رہا ہوئے تھے۔

لاہور کے ایک سپرنٹڈنٹ آف پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ ملک اسحاق نے ماہ رمضان میں لاہورکے نواحی علاقے نشتر کالونی میں ختم نبوت کے ایک جلسے میں اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔ سپیشل برانچ کی رپورٹ پر ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا تھا اور انہیں اسی مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

Offline asad

  • Full Member
  • *
  • Posts: 414
  • Reputation: 0
    • Email
Re: ملک اسحاق ایک بار پھر جیل پہنچ گئے
« Reply #1 on: September 04, 2012, 01:41 PM »
thanks for sharing sml

Offline anjumkhan

  • Sr. Member
  • *
  • Posts: 1624
  • Reputation: 1664
  • Gender: Female
    • Email
Re: ملک اسحاق ایک بار پھر جیل پہنچ گئے
« Reply #2 on: September 06, 2012, 11:23 AM »
 JazaKallah

Bhlay Cheen lo muj sy meri jawani.
Mager muj ko lota do Bajpan ka sawan.
Wo kaghaz ki kashti wo barish ka pani.