شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ‘ غیر ملکیوں سمیت 8 افراد جاں بحق
ـ 2 گھنٹے 36 منٹ پہلے شائع کی گئی
پشاور + مینگورہ (رائٹر + وقت نیوز + ریڈیو مانیٹرنگ + نامہ نگار) شمالی وزیرستان کے علاقہ نورک میں امریکی جاسوس طیاروں کے میزائل حملے میں غیر ملکیوں سمیت 8 افراد جاںبحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ حملے کے بعد بھی پورے علاقے پر پروازیں جاری رہیں۔ ڈرون طیارے نے نورک میں شدت پسندوں کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔ ڈرون طیاروں نے 2 میزائل داغے تھے۔ جاںبحق ہونے والوں میں 3 عرب‘ 3 پاکستانی‘ ایک چیچن اور ایک ازبک باشندہ شامل ہے‘ یہ 24 گھنٹوں میں تیسرا میزائل حملہ ہے۔ منگل کے روز جنوبی وزیرستان میں ہونیوالے ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کا بھائی کلیم اللہ محسود جاںبحق ہو گیا تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ اس کی وہاں موجودگی کی اطلاع پر حملہ کیا گیا جس میں 5 افراد جاںبحق اور 7 زخمی ہو گئے تھے۔ دریں اثناء اورکزئی ایجنسی میں دوآبہ پولیس نے حکیم اللہ محسود کے اہم کمانڈر محمد شاہ عرف ماما کو گرفتار کر لیا۔ ڈی ایس پی میرچمن کے مطابق محمد شاہ دوآبہ میں طالبان کا کمانڈر ہے اور تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کا اہم ساتھی ہے۔ محمد شاہ عرف ماما سکیورٹی فورسز پر حملوں اور اغوا سمیت دیگر وارداتوں میں مطلوب تھا۔ ذرائع کے مطابق دوآبہ سے گذشتہ روز بھی عسکریت پسند مسلم خان کو گرفتار کیا گیا ہے۔سوات میں مزید 21 شدت پسندوں نے ہتھیار ڈال کر خود کو سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا۔ ذرائع کے مطابق سوات کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کا شدت پسندوں کے خلاف سرچ آپریشن جاری ہے۔ اس دوران مختلف علاقوں میں متعدد شدت پسندوں کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے بعد تاحال سوات کی ہوٹل انڈسٹری سکولز اور تباہ شدہ پلوں کی تعمیرات کا کام شروع نہیں کیا جا سکا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع بھر میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری کے بعد سکیورٹی فورسز کے چیک پوسٹوں میں کمی کی جا رہی ہے۔ حکام نے مینگورہ اور ملحقہ علاقوں سے چیک پوسٹیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘ ہنگو سے کمانڈر محمد شاہ سمیت 2 شدت پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ سوات میڈیا سنٹر کے مطابق مینگورہ‘ چار باغ‘ کانجو اور کبل میں رات ایک بجے تک اور جبکہ دیگر رات گیارہ بجے تک کرفیو میں نرمی رہے گی۔ ادھر کرم ایجنسی کے علاقے مسوزئی میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ سے شدت پسندوں کے 3 ٹھکانے تباہ ہوگئے جس میں کئی افراد کے جاںبحق ہونے کی اطلاع ہے۔ دریں اثناء خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ اور وزیرستان سے نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ دریں اثناء ضلع سوات کی تحصیل خوازہ خیلہ کے نواحی علاقے چنگلئ سے 27 ستمبر اغوا ہونے والے علاقے کے معروف شخصیت جمال الدین خان کی لاش برآمد ہوئی ہے جنہیں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ دریں اثناء سوات قومی امن جرگہ نے جہادی تنظیموں کے دفاتر اور مراکز ختم کرنے اور سوات کے بالائی علاقوں میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف مؤثر آپریشن کا مطالبہ کر دیا۔ دریں اثناء باجوڑ ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ نے تحصیل ماموند میں تمام شدت پسندوں کو ہتھیار ڈالنے کیلئے چھ دن کی مہلت دیتے ہوئے افغان مہاجرین کو علاقے سے نکلنے کا حکم دیا۔ ذرائع کے مطابق پولیٹیکل انتظامیہ نے ماموند قبائل کے عمائدین کو تحریری نوٹس جاری کیا ہے جس میں ہدایت کی گئی ہے کہ تحصیل ماموند میں موجود تمام شدت پسند پیر تک ہتھیار ڈال کر خود کو انتظامیہ کے حوالے کر دیں۔