Hum Tum Board

Shayari & Urdu Adab => Great Poets => Amjad Islam Amjad => Topic started by: Leon on October 31, 2009, 04:39 PM

Title: علی ذیشان کے لئے ایک نظم
Post by: Leon on October 31, 2009, 04:39 PM

مرے بیٹے نے آنکھیں اک نئی دُنیا میں کھولی ہیں
اُسے وہ خواب کیسے دوں
جنہیں تعبیر کرنے میں مری یہ عمر گزری ہے

مری تعظیم کی خاطر وہ ان کو لے تو لے شاید
مگر جو زندگی اُس کو ملی ہے، اُس کے دامن میں
ہمارے عہد کی قدریں تو کیا یادیں بھی کم کم ہیں
انوکھے پھول ہیں اُس کے نرالے اُس کے موسم ہیں
خود اپنی موج کی مستی میں بہنا چاہتا ہے وہ!
نئی دُنیا ، نئے منظر میں رہنا چاہتا ہے وہ

سمجھ میں کچھ نہیں آتا اُسے کیسے بتاؤں میں
زمیں پر آج تک جتنے بھی آدم زاد آئے ہیں
اسی مشکل سے گزرے ہیں
انہی رستوں میں اُلجھے ہیں
اسی منزل سے گزرے ہیں
ازل سے آج تک جتنے محبت کرنے والے ہیں
سبھی کی اک کہانی ہے
نئی لگتی تو ہے لیکن حقیقت میں پُرانی ہے

اُسے کیسے بتاؤں کہ میرے باپ کی باتیں
مجھے بھی ایک ایسے وقت کا احوال لگتی تھیں
جو اک بھولا فسانہ تھا
میں اُس کی جیب کے متروک سکوں کو کہاں رکھتا
کہ یہ میرا زمانہ تھا
نئے بازار تھے میرے ، کرنسی اور تھی میری
وہ بستی اور تھی میری
مگر پھر یہ کُھلا مجھ پر نیا کچھ بھی نہیں شاید
ازل سے ایک منظر ہے فقط آنکھیں بدلتی ہیں
مری نظروں کا دھوکہ تھا کہ یہ چیزیں بدلتی ہیں

اُسے کیسے بتاؤں میں
کہ یہ عرفان کا لمحہ ابھی تک اُس تک نہیں پہنچا
مگر جس وقت پہنچے گا
اُسے بھی اپنے بیٹے کو یہی قصہ سُنانے میں
یہی دُشواریاں ہوں گی
کہ وہ بھی تو کچھ اپنی بات کہنا چاہتا ہو گا
نئی دُنیا نئے منظر میں رہنا چاہتا ہو گا
بس اپنی ذات کی مستی میں بہنا چاہتا ہوگا
Title: Re: علی ذیشان کے لئے ایک نظم
Post by: impressible4u on November 22, 2009, 12:50 PM
very nice sharing
Title: Re: علی ذیشان کے لئے ایک نظم
Post by: Samera on November 27, 2009, 09:17 PM
nice sharing thanks for sharing
Title: Re: علی ذیشان کے لئے ایک نظم
Post by: Allahwala on December 05, 2009, 12:52 PM
Very nice shiring  thumbsss
Title: Re: علی ذیشان کے لئے ایک نظم
Post by: King on January 01, 2010, 06:36 AM
VERY NICE SHARING  zbardst  smlsml