Hum Tum Board

Shayari & Urdu Adab => Great Poets => Amjad Islam Amjad => Topic started by: Leon on October 31, 2009, 04:55 PM

Title: حد سے توقعات زیادہ کیے ُہوئے
Post by: Leon on October 31, 2009, 04:55 PM
حد سے توقعات زیادہ کیے ُہوئے
بیٹھے ہیں دل میں ایک ارادہ کیے ُہوئے

اس دشت بے وفائی میں جائیں کہاں کہ ہم
ہیں اپنے آپ سے کوئی وعدہ کیے ُہوئے

دیکھو تو کتنے چین سے کس درجہ مطمئن!
بیٹھے ہیں ارض پاک کو آدھا کیے ہوئے

ق
پاؤں سے خواب باندھ کے شام وصال کے
اک دشت انتظار کو جادہ کیے ہوئے

آنکھوں میں لے کے جلتے ہوئے موسموں کی راکھ!
گرد سفر کو تن کا لبادہ کیے ہوئے

دیکھو تو کون لوگ ہیں!آئے کہاں سے ہیں !
اور اب ہیں کس سفر کا ارادہ کیے ہوئے

اس سادہ رُوکے بزم میں آتے ہی بجھ گئے
جتنے تھے اہتمام زیادہ کئے ہوئے

اُٹھے ہیں اُس کی بزم سے امجد ہزار بار
ہم ترک آرزو کا ارادہ کیے ہوئے
Title: Re: حد سے توقعات زیادہ کیے ُہوئے
Post by: impressible4u on November 21, 2009, 05:59 PM
very nice sharing good
Title: Re: حد سے توقعات زیادہ کیے ُہوئے
Post by: Samera on November 27, 2009, 09:18 PM
nice sharing thanks for sharing
Title: Re: حد سے توقعات زیادہ کیے ُہوئے
Post by: Allahwala on December 05, 2009, 12:51 PM
Very nice shiring  thumbsss
Title: Re: حد سے توقعات زیادہ کیے ُہوئے
Post by: King on January 01, 2010, 06:38 AM
VERY NICE SHARING  zbardst  smlsml