Hum Tum Board

Shayari & Urdu Adab => Great Poets => Amjad Islam Amjad => Topic started by: Leon on October 31, 2009, 05:09 PM

Title: اب کے سفر ہی اور تھا‘ اور ہی کچھ سراب تھے
Post by: Leon on October 31, 2009, 05:09 PM
اب کے سفر ہی اور تھا‘ اور ہی کچھ سراب تھے
دشتِ طلب میں جا بجا‘ سنگِ گرانِ خواب تھے
حشر کے دن کا غلغلہ‘ شہر کے بام و دَر میں تھا
نگلے ہوئے سوال تھے‘ اُگلے ہوئے جواب تھے
اب کے برس بہار کی‘ رُت بھی تھی اِنتظار کی
لہجوں میں سیلِ درد تھا‘ آنکھوں میں اضطراب تھے
خوابوں کے چاند ڈھل گئے تاروں کے دم نکل گئے
پھولوں کے ہاتھ جل گئے‘ کیسے یہ آفتاب تھے!
سیل کی رہگزر ہوئے‘ ہونٹ نہ پھر بھی تر ہوئے
کیسی عجیب پیاس تھی‘ کیسے عجب سحاب تھے!
عمر اسی تضاد میں‘ رزقِ غبار ہو گئی
جسم تھا اور عذاب تھے‘ آنکھیں تھیں اور خواب تھے
صبح ہوئی تو شہر کے‘ شور میں یوں بِکھر گئے
جیسے وہ آدمی نہ تھے‘ نقش و نگارِ آب تھے
آنکھوں میں خون بھر گئے‘ رستوں میں ہی بِکھر گئے
آنے سے قبل مر گئے‘ ایسے بھی انقلاب تھے
ساتھ وہ ایک رات کا‘ چشم زدن کی بات تھا
پھر نہ وہ التفات تھا‘ پھر نہ وہ اجتناب تھے
ربط کی بات اور ہے‘ ضبط کی بات اور ہے
یہ جو فشارِ خاک ہے‘ اِس میں کبھی گلاب تھے
اَبر برس کے کھُل گئے‘ جی کے غبار دُھل گئے
آنکھ میںرُونما ہوئے‘ شہر جو زیرِ آب تھے
درد کی رہگزار میں‘ چلتے تو کِس خمار میں
چشم کہ بے نگاہ تھی‘ ہونٹ کہ بے خطاب تھے
Title: Re: اب کے سفر ہی اور تھا‘ اور ہی کچھ سراب تھے
Post by: Ajnabi on November 02, 2009, 10:02 AM
nice sharing leon thanks
Title: Re: اب کے سفر ہی اور تھا‘ اور ہی کچھ سراب تھے
Post by: impressible4u on November 21, 2009, 05:56 PM
very nice sharing good
Title: Re: اب کے سفر ہی اور تھا‘ اور ہی کچھ سراب تھے
Post by: Samera on November 27, 2009, 09:19 PM
nice sharing thanks for sharing
Title: Re: اب کے سفر ہی اور تھا‘ اور ہی کچھ سراب تھے
Post by: Allahwala on December 05, 2009, 12:49 PM
Very nice shiring  thumbsss
Title: Re: اب کے سفر ہی اور تھا‘ اور ہی کچھ سراب تھے
Post by: King on January 01, 2010, 06:39 AM
VERY NICE SHARING  zbardst  smlsml