صفر المظفر
اسلامي قمري سال کے دوسرے مہنيے کا نام صفر ہے، اس ماہ صفر کے بارے ميں بيان کرتے ہوئے حضرت بابا فريدالدين گنج شکر رحمتہ اللہ عليہ نے ارشاد فرمايا کہ کہ ايک برس ميں دس لاکھ اسي ہزار بلائيں نازل ہوتي ہيں اور ماہ صفر ميں نولاکھ بيس ہزار بلائيں نازل ہوتي ہيں، ايک حديث پاک ميں حضور نبي کريم نے ارشاد فرمايا کہ جو شخص مجھے صفر کا مہينہ گزرنے کي خبر دے گا ميں اسے جنت ميں جانے کي بشارت دوں گا۔
ايک روايت ميں آتا ہے کہ حضرت آدم عليہ اسلام نے جو گندم کھايا تھا وہ ماہ صفر ہي تھا اور اس لغزش کے نتيجہ ميں جنت سے نکال کر زمين پر بھيجے گئے، اسي ماہ ميں ہي قابيل نے ہابيل کو قتل کيا تھا۔
حضرت نوح عليہ السلام کي قوم اسي مہينہ ميں طوفان کے عذاب ميں گرفتار ہوکر ہلاک ہوئي تھي، اسي ماہ ميں حضرت ايوب عليہ السلام کيڑوں کي بلاميں مبتلا ہوئے، حضرت زکريا عليہ السلام پر بھي صفر کے ميہنہ ميں بلا نازل ہوئي۔
اسي صفر کے مہينہ ميں ہي حضرت يونس عليہ السلام مچلي کے پيٹ ميں داخل کئيے گئے، حضور نبي کريم جب بيمار ہوئےتو اسي ماہ ميں ہوئے، زيادہ تر انبيائ کرام اسلام جو بلائيں نازل ہوئيں وہ اسي ماہ صفر ميں ہوئيں۔