Author Topic: Ù¾Ú¾Ù„ وغیرہ چبانے پر دانتوں سے خون Ù†Ú©Ù„ آئے تو کیا وضو ٹوٹے گا؟  (Read 1555 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline Rohanibaba

  • Newbie
  • *
  • Posts: 140
  • Reputation: 4
  • Gender: Male
جسم سے خون نکل کر اپنے مقام سے بہہ جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے ،فتاوی عالمگیری ج 1ص11 میں ہے

المتوضی اذا عض شیئا فوجد فیہ اثرالدم اواستاک بسواک فوجد فیہ اثرالدم لا ینتقض مالم یعرف السیلان۔
ترجمہ : اگر باوضو شخص کوئی چیز چبائے اور اس میں خون کا اثر پائے یا مسواک کرے اور مسواک میں خون کا اثر دیکھے تو ایسی صورت میں اس وقت تک وضو نہیں ٹوٹتا جب تک کہ بہنے کی کیفیت پیدا نہ ہو۔
منہ میں چونکہ لعاب ہوتا ہے ، اس وجہ سے خون بہنے کی مقدار میں نہ ہونے کے باوجود لعاب کے امتزاج سے بہہ پڑتا ہے ۔ منہ سے نکلنے والا خون کب ناقض وضو سمجھا جائے اور کب نہیں ؟ اس سلسلہ میں فقہائے کرام نے قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک قاعدہ بیان فرمایا ہے : منہ کے اندر خون نکل آئے تو دیکھا جائے کہ خون اور لعاب میں غلبہ کس کا ہے ، اگر خون لعاب پر غالب ہے یا دونوں برابر ہیں تو وضو ٹوٹ جائے گا اور لعاب خون پر غالب ہے تو وضو نہیں ٹوٹے گا ۔
بدائع الصنائع ج1 ص421 میں ہے
ان کانت الغلبۃ للبزاق لا یکون حدثا لانہ ماخرج بقوۃ نفسہ وان کانت الغلبۃ للدم یکون حدثا لان الغالب اذا کان ہو البزاق لم یکن خارجا بقوۃ نفسہ فلم یکن سائلا وان کان الغالب ہو الدم کان خروجہ بقوۃ نفسہ فکان سائلا وان کانا سواء القیاس ان لایکون حدثا وفی الاستحسان یکون حدثا ۔
ترجمہ: لعاب کا غلبہ ہے تو وہ ناقض وضو نہیں، اس لئے کہ خون اپنی قوت سے نہیں نکلا اور بہنے والا بھی نہیں ، اگر خون کا غلبہ ہے تو وہ ناقض وضو ہے ، اس لئے کہ جب لعاب غالب تھا تو خون خود سے نہیں نکلا تھا اور بہنے والا نہیں تھا اور خون کا غلبہ ہو تو وہ اپنی قوت سے نکلا اور بہنے والا ہوا ، اگر خون اور لعاب دونوں برابر ہوں تو یہ بھی ناقض وضو ہے۔


Offline anjumkhan

  • Sr. Member
  • *
  • Posts: 1623
  • Reputation: 1664
  • Gender: Female
    • Email

Bhlay Cheen lo muj sy meri jawani.
Mager muj ko lota do Bajpan ka sawan.
Wo kaghaz ki kashti wo barish ka pani.