یا رسول اللہ ﷺ تیرے چاہنے والوںکی خیر
یا رسول اللہ ﷺ تیرے چاہنے والوں کی خیر
آفتوں کا رخ بدل دے اور ہواءیں ان سے پھیر
ہر گھڑی ہجرِ مدینہ مجھ کو رکھے بے قرار
کاش چین آءے نہ مجھ کو یادِ طیبہ کے بغیر
اُمتِ محبوب یا رب بنا دے خیر خواہ
دل میں میرے نفس کی خاطر کسی سے ہو نہ بَیر
فالتو باتوں کی عادت دور ہو جاءے حُضور!
ہو زَباں پہ میری اکثر آپ ہی کا ذکرِ خیر
نفس و شیطاں پر مجھے غَلَبہ عطا کر یا خدا
اُس علی کا واسِطہ دیتا ہوں جو ہے تیرا شیر
کاش دنیا بھر میں اونچا پرچم اسلام ہو
دُشمنانِ دیں مسلمانوں سے ہو مغلوب و زَیر
یا نبی میٹھے مدینے میں مجھے بلواءیے
ہو میسر با ادب پھر آپ کی گلیوں کی سَیر
جام ایسا اپنی الفت کا پلا دے ساقیا
نعت سن کر حالتِ عطار ہو رو رو کے غیر