Author Topic: شمالی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیاروں Ú©Û’ حملے‘ 14 افراد جاں بحق....امدادی کاررو  (Read 1160 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline Shani

  • Newbie
  • *
  • Posts: 130
  • Reputation: 0
پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک + بی بی سی ڈاٹ کام) شمالی وزیرستان میں حکام کے مطابق 2 گھنٹوں میں امریکی ڈرون کے 2 حملوں میں کم سے کم 14 افراد جاںبحق جب کہ پانچ زخمی ہو گئے ہیں۔ جاںبحق ہونے والے افراد میں زیادہ تعداد مقامی طالبان کی بتائی جاتی ہے۔ شمالی وزیرستان میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلا واقعہ بدھ کی شام شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ سے تقریباً 50 کلومیٹر دور مغرب کی جانب تحصیل دتہ خیل کے پہاڑی علاقہ مائیزر کے مقام پر اس وقت پیش آیا جب دو امریکی جاسوس طیاروں نے ایک مکان اور ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں 6 افراد جاںبحق جب کہ دو زخمی ہو گئے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ اس حملے کے بعد امدادی کارروائیوں کے لئے قریبی علاقے سے آنے والی مزید دو گاڑیوں پر امریکی جاسوس طیارے سے چار میزائل فائر کئے گئے جس میں آٹھ افراد کے جاںبحق ہونے کی اطلاع ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں دونوں گاڑیاں بھی مکمل طور پر تباہ ہو گئیں ہیں۔ جاںبحق ہونے والوں کی تاحال قومیت کے بارے کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں میں کوئی غیر ملکی شامل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مائیزر کا علاقہ افغان سرحد سے صرف پانچ کلو میٹر پاکستان کے اندر واقع ہے۔ جہاں مقامی طالبان کے چند ٹھکانے موجود تھے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں میں شدت پسندوں کے ایک ٹھکانے اور تین گاڑیوں پر یکے بعد دیگرے چھ میزائل داغے گئے جس کی وجہ سے ایک ٹھکانہ اور تین گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ جاںبحق ہونے والوں میں تین غیر ملکی بھی بتائے جاتے ہیں۔ مقامی لوگ یہ بتاتے ہیں کہ غیر ملکیوں میں کوئی اہم شخص شامل نہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حملے میں حافظ گل بہادر گروپ کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا اور اس علاقے میں عام آبادی بہت کم ہے اور دشوار گزار پہاڑی سلسلے ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران شمالی وزیرستان میں ڈرون حملوں میں تیزی آئی ہے اور ایک وقت میں کئی ڈرون طیارے فضا میں موجود ہوتے ہیں جس سے عام شہریوں میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا ہے اس سال شمالی و جنوبی وزیرستان میں ساٹھ سے زائد ڈرون حملے ہو چکے ہیں جس میں سو سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری بتائے جاتے ہیں۔