حضرت ابراہيم ،حضرت اسماعيل اور حضرت اسحاق (عليہم السلام)
حضرت ابراہيم عليہ السلام كا نام قرآن مجيد ميں 69/مقامات پر آياہے اور 65/سورتوں ميں ان كے متعلق گفتگو ہوئي ہے، قرآن كريم ميں اس عظيم پيغمبر كى بہت مدح و ثناء كى گئي ہے_ اور ان كے بلند صفات كا تذكرہ كيا گيا ہے،ان كى ذات ہر لحاظ سے راہنما اور اسوہ ہے اور وہ ايك كامل انسان كا نمونہ تھے_
خدا كے بارے ميں ان كى معرفت ،بت پرستوں كے بارے ميں ان كى منطق،جابر و قاہر بادشاہوں كے سامنے ان كا انتھك جہاد،حكم خدا كے سامنے ان كا ايثار اور قربانياں،طوفان،حوادث اور سخت آزمائشےوں ميں ان كى بے نظير استقامت،صبر اور حوصلے اور ان جيسے ديگر امور،ان ميں سے ہر ايك مفصل داستان ہے اور ان ميں مسلمانوں كے لئے نمونہ عمل ہے_قرآنى ارشادات كے مطابق وہ ايك نيك اور صالح،(1)فروتنى كرنے والے، ( 2) صديق، (3)بردبار،(4)اور ايفائے عہد كرنے والے تھے_(5)وہ ايك بے مثال شجاع اور بہادر تھے_ نيزبہت زيادہ سخى تھے _
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ ص آيت44
(2)سورہ نحل آيت122
(3)سورہ نحل آيت120
(4)سورہ مريم آيت41
(5)سورہ توبہ آيت 114
حضرت ابراہيم عليہ السلام كى پر تلاطم زندگي
حضرت ابراہيم عليہ السلام كى زندگى كے تين دور ميں بيان كيا جاسكتا ہے:
1_قبل بعثت كا دور_
2_دور نبوت اور بابل كے بت پرستوں سے مقابلہ_
3_بابل سے ہجرت اور مصر،فلسطين اور مكہ ميں سعى و كوشش كا دور_
حضرت ابراہيم عليہ السلام كى جائے پيدائشے
حضرت ابراہيم عليہ السلام بابل ميں پيدا ہوئے_ يہ دنيا كا حيرت انگيز اور عمدہ خطہ تھا_ اس پر ايك ظالم و جابر اور طاقتور حكومت مسلط تھي_(1)
حضرت ابراہيم عليہ السلام نے آنكھ كھولى تو بابل پر نمرود جيسا جابر و ظالم بادشاہ حكمراں تھا_وہ اپنے آپ كو بابل كا بڑاخدا سمجھتا تھا_البتہ بابل كے لوگوں كے لئے يہى ايك بت نہ تھا بلكہ اس كے ساتھ ساتھ ان كے يہاں مختلف مواد كے بنے ہوئے مختلف شكلوں كے كئي ايك بت تھے_ وہ ان كے سامنے جھكتے اور ان كے عبادت كياكرتے تھے_
حكومت وقت سادہ لوح افراد كو بيوقوف بنانے اور انہيں افيون زدہ ركھنے كے لئے بت پرستى كو ايك مو ثرذريعہ سمجھتى تھى لہذا وہ بت پرستى كى سخت حامى تھي_ وہ كسى بھى بت كى اہانت كو بہت بڑا نا قابل معافى جرم قرار ديتى تھي_
حضرت ابراہيم عليہ السلام كى ولادت كے سلسلے ميں مو رخين نے عجيب و غريب داستان نقل كى ہے جس كا خلاصہ يوںپيش كيا جاتا ہے:
--------------------------------------------------------------------------------
(1)بعض مو رخين نے لكھا ہے كہ آپ(ع) ملك بابل كے شہر آور ميں پيداہوئے
بابل كے نجوميوں نے پيشن گوئي كى تھى كہ ايك ايسا بچہ پيدا ہوگا جو نمرود كى غير متنازعہ طاقت سے مقابلہ كرے گا_ لہذا اس نے اپنى تمام قوتيں اس بات پر صرف كرديں كہ وہ بچہ پيدا نہ ہو_ اس كى كوشش تھى كہ ايسا بچہ پيدا ہو بھى جائے تو اسے قتل كرديا جائے_ ليكن اس كى كوئي تدبير كار گر نہ ہوئي اور يہ بچہ آخر كار پيدا ہوگيااس بچے كى جائے ولادت كے قريب ہى ايك غار تھى _ اس كى ماں اس كى حفاظت كے لئے اسے اس ميں لے گئي اور اسكى پرورش ہونے لگي_ يہاں تك كہ اس كى عمر كے تيرہ برس وہيں گزر گئے_
اب بچہ نمرود كے جاسوسوں سے بچ بچ كر نوجوانى ميں قدم ركھ چكا تھا_ اس نے ارادہ كيا كہ اس عالم تنہائي كو چھوڑديا جائے اور لوگوں تك وہ درس توحيد پہنچائے جو اس نے باطنى الہام اور فكرى مطالعے سے حاصل كيا تھا_
دور نبوت
حضرت ابراہيم عليہ السلام كب مبعوث نبوت ہوئے، اس سلسلے ميں ہمارے پاس كوئي واضح دليل موجود نہيں ہے_ البتہ سورہ مريم سے بس اتنا معلوم ہوتا ہے كہ جب آپ(ع) نے اپنے چچا آزر سے بحث چھيڑى تو آپ (ع) مقام نبوت پر فائز ہوچكے تھے_ آيت كہتى ہے كہ :""اس كتاب ميں ابراہيم عليہ السلام كو ياد كرو،وہ خداكا بہت ہى سچا نبى تھا_جب اس نے اپنے باپ(چچا) سے كہا:""اے بابا تو ايسى چيز كى كيوں عبادت كرتا ہے كہ جو نہ سنتى ہے اور نہ ہى ديكھتى ہے اور تيرى كوئي مشكل بھى حل نہيں كرتي""_(1)
ہم جانتے ہيں كہ يہ واقعہ بت پرستوں كے ساتھ شديد معركہ آرائي اور آپ كو آگ ميں ڈالے جانے سے پہلے كا ہے_ بعض م ورخين نے لكھا ہے كہ آگ ميں ڈالے جانے كے وقت حضرت ابراہيم عليہ السلام كى عمر 16/سال تھي_ ہم اس كے ساتھ يہ اضافہ كرتے ہيں كہ يہ عظيم كار رسالت آغاز نوجوانى ميں آپ(ع) كے دوش پر آن پڑا تھا_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ مريم آيت 41/42
حضرت ابراہيم عليہ السلام كے پانچ برجستہ صفات
قرآن مجيد ميں خدا كى شكر گزارى ايك كامل مصداق يعنى مكتب توحيد كے مجاہد اور علمبردار حضرت ابراہيم عليہ السلام كا ذكر ہے ان كا ذكر اس لحاظ سے بھى خصوصيت كاحامل ہے كہ مسلمان با لعموم اور عرب بالخصوص حضرت ابراہيم كو اپنا پہلاپيشوا اور مقتداء سمجھتے ہيں _
اس عظيم اور بہادر انسان كى صفات ميں سے يہاںصرف پانچ صفات كى طرف اشارہ كيا گيا ہے :
پہلے فرمايا گيا ہے :"" ابراہيم اپنى ذات ميں ايك امت تھے""_(1)
اس سلسلے ميں حضرت ابراہيم عليہ السلام كو""امت "" كيوں قرار ديا گيا ، مفسرين نے مختلف نكات بيان كيے ہيں ان ميں سے چارقابل ملاحظہ ہيں :
1_ابراہيم عليہ السلام انسانيت كے عظيم رہبر، مقتداء اور معلم تھے اسى بناء پر انھيں امت كہا گيا ہے كيونكہ "" امت "" اسم مفعول كے معنى ميں اسے كہا جاتاہے جس كى لوگ اقتداء كريں اور جس كى رہبرى لوگ قبول كريں _
2_ ابراہيم عليہ السلام ايسى شخصيت كے مالك تھے كہ اپنى ذات ميں ايك امت تھے _كيونكہ بعض اوقات كسى انسان كى شخصيت كا نور اتنى وسيع شعاعوں كا حامل ہوتا ہے كہ اس كى حيثيت ايك دويا بہت سے افراد سے زيادہ ہوجاتى ہے اور اس كى شخصيت ايك عظيم امت كے برابر ہوجاتى ہے _
ان دونوں معانى ميں ايك خاص روحانى تعلق ہے كيونكہ جو شخص كسى ملت كاسچا پيشوا ہوتا ہے وہ ان سب كے اعمال ميں شريك اور حصہ دار ہوتا ہے اور گويا وہ خود امت ہوتا ہے _
3_ وہ ماحول كہ جس ميں كوئي خدا پرست نہ تھا اور جس ميں سب لوگ شرك وبت پرستى كے جوہڑميں غوطہ زن تھے _اس ميں ابراہيم عليہ السلام تن تنہاموحد اور توحيد پرست تھے پس آپ تنہا ايك امت
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ نمل آيت120
تھے اور اس دور كے مشركين ايك الگ امت تھے _
4_ ابراہيم عليہ السلام ايك امت كے وجودكا سرچشمہ تھے اسى لئے آپ كو ""امت "" كہا گيا ہے _ اس ميں كوئي اشكال نہيں كہ يہ چھوٹا سالفظ اپنے دامن ميں يہ تمام وسيع معانى لئے ہوئے ہو _
جى ہاں، ابراہيم ايك امت تھے_
__وہ ايك عظيم پيشوا تھے _
__وہ ايك امت سازجوانمرد تھے _
__جس ماحول ميں كوئي توحيد كا دم بھر نے والا نہ تھا وہ توحيدكے عظيم علمبردار تھے_
2_ ان كى دوسرى صفت يہ تھى كہ"" وہ اللہ كے مطيع بندے تھے ""_(1)
3_ ""وہ ہميشہ اللہ كے سيدھے راستے اور طريق حق پر چلتے تھے""_(2)
4_"" وہ كبھى بھى مشركين ميں سے نہ تھے ""_(3)
ان كے فكر كے ہر پہلو ميں ، ان كے دل كے ہر گوشے ميں اور ان كى زندگى كے ہر طرف اللہ ہى كانور جلوہ گرتھا _
5_ان تمام خصوصيات كے علاوہ ""وہ ايسے جواں مرد تھے كہ اللہ كى سب نعمتوں پر شكر گزار تھے""_(4)
ان پانچ صفات كو بيان كرنے كے بعد ان كے اہم نتائج بيان كيے گئے ہيں :
1_"" اللہ نے ابراہيم كو نبوت اور دعوت كى تبلغ كے لئے منتخب كيا ""_(5)
2_"" اللہ نے انھيں راہ است كى ہدايت كي""_(6)
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ نمل آيت 120
(2)سورہ نمل آيت 120
(3)سورہ نمل آيت120
(4)سورہ نمل آيت 121
(5)سورہ نمل آيت 121
(6) سورہ آيت 121
اور انھيں ہر قسم كى لغزش اور انحراف سے بچايا _
ہم نے بارہا كہا ہے كہ خدائي ہدايت ہميشہ لياقت واہليت كى بنياد پر ہوتى ہے كہ جس كا مظاہرہ خود انسان كى طرف سے ہوتا ہے اس كى طرف سے كسى كو كوئي چيز استعداد اور كسى حساب كتاب كے بغيرنہيں دى جاتى حضرت ابراہيم كو بھى اسى بنياد پر يہ ہدايت نصيب ہوئي _
3_ ""ہم نے دنيا ميں انھيں ""حسنہ"" سے نوازا ""_ وسيع معنى كے اعتبار سے ""حسنہ "" ميں ہر قسم كى نيكى اور اچھائي كا مفہوم موجود ہے اس ميں مقام نبوت رسالت سے لے كر اچھى اولادوغيرہ تك كا مفہوم موجود ہے_
4_ اور آخرت ميں وہ صالحين ميں سے ہوں گے ""_(1)
5_ ان صفات كے ساتھ ساتھ اللہ نے حضرت ابراہيم عليہ السلام كو ايك ايساا متياز عطا فرمايا ہے كہ ان كا مكتب و مذہب صرف ان كے اہل زمانہ كے لئے نہ تھا بلكہ ہميشہ كے لئے تھا خاص طور پر اسلامى امت كے لئے بھى يہ ايك الہام بخش مكتب قرارپايا ہے _جيساكہ قرآن كہتا ہے :""پھر ہم نے تجھے وحى كى دين ابراہيم كى اتباع كركہ جو خالص توحيد كا دين ہے "" _(2)