صرف اللہ کے لیے محبت کرنے کا خاص اجر
حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کے بندوں میں کچھ ایسے خوش نصیب بھی ہیں جو نبی یا شہید تو نہیں، لیکن قیامت کے دن بہت سے انبیاء اور شہداء ان کے خاص مقام قرب کی وجہ سے ان پر رشک کریں گے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے عرض کیا! یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمیں بتلا دیجیے کہ وہ کون بندے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہ لوگ ہیں جنھوں نے بغیر کسی رشتہ اور قرابت کے اور بغیر کسی مالی لین دین کے روح خداوندی کی وجہ سے باہم محبت کی، پس قسم ہے اللہ کی، ان کے چہرے قیامت کے دن نورانی ہوں گے بلکہ سراسر نور ہوں گے اور وہ نور کے منبروں پر ہوں گے اور عام انسانوں کو جس وقت خوف وہراس ہوگا۔ اس وقت وہ بےخوف اور مطمئین ہوں گے وہ اس وقت بےغم ہوں گے اور اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی ”اَلاَاِن اولِیَاءَاللہ لاَخُوف عَلیھِم وَلاَھُم یَحزَنُون”۔ سن لو، اللہ کے دوستوں کو نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے”۔
(ابوداؤد)
فائدہ:۔
اس دنیا میں خونی رشتہ اور قرابت کی وجہ سے تعلق و محبت کا ہونا ایک ایسی عمومی اور فطری بات ہے جو انسانوں کے علاوہ عام جانوروں بلکہ درندوں میں بھی اللہ تعالٰی نے ڈال دی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کی مالی امداد کرتا ہے، اس کو ہدیے اور تحفے دیتا ہے تو اس میں بھی اس محسن کی محبت پیدا ہوجانا ایک فطری بات ہے جو کافروں، مشرکوں اور فاسقوں فاجروں میں بھی پائی جاتی ہے۔ لیکن کسی رشتہ اور قرابت کے بغیر اور کسی مالی لین دین اور کسی ہدیے اور تحفے کے بغیر محض اللہ تعالٰی کے دین کے تعلق سے کسی سے محبت کرنا ایک ایسی ایمانی صفت ہے جس کی اللہ کے یہاں بڑی قدروقیمت ہے اور اس کی وجہ سے وہ بندہ اللہ کا خاص محبوب و مقرب بن جاتا ہے اور اس وجہ سے روز قیامت اس پر اللہ تعالٰی کی ایسی نوازشیں ہوں گی کہ انبیاء اور شہداء بھی اس پر رشک فرمائیں گے۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ مرتبے اور درجے کے لحاظ سے انبیاء اور شہداء سے افضل ہوں، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کم درجے کی کسی آدمی کو کسی اچھی حالت میں دیکھ کر اس سے اونچے درجے والوں کو بھی اس پر رشک آنے لگتا ہے۔ گویا رشک سے مراد یہاں تحسین و قدردانی ہے۔
حدیث کے آخری حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی سورہ یونس کی آیت نمبر62 تلاوت فرمائی۔ جس میں اللہ تعالٰی اپنے ان مومن بندوں کی خوشخبری دیتا ہے جو کہ کسی بھی نفسانی اور دنیاوی غرض کے بغیر ایک دوسرے سے خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے محبت کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو یہاں اللہ تعالٰی کا دوست کہا گیا ہے اور ایسے لوگوں پر اللہ تعالٰی کا خاص الخاص انعام یہ ہوگا کہ ان کو قیامت کی ہولناکیوں کا اتنا خوف نہیں ہوگا۔ جس طرح دوسروں کو ہوگا نہ ہی کسی طرح کے غم میں مبتلا ہوں گے، اور یہ بالکل مطمئین اور اللہ تعالٰی کے خاص فضل و کرم سے شاداں و فرحاں ہوں گے اور اپنے ایمان و تقوٰی کی وجہ سے اللہ تعالٰی کی رحمت و فضل خاص کے امیدوار ہوں گے۔