حظرت سليمان نے اللہ تعالی سے درخواست کی-
اللہ تعالی ميں ايک سال تک آپ کی مخلوق کی دعوت کرنا چاہتا ہوں-
اللہ تعالی نے فرمايا-تم نہیں کر سکتے-
انہوں نے کہا-اچھا ایک مہينہ کر لیتا ہوں-
اللہ تعالی نے پھرکہا-تم نہیں کر سکتے-
انہوں نے کہا-اچھا ایک ہفتہ کرلیتا ہوں-
اللہ تعالی نے پھر کہا-تم نہیں کرسکتے-
انہوں نے کہا-اچھا ایک دن صرف ایک دن تو کر نے دے-
اللہ تعالی نے اجازت دےدی-انہوں نے جنات ہوںانسان،پرندوں کو حکم دیا کھانا پکاؤ-
جب کھانا لگ گیا تو انہوں نے اللہ تعالی سے فرمایا-
اپنی مخلوق کو بھیج دے'کھانا تیارہے-
اللہ تعالی نے پوچھا-پہلے زمین والوں کوبھیجوں یا پانی والوں کو-
انہوں نے کہا-پانی والوں کوپہلےبھیج دو-
تو ایک مچھلی باہر نکلی اور سارا دسترخوان برتنوں سمیت کھا گئ-
اور دو-
حضرت سلیمان حیرت سے انگلی منہ میں دبا کر کھڑے تھے کہنے لگے-
تو سب کا کھا گئ اور کہاں سے لاؤں-
وہ بولی-مہمان کو کوئی طعنے دیے جاتے ہیں-
سلیمان:آج تومیں بھوکی رہوں گی-میرا اللہ روزانہ مجھے ایسے تین لقمے دیتا ہے-سلیمان یہ تیرا کام نہیں تیرے رب کا ہی کام ہے-کہ وہ سب کو کھلا تا ہے-
یہ کھہ کر وہ سمندر میں چلی گئ
-