Author Topic: دہشت گردی اور خودکش حملے ناجائز ہیں‘ پارلیمنٹ Ú©ÛŒ بالادستی یقینی بنائی جائے : سپی  (Read 1352 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline Shani

  • Newbie
  • *
  • Posts: 130
  • Reputation: 0
لاہور (خصوصی رپورٹر) سپیکرز کانفرنس نے دہشت گردی اور خودکش حملوں کو ناجائز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے گا۔ تمام ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کریں‘ اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جمہوریت اور جمہوری اداروں کا دفاع ہر ممکن طور پر یقینی بنایا جائے گا۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر حل کروایا جائے۔ گذشتہ روز پنجاب اسمبلی کیفے ٹیریا میں 16ویں سپیکرز کانفرنس کے اختتام پر سپیکر قومی اسمبلی محترمہ فہمیدہ مرزا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپیکرز کانفرنس کے 14 نکاتی اعلان لاہور کا اعلان کیا۔ اس موقع پر میزبان پنجاب اسمبلی کے سپیکر رانا محمد اقبال خان‘ ڈپٹی سپیکر رانا مشہود احمد خان سمیت سپیکر سندھ اسمبلی نثار کھوڑو‘ سپیکر بلوچستان اسمبلی اسلم بھوٹانی‘ سپیکر سرحد اسمبلی کرامت خان‘ سپیکر آزاد کشمیر اسمبلی شاہ غلام قادر‘ ڈپٹی سپیکر مہرالنسائ‘ سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی وزیر احمد‘ ڈپٹی سپیکر جمیل احمد بھی موجود تھے۔ سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے مزید کہا کہ لاہور میں 1940ءمیں قرارداد پاکستان منظور کی گئی تھی اس قرارداد میں جس مشن پر چلنے کا عزم ظاہر کیا گیا تھا اسے پورا کرنے کیلئے ہمیں جمہوریت کی طرف سفر جاری رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اعلان لاہور میں اتفاق کیا گیا ہے کہ صوبوں کی انتظامی خود مختاری کو یقینی بنانا ہو گا۔ سپیکرز کانفرنس میں دہشت گردی کی جنگ میں جاںبحق ہونیوالے مسلح افواج‘ رینجرز اور پولیس کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ ”کانفرنس“ نے نصاب تعلیم میں تبدیلی کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی جمہوری جدوجہد کو نصاب تعلیم میں شامل کیا جائے تاکہ جمہوریت کی افادیت کو اجاگر کیا جا سکے جس سے جمہوری نظام جڑیں پکڑ سکے۔ سپیکرز کانفرنس نے مشترکہ اعلامیے ”اعلان لاہور“ میں کہا کہ 1940ءمیں مسلمانان برصغیر نے لاہور کے تاریخی شہر میں قرارداد پاکستان کے ذریعے جس عظیم مشن کا عزم کیا تھا اس کی تکمیل کے لئے ہمیں بھرپور جدوجہد کرتے ہوئے حقیقی‘ مسلسل اور مضبوط جمہوریت کی منزل کے حصول کے لئے سفر جاری رکھنا چاہئے۔ کانفرنس نے عزم ظاہر کیا کہ وفاق پاکستان کو مضبوط و استحکام کے لئے کسی بھی قسم کے ایثار اور قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ وفاق پاکستان کی مضبوطی کے لئے صوبوں کی انتظامی خودمختاری کو یقینی بنانا ہو گا۔ عوام کی امنگوں کا احترام کرتے ہوئے تمام اسمبلیوں اور سینٹ کے ممبران اور پارٹیوں نے پاکستان کی جمہوری تاریخ میں پہلی بار قومی معاملات پر مسلسل یکجہتی اور اتفاق رائے سے فیصلے کرنے کی جو روایت کی طرح ڈالی ہے اس کے ذریعے نہ صرف جمہوریت کا وقار اور عوام میں تاثر بہتر ہوا ہے بلکہ جمہوری اداروں کے بارے میں عوام کے اعتماد میں مزید اضافہ ہوا ہے‘ ہمیں ملکی ترقی و استحکام کے لئے اس روایت کو جاری رکھنا ہے اور عالمی برادری کو یہ پیغام دینا ہے کہ پاکستانی قوم متحد‘ انتہائی ذمہ دار اور بالغ النظر ہے۔ پارلیمنٹ کی بالادستی اور آئین و قانون کے احترام کو یقینی بنایا جائے۔ اس سلسلے میں تمام ادارے اپنی اپنی ذمہ داریاں اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر پوری کریں۔ قومی پارلیمنٹ اور تمام دیگر اسمبلیاں انتہائی بہتر انداز میں افہام و تفہیم اور اتفاق رائے سے قانون سازی کا کام سرانجام دے رہی ہیں‘ اس عظیم کارکردگی کی وجہ سے جمہوریت مضبوط ہوئی ہے اور آئین و قانون کا احترام اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا عملی مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے تاہم ضرورت ہے کہ تمام اسمبلیاں ایک دوسرے کے تجربے سے بھرپو فائدہ اٹھا کر اور کمیٹی سسٹم کو مزید مضبوط کر کے پارلیمنٹ کی حقیقی بالادستی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں۔ اعلان لاہور میں کہا گیا کہ دہشت گردی‘ قتل و غارت گری اور معصوم لوگوں پر خودکش حملے اسلامی‘ انسانی اور اخلاقی اعتبار سے قطعاً ناجائز ہیں۔ پاکستان کے تمام عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے دہشت گردی کا ڈٹ کا مقابلہ کیا۔ تمام سیاسی جماعتوں‘ سیاست دانوں اور سیاسی کارکنوں نے اس سلسلہ میں بھرپور قربانیاں دی ہیں چنانچہ محترمہ بےنظیر بھٹو شہید سمیت دہشت گردی کی وجہ سے شہید ہونے والے تمام شہدا کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔ دہشت گردی اور فرقہ واریت کی وجہ سے بہت زیادہ جانی و مالی نقصان ہو چکا ہے جس نے ہماری قومی زندگی کے تمام شعبوں کو متاثر کیا ہے۔ ہماری معیشت بری طرح مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری بری طرح متاثر ہوئی ہے حتیٰ کہ سکول جانے والے معصوم بچے بھی دہشت گردوں کی بربریت سے محفوظ نہ رہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کی سرپرستوں کو قصہ پارینہ بنا دیا جائے لہٰذا دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور تدارک کے لئے ہمیں سیسہ پلائی دیوار بن کر آگے بڑھنا ہو گا۔ پاکستان کے استحکام اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مسلح افواج‘ رینجرز اور پولیس کی عظیم قربانیاں قابل ستائش ہیں تمام اداروں کے شہدا کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا‘ ہم ان تمام شہدا کو سلام پیش کرتے ہیں۔ پاکستانی خواتین باصلاحیت اور پرعزم ہیں‘ زندگی کے مختلف شعبوں خصوصاً سیاست میں پاکستانی خواتین نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے‘ ہمیں وطن عزیز کی ترقی اور خوشحالی کیلئے خواتین کی بھرپور شرکت کو یقینی بنانے کےلئے ہر ممکن سعی کرنا ہو گی۔ قومی پارلیمنٹ اس سلسلے میں پہلے ہی ”ویمنز پارلیمنٹری کارکس“ بنا چکی ہے اس سلسلے کو صوبائی اسمبلیوں سمیت گلگت و بلتستان اسمبلی اور آزاد کشمیر اسمبلی تک بڑھانا ہو گا۔ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اقلیتوں کا کردار مسلمہ ہے لہٰذا اسلام کی حقیقی روح اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 20‘ 22 اور 27 کے تحت انہیں حاصل تمام حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔ بچے کسی بھی قوم کا اثاثہ اور مستقبل کے معمار ہوتے ہیں‘ اسلام نے بھی بچوں کی بہتر پرورش اور نگہداشت کی تعلیم دی ہے چنانچہ بچوں کو ہر قسم کی ناانصافی‘ ظلم‘ تشدد‘ جبر اور جبری مشقت سے مکمل تحفظ دینے کیلئے قومی پارلیمنٹ اور تمام اسمبلیوں کو بچوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے بہتر سے بہتر قانون سازی کر کے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے۔ برصغیر پاک و ہند میں اسلام اولیاءاللہ‘ بزرگان دین اور صوفیائے کرام کے ذریعے پھیلا ہے اور انہی بزرگوں کی تعلیمات انسان دوستی‘ بھائی چارے‘ رواداری اور امن کی ضمانت دیتی ہیں لہٰذا ان تعلیمات کو تعلیمی نصابوں میں مناسب ترمیم کے ذریعے آئندہ نسلوں تک پہنچانا ضروری ہے۔ نصابِ تعلیم ہی کے باب میں ایسی ترامیم بھی کی جائیں جن کے تحت پاکستان میں پارلیمانی جمہوری نظام کے لئے کی جانے والی جدوجہد‘ جمہوریت کی افادیت اور اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے اور یوں نئی نسل کے ذہنوں میں جمہوری اقدار اور افکار مضبوط جڑیں پکڑ سکیں۔ اعلان لاہور کے مطابق جنوبی ایشیا میں امن کے دائمی قیام‘ علاقے میں تنات کم کرنے اور مظلوم و مقہور کشمیری عوام کو جبرو تشدد سے نجات دلانے کیلئے مسئلہ کشمیر کا پر امن حل بہت ضروری ہے جو کشمیری عوام کے حق خودارادیت میں مضمر ہے۔ عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ یو این او کی قراردادوں کے مطابق خطے میں قیام امن کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔ خطے میں پائیدار قیام امن اور دہشت گردی‘ بھوک افلاس اور جہالت کے خاتمے کے لئے پاکستان کے تمام جمہوری ادارے پڑوسی ممالک کی پارلیمنٹوں سے راوبط کو مزید مضبوط بنائیں گے اور اس سلسلے میں ”پارلیمانی سفارتکاری“ کے عمل کو آگے لے جایا جائے گا۔ آخر میں ایک بار پھر قرار دیا گیا کہ وطن عزیز کی بقا‘ اتحاد اور سلامتی کیلئے جمہوریت اور پارلیمانی جمہوری اداروں کا ہر ممکن دفاع اور تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔